<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>متضاد بیانیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280834/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد میں مقیم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے نمائندے نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کے زیرِ اہتمام ایک پالیسی مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف میکرو اکنامک استحکام بلکہ طویل مدتی معاشی لچک کے لیے مسلسل اور قابلِ اعتبار اصلاحاتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا یہ بیان وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد کے بارہا کیے جانے والے دعووں کے برعکس ہے، جو اس لیٹر آف انٹینٹ  پر دستخط کرنے والے دو اہم عہدیدار ہیں جس کی بنیاد پر آئی ایم ایف بورڈ اگلی قسط کے اجراء کی منظوری دیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر کے پہلے ہفتے میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ 3 سال کے وقفے کے بعد معروف ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے نتیجے میں معاشی استحکام حاصل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ایجنسیاں اب نہ صرف ہماری موجودہ صورتحال بلکہ ہمارے مثبت آؤٹ لک پر بھی متفق ہیں۔اسی پرامید پیشگوئی کی تائید گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بھی کی، جنہوں نے بارہا یہ دعویٰ کیا ہے کہ استحکام کے اقدامات کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کی بدولت افراطِ زر (مہنگائی) میں کمی آئی ہے اور بیرونی کھاتوں کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔ خود وزیراعظم نے بھی عوامی سطح پر یہ دعویٰ کیا کہ معیشت اب مشکل وقت سے باہر نکل آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو باتیں اہم ہیں: اول، آئی ایم ایف کی اکتوبر 2024 کی رپورٹ کے مطابق، حکومتی مالیاتی اعدادوشمار  میں نمایاں خامیاں موجود ہیں۔ اس کی وجہ سے ایک تکنیکی امدادی پروگرام شروع کیا گیا جس کا مقصد ان شعبوں کے ڈیٹا میں موجود مسائل کو حل کرنا ہے جو جی ڈی پی کا تقریباً ایک تہائی بنتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ ان مالیاتی اعداد و شمار کی باریک بینی اور ان کے &lt;strong&gt;قابلِ بھروسہ&lt;/strong&gt; ہونے میں مسائل پائے جاتے ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ بزنس ریکارڈر کی حالیہ تفصیلی سروے میں یہ سامنے آیا کہ بڑے ذیلی شعبے بشمول ٹیکسٹائل، سیمنٹ اور اسٹیل نے حکومت کے دعوے کو چیلنج کیا کہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ  کی سالانہ نمو جولائی تا اکتوبر 2025 کے دوران مثبت 5.02 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے مسلسل اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ 2025 میں کی گئی کریڈٹ ریٹنگ کی اپ گریڈ کے باوجود ملک کو اب بھی انتہائی ہائیلی اسپیکیولیٹو زمرے میں رکھا گیا جس میں محدود حفاظتی گنجائش موجود تھی (جسے اس طرح بیان کیا گیا کہ مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت تو موجود ہے، مگر کاروباری اور اقتصادی ماحول میں کسی خرابی کی صورت میں ادائیگی کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ماضی کے برعکس، اکتوبر 2024 میں ریٹنگ میں بہتری اور جاری قرضے کی منظوری کے درمیان ایک بڑا وقفہ دیکھا گیا۔ اس کی بلاشبہ وجہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ پاکستانی حکام موروثی سیاسی چیلنجز کی وجہ سے جاری پروگرام کو درمیان میں چھوڑ دیتے ہیں، یا اگر پروگرام مکمل ہو بھی جائے، تو اس کے ختم ہوتے ہی کی گئی اصلاحات کو واپس پلٹ  دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابل اعتماد اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ مخصوص کمیٹیاں قائم کریں جو آئی ایم ایف کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کریں اور فنڈ کو قائل کرنے کی کوشش کریں کہ وہ کچھ انتہائی سخت ابتدائی شرائط کو مرحلہ وار ختم کرے، جو عمومی ترقی، خاص طور پر صنعتی اور زرعی پیداوار کی ترقی میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایگزیکٹو حکومت مکمل طور پر اس پالیسی سختی سے آگاہ ہے جو فنڈ کی جانب سے عائد کی گئی ہے، جو ترقی مخالف ہے اور اس میں سختی سے معیشتی سکڑاؤ پیدا کرنے والی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیاں شامل ہیں، ساتھ ہی تمام یوٹیلٹیز میں مکمل لاگت کی وصولی کو یقینی بنانے اور صنعت و زرعی شعبے پر دی جانے والی تمام سبسڈیز ختم کرنے کا مقصد بھی شامل ہے، کیونکہ پچھلی سبسڈیز نے ان دونوں شعبوں کو غیر مسابقتی اور ابتدائی مرحلے میں رکھا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے اس بات کا امکان کم ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کے لیے اپنے موجودہ پالیسی فریم ورک سے پیچھے ہٹے گا، البتہ یہ عین ممکن ہے کہ معاشی ٹیم کے سربراہان فنڈ کے ساتھ مذاکرات میں اپنی پوزیشن اس وقت بہتر بنا سکیں جب وہ جاری اخراجات میں نمایاں کمی لائیں۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ بااثر شعبے اپنی بجٹ شدہ مراعات میں سے رضاکارانہ طور پر کم از کم 10 فیصد دستبردار ہو جائیں، پنشن اصلاحات کو دوبارہ کسی مستقبل کی تاریخ پر ٹالنے کے بجائے فوری طور پر نافذ کیا جائے، اور خریداری  کے قوانین کو سخت کیا جائے تاکہ بدعنوانی کو کم سے کم کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف کی 20 نومبر کو جاری کردہ ’کرپشن اینڈ گورننس ڈائیگنوسٹک‘ رپورٹ کے مطابق یہ شعبہ بدعنوانی کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور ان قوانین میں بہتری لانا قرضے کی دوسری قسط کے اجراء کے لیے ایک لازمی پیشگی شرط ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں امید کی جاتی ہے کہ حکومت ایسا قابلِ بھروسہ ڈیٹا (اعداد و شمار) شیئر کرے گی جو عام عوام کے معیارِ زندگی سے مطابقت رکھتا ہو۔ ساتھ ہی ان ماضی کی ناقص پالیسیوں کا اعتراف کرنا بھی ضروری ہے جو خطے میں بجلی اور گیس کے موجودہ بلند ترین نرخوں کی ذمہ دار ہیں (مثال کے طور پر غیر ملکی نجی بجلی گھروں یعنی آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے انتہائی ناقص معاہدے اور قطر کے ساتھ کیا گیا گیس کا معاہدہ)۔ اس کے علاوہ، حکومت کو سالانہ ترقیاتی اخراجات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ بدقسمتی سے جب بھی خسارہ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھتا ہے، جیسا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ہوا تو سب سے پہلے ان ترقیاتی فنڈز ہی میں کٹوتی کر دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد میں مقیم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے نمائندے نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کے زیرِ اہتمام ایک پالیسی مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف میکرو اکنامک استحکام بلکہ طویل مدتی معاشی لچک کے لیے مسلسل اور قابلِ اعتبار اصلاحاتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا یہ بیان وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد کے بارہا کیے جانے والے دعووں کے برعکس ہے، جو اس لیٹر آف انٹینٹ  پر دستخط کرنے والے دو اہم عہدیدار ہیں جس کی بنیاد پر آئی ایم ایف بورڈ اگلی قسط کے اجراء کی منظوری دیتا ہے۔</strong></p>
<p>نومبر کے پہلے ہفتے میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ 3 سال کے وقفے کے بعد معروف ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے نتیجے میں معاشی استحکام حاصل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ایجنسیاں اب نہ صرف ہماری موجودہ صورتحال بلکہ ہمارے مثبت آؤٹ لک پر بھی متفق ہیں۔اسی پرامید پیشگوئی کی تائید گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بھی کی، جنہوں نے بارہا یہ دعویٰ کیا ہے کہ استحکام کے اقدامات کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کی بدولت افراطِ زر (مہنگائی) میں کمی آئی ہے اور بیرونی کھاتوں کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔ خود وزیراعظم نے بھی عوامی سطح پر یہ دعویٰ کیا کہ معیشت اب مشکل وقت سے باہر نکل آئی ہے۔</p>
<p>دو باتیں اہم ہیں: اول، آئی ایم ایف کی اکتوبر 2024 کی رپورٹ کے مطابق، حکومتی مالیاتی اعدادوشمار  میں نمایاں خامیاں موجود ہیں۔ اس کی وجہ سے ایک تکنیکی امدادی پروگرام شروع کیا گیا جس کا مقصد ان شعبوں کے ڈیٹا میں موجود مسائل کو حل کرنا ہے جو جی ڈی پی کا تقریباً ایک تہائی بنتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ ان مالیاتی اعداد و شمار کی باریک بینی اور ان کے <strong>قابلِ بھروسہ</strong> ہونے میں مسائل پائے جاتے ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ بزنس ریکارڈر کی حالیہ تفصیلی سروے میں یہ سامنے آیا کہ بڑے ذیلی شعبے بشمول ٹیکسٹائل، سیمنٹ اور اسٹیل نے حکومت کے دعوے کو چیلنج کیا کہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ  کی سالانہ نمو جولائی تا اکتوبر 2025 کے دوران مثبت 5.02 فیصد رہی۔</p>
<p>ہم نے مسلسل اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ 2025 میں کی گئی کریڈٹ ریٹنگ کی اپ گریڈ کے باوجود ملک کو اب بھی انتہائی ہائیلی اسپیکیولیٹو زمرے میں رکھا گیا جس میں محدود حفاظتی گنجائش موجود تھی (جسے اس طرح بیان کیا گیا کہ مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت تو موجود ہے، مگر کاروباری اور اقتصادی ماحول میں کسی خرابی کی صورت میں ادائیگی کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے)۔</p>
<p>مزید برآں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ماضی کے برعکس، اکتوبر 2024 میں ریٹنگ میں بہتری اور جاری قرضے کی منظوری کے درمیان ایک بڑا وقفہ دیکھا گیا۔ اس کی بلاشبہ وجہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ پاکستانی حکام موروثی سیاسی چیلنجز کی وجہ سے جاری پروگرام کو درمیان میں چھوڑ دیتے ہیں، یا اگر پروگرام مکمل ہو بھی جائے، تو اس کے ختم ہوتے ہی کی گئی اصلاحات کو واپس پلٹ  دیتے ہیں۔</p>
<p>قابل اعتماد اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ مخصوص کمیٹیاں قائم کریں جو آئی ایم ایف کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کریں اور فنڈ کو قائل کرنے کی کوشش کریں کہ وہ کچھ انتہائی سخت ابتدائی شرائط کو مرحلہ وار ختم کرے، جو عمومی ترقی، خاص طور پر صنعتی اور زرعی پیداوار کی ترقی میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایگزیکٹو حکومت مکمل طور پر اس پالیسی سختی سے آگاہ ہے جو فنڈ کی جانب سے عائد کی گئی ہے، جو ترقی مخالف ہے اور اس میں سختی سے معیشتی سکڑاؤ پیدا کرنے والی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیاں شامل ہیں، ساتھ ہی تمام یوٹیلٹیز میں مکمل لاگت کی وصولی کو یقینی بنانے اور صنعت و زرعی شعبے پر دی جانے والی تمام سبسڈیز ختم کرنے کا مقصد بھی شامل ہے، کیونکہ پچھلی سبسڈیز نے ان دونوں شعبوں کو غیر مسابقتی اور ابتدائی مرحلے میں رکھا ہوا تھا۔</p>
<p>اس لیے اس بات کا امکان کم ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کے لیے اپنے موجودہ پالیسی فریم ورک سے پیچھے ہٹے گا، البتہ یہ عین ممکن ہے کہ معاشی ٹیم کے سربراہان فنڈ کے ساتھ مذاکرات میں اپنی پوزیشن اس وقت بہتر بنا سکیں جب وہ جاری اخراجات میں نمایاں کمی لائیں۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ بااثر شعبے اپنی بجٹ شدہ مراعات میں سے رضاکارانہ طور پر کم از کم 10 فیصد دستبردار ہو جائیں، پنشن اصلاحات کو دوبارہ کسی مستقبل کی تاریخ پر ٹالنے کے بجائے فوری طور پر نافذ کیا جائے، اور خریداری  کے قوانین کو سخت کیا جائے تاکہ بدعنوانی کو کم سے کم کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف کی 20 نومبر کو جاری کردہ ’کرپشن اینڈ گورننس ڈائیگنوسٹک‘ رپورٹ کے مطابق یہ شعبہ بدعنوانی کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور ان قوانین میں بہتری لانا قرضے کی دوسری قسط کے اجراء کے لیے ایک لازمی پیشگی شرط ہے۔“</p>
<p>آخر میں امید کی جاتی ہے کہ حکومت ایسا قابلِ بھروسہ ڈیٹا (اعداد و شمار) شیئر کرے گی جو عام عوام کے معیارِ زندگی سے مطابقت رکھتا ہو۔ ساتھ ہی ان ماضی کی ناقص پالیسیوں کا اعتراف کرنا بھی ضروری ہے جو خطے میں بجلی اور گیس کے موجودہ بلند ترین نرخوں کی ذمہ دار ہیں (مثال کے طور پر غیر ملکی نجی بجلی گھروں یعنی آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے انتہائی ناقص معاہدے اور قطر کے ساتھ کیا گیا گیس کا معاہدہ)۔ اس کے علاوہ، حکومت کو سالانہ ترقیاتی اخراجات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ بدقسمتی سے جب بھی خسارہ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھتا ہے، جیسا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ہوا تو سب سے پہلے ان ترقیاتی فنڈز ہی میں کٹوتی کر دی جاتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280834</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 13:45:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/23130859897d214.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/23130859897d214.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
