<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عارف حبیب کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص 135 ارب میں خرید لیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280827/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) میں 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں فروخت کرنے کا عمل مکمل کرلیا، یوں خسارے میں چلنے والی اس ایئرلائن کی نجکاری کی برسوں سے رکی کوششوں کا خاتمہ ہو گیا۔ پی آئی اے میں انتظامی کنٹرول رکھنے والا یہ حصہ عارف حبیب کنسورشیم نے حاصل کیا۔ کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی جمع کرائی جو کہ حکومت کی مقرر کردہ ریفرنس قیمت سے 35 فیصد زیادہ ہے اور ساتھ ہی اگلے پانچ سالوں کے دوران مزید 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنے کا عہد بھی کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے اوپن بولی کا انعقاد کیا۔ وزیرِاعظم کے پرائیویٹائزیشن کے مشیر محمد علی نے بولی کے عمل کی صدارت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی سیشن میں پہلے سے اہل قرار دیے گئے تینوں بولی دہندگان نے اپنی مہر بند بولیاں نجکاری کمیشن کو جمع کرائیں۔ اس کے بعد نجکاری کمیشن کے بورڈ اور نجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی نے 100 ارب روپے کی ریفرنس قیمت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان بولیوں کی جانچ پڑتال کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کی نجکاری کے دوسرے مرحلے میں عارف حبیب گروپ کی سربراہی میں بننے والے کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی رقم کے ساتھ یہ بولی جیت لی، جبکہ لکی سیمنٹ گروپ نے اپنی پیشکش بڑھا کر 134 ارب روپے کر دی تھی۔ اس مرحلے کے لیے بنیادی قیمت  115 ارب روپے مقرر کی گئی تھی جو کہ پہلے مرحلے کی سب سے زیادہ بولی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کے پہلے مرحلے میں عارف حبیب گروپ کی قیادت میں بننے والے کنسورشیم نے 115 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی جمع کرائی جس کے بعد لکی سیمنٹ لمیٹڈ کی سربراہی میں کنسورشیم نے 101.5 ارب روپے کی بولی دی۔ نجی ایئر لائن ایئر بلیو نے 26.5 ارب روپے کی بولی پیش کی۔ فوجی فاؤنڈیشن پی آئی اے  کو حاصل کرنے کے لیے بولی کے عمل سے دستبردار ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں اس دوڑ میں صرف تین بولی دہندگان باقی رہ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پرمحمد علی نے کہا کہ پی آئی اے کے حصص کی فروخت حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی یہ بولی غیر ملکی سرمایہ کاری اور نجکاری کے لیے نئی راہیں کھولے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 51 سے 100 فیصد حصص کی فروخت کا فیصلہ اپریل میں کیا گیا تھا، جسے بعد میں تبدیل کر کے 75 فیصد حصص کی فروخت مقرر کی گئی، جس کے ساتھ 90 دن کے اندر مزید 25 فیصد حصص خریدنے کا حق دینے کا اختیار بھی شامل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کل فنڈز کا 92.5 فیصد پی آئی سے پر خرچ کیا جائے گا جبکہ باقی 7.5 فیصد آمدنی حکومت کو حاصل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بولیاں کھولنے کا عمل ابتدا میں سہ پہر 3 بج کر 30 منٹ پر شیڈول تھا، تاہم تاخیر کے باعث یہ عمل بالآخر 4 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ دن کے آغاز میں تین کنسورشیمز نے قومی ایئرلائن کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنی سیل بند بولیاں جمع کرائیں۔ سب سے پہلے لکی کنسورشیم کے مجاز نمائندے نے بولی جمع کرائی، جس کے بعد ایئر بلیو،عارف حبیب لمیٹڈ کنسورشیم کے نمائندوں نے اپنی بولیاں پیش کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن نے منگل کو کہا کہ پی آئی اے کی آج کی بولی شفافیت، کارکردگی اور ذمہ داری کے اصولوں پر مبنی ہے، جو منصفانہ عمل، جوابدہی اور عوامی اعتماد کو فروغ دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد علی نے ویڈیو پیغام میں بتایا تھا کہ موصول ہونے والی بولیاں میڈیا کی موجودگی میں کھولی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایک سے زائد بولیاں ریفرنس قیمت سے زیادہ ہوئیں تو اوپن آکشن کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PrivComPakistan/status/2003375858615275591?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003375858615275591%7Ctwgr%5Eb1bc1329b0c65d384b99a6c34fc78989ea62d271%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40398840'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PrivComPakistan/status/2003375858615275591?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003375858615275591%7Ctwgr%5Eb1bc1329b0c65d384b99a6c34fc78989ea62d271%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40398840"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بولی کے عمل نے ملکی سطح پر اور کاروباری حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی۔ بولی سے قبل معروف صنعت کار ڈاکٹر گوہر اعجاز نے سوشل میڈیا پر کہا کہ جو بھی  کامیاب ہو، اسے یہ یقینی بنانا چاہیے کہ پاکستان جیتے اور پی آئی اے کو اس کی سابقہ شان واپس دلائے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ 20 برسوں میں پی آئی اے کو 800 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Gohar_Ejaz1/status/2003331649862513106?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003331649862513106%7Ctwgr%5Eb1bc1329b0c65d384b99a6c34fc78989ea62d271%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40398840'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Gohar_Ejaz1/status/2003331649862513106?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003331649862513106%7Ctwgr%5Eb1bc1329b0c65d384b99a6c34fc78989ea62d271%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40398840"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر کے ڈائریکٹر ریسرچ علی خضر نے کہا کہ حکومت کے لیے اصل چیلنج پی آئی اے کی ریزرو قیمت ہے، 100 ارب روپے سے کم قیمت سیاسی طور پر مشکل جبکہ 100 ارب روپے سے زیادہ قیمت تجارتی طور پر مشکل فیصلہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AliKhizar/status/2003365880475124018?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003365880475124018%7Ctwgr%5Eb1bc1329b0c65d384b99a6c34fc78989ea62d271%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40398840'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AliKhizar/status/2003365880475124018?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003365880475124018%7Ctwgr%5Eb1bc1329b0c65d384b99a6c34fc78989ea62d271%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40398840"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بولی کے عمل میں شامل کنسورشیمز میں ایک کنسورشیم لکی سیمنٹ لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ اور کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ پر مشتمل تھا۔ دوسرا کنسورشیم میٹرو وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ تھا جس میں عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ اور سٹی اسکولز پرائیویٹ لمیٹڈ شامل تھے۔ تیسرا کنسورشیم لیک سٹی ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ اور ایئر بلیو پرائیویٹ لمیٹڈ پر مشتمل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی فاؤنڈیشن نے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی کے عمل سے دستبرداری اختیار کرلی تھی جس کے بعد بولی دہندگان کی تعداد تین رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن کے مطابق بولی کے عمل میں 75 فیصد حصص پیش کیے گئے ہیں جن میں سے 92.5 فیصد رقم کمپنی کو جبکہ 7.5 فیصد حکومت کو ملے گی۔ موجودہ ڈھانچے کے تحت 92.5 فیصد آمدن دوبارہ کمپنی میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت بقیہ 25 فیصد حصص اپنے پاس رکھے گی، تاہم کامیاب بولی دہندہ بعد میں ان حصص کو خریدنے کا اختیار رکھے گا۔ کمیشن کے مطابق پی آئی اے کے بزنس پلان کے تحت 18 طیاروں پر مشتمل بیڑے میں آئندہ تین سے چار برسوں میں دگنا اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے اور حکومت پاکستان تمام قواعد و ضوابط کے مطابق شفاف، کھلے اور قابلِ اعتماد نجکاری عمل کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ سال قومی ایئرلائن کی فروخت کی حکومتی کوشش کمزور سرمایہ کار دلچسپی اور حل طلب مالی مسائل کے باعث ناکام ہو گئی تھی۔ اس وقت بلیو ورلڈ سٹی کنسورشیم واحد بولی دہندہ تھا، جس نے نجکاری کمیشن کی 85.03 ارب روپے کی کم از کم توقع پوری کرنے سے انکار کرتے ہوئے پی آئی اے کے 60 فیصد حصص کے لیے اپنی 10 ارب روپے کی پیشکش برقرار رکھی، جس کے نتیجے میں بولی کا عمل ختم ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے اپریل میں نئے اظہارِ دلچسپی کے اعلان کے ساتھ پی آئی اے کی فروخت کا عمل دوبارہ شروع کیا، جس کا مقصد قومی ایئرلائن میں اپنا حصہ فروخت کرنا ہے۔ ابتدا میں اظہارِ دلچسپی جمع کرانے کی آخری تاریخ 3 جون مقرر کی گئی تھی، جسے بعد ازاں 19 جون تک بڑھا دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت قرضوں میں ڈوبی قومی ایئرلائن کی فروخت کے ذریعے فنڈز حاصل کرنے اور نقصان اٹھانے والے سرکاری اداروں میں اصلاحات کرنا چاہتی ہے، جیسا کہ سات ارب ڈالر کے عالمی مالیاتی فنڈ پروگرام کے تحت طے کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) میں 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں فروخت کرنے کا عمل مکمل کرلیا، یوں خسارے میں چلنے والی اس ایئرلائن کی نجکاری کی برسوں سے رکی کوششوں کا خاتمہ ہو گیا۔ پی آئی اے میں انتظامی کنٹرول رکھنے والا یہ حصہ عارف حبیب کنسورشیم نے حاصل کیا۔ کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی جمع کرائی جو کہ حکومت کی مقرر کردہ ریفرنس قیمت سے 35 فیصد زیادہ ہے اور ساتھ ہی اگلے پانچ سالوں کے دوران مزید 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنے کا عہد بھی کیا ہے۔</strong></p>
<p>نجکاری کمیشن نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے اوپن بولی کا انعقاد کیا۔ وزیرِاعظم کے پرائیویٹائزیشن کے مشیر محمد علی نے بولی کے عمل کی صدارت کی۔</p>
<p>ابتدائی سیشن میں پہلے سے اہل قرار دیے گئے تینوں بولی دہندگان نے اپنی مہر بند بولیاں نجکاری کمیشن کو جمع کرائیں۔ اس کے بعد نجکاری کمیشن کے بورڈ اور نجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی نے 100 ارب روپے کی ریفرنس قیمت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان بولیوں کی جانچ پڑتال کی۔</p>
<p>پی آئی اے کی نجکاری کے دوسرے مرحلے میں عارف حبیب گروپ کی سربراہی میں بننے والے کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی رقم کے ساتھ یہ بولی جیت لی، جبکہ لکی سیمنٹ گروپ نے اپنی پیشکش بڑھا کر 134 ارب روپے کر دی تھی۔ اس مرحلے کے لیے بنیادی قیمت  115 ارب روپے مقرر کی گئی تھی جو کہ پہلے مرحلے کی سب سے زیادہ بولی تھی۔</p>
<p>نجکاری کے پہلے مرحلے میں عارف حبیب گروپ کی قیادت میں بننے والے کنسورشیم نے 115 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی جمع کرائی جس کے بعد لکی سیمنٹ لمیٹڈ کی سربراہی میں کنسورشیم نے 101.5 ارب روپے کی بولی دی۔ نجی ایئر لائن ایئر بلیو نے 26.5 ارب روپے کی بولی پیش کی۔ فوجی فاؤنڈیشن پی آئی اے  کو حاصل کرنے کے لیے بولی کے عمل سے دستبردار ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں اس دوڑ میں صرف تین بولی دہندگان باقی رہ گئے تھے۔</p>
<p>اس موقع پرمحمد علی نے کہا کہ پی آئی اے کے حصص کی فروخت حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی یہ بولی غیر ملکی سرمایہ کاری اور نجکاری کے لیے نئی راہیں کھولے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 51 سے 100 فیصد حصص کی فروخت کا فیصلہ اپریل میں کیا گیا تھا، جسے بعد میں تبدیل کر کے 75 فیصد حصص کی فروخت مقرر کی گئی، جس کے ساتھ 90 دن کے اندر مزید 25 فیصد حصص خریدنے کا حق دینے کا اختیار بھی شامل کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کل فنڈز کا 92.5 فیصد پی آئی سے پر خرچ کیا جائے گا جبکہ باقی 7.5 فیصد آمدنی حکومت کو حاصل ہوگی۔</p>
<p>بولیاں کھولنے کا عمل ابتدا میں سہ پہر 3 بج کر 30 منٹ پر شیڈول تھا، تاہم تاخیر کے باعث یہ عمل بالآخر 4 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوا۔</p>
<p>یاد رہے کہ دن کے آغاز میں تین کنسورشیمز نے قومی ایئرلائن کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنی سیل بند بولیاں جمع کرائیں۔ سب سے پہلے لکی کنسورشیم کے مجاز نمائندے نے بولی جمع کرائی، جس کے بعد ایئر بلیو،عارف حبیب لمیٹڈ کنسورشیم کے نمائندوں نے اپنی بولیاں پیش کیں۔</p>
<p>نجکاری کمیشن نے منگل کو کہا کہ پی آئی اے کی آج کی بولی شفافیت، کارکردگی اور ذمہ داری کے اصولوں پر مبنی ہے، جو منصفانہ عمل، جوابدہی اور عوامی اعتماد کو فروغ دیتی ہے۔</p>
<p>نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد علی نے ویڈیو پیغام میں بتایا تھا کہ موصول ہونے والی بولیاں میڈیا کی موجودگی میں کھولی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایک سے زائد بولیاں ریفرنس قیمت سے زیادہ ہوئیں تو اوپن آکشن کیا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PrivComPakistan/status/2003375858615275591?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003375858615275591%7Ctwgr%5Eb1bc1329b0c65d384b99a6c34fc78989ea62d271%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40398840'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PrivComPakistan/status/2003375858615275591?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003375858615275591%7Ctwgr%5Eb1bc1329b0c65d384b99a6c34fc78989ea62d271%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40398840"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بولی کے عمل نے ملکی سطح پر اور کاروباری حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی۔ بولی سے قبل معروف صنعت کار ڈاکٹر گوہر اعجاز نے سوشل میڈیا پر کہا کہ جو بھی  کامیاب ہو، اسے یہ یقینی بنانا چاہیے کہ پاکستان جیتے اور پی آئی اے کو اس کی سابقہ شان واپس دلائے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ 20 برسوں میں پی آئی اے کو 800 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Gohar_Ejaz1/status/2003331649862513106?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003331649862513106%7Ctwgr%5Eb1bc1329b0c65d384b99a6c34fc78989ea62d271%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40398840'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Gohar_Ejaz1/status/2003331649862513106?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003331649862513106%7Ctwgr%5Eb1bc1329b0c65d384b99a6c34fc78989ea62d271%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40398840"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بزنس ریکارڈر کے ڈائریکٹر ریسرچ علی خضر نے کہا کہ حکومت کے لیے اصل چیلنج پی آئی اے کی ریزرو قیمت ہے، 100 ارب روپے سے کم قیمت سیاسی طور پر مشکل جبکہ 100 ارب روپے سے زیادہ قیمت تجارتی طور پر مشکل فیصلہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AliKhizar/status/2003365880475124018?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003365880475124018%7Ctwgr%5Eb1bc1329b0c65d384b99a6c34fc78989ea62d271%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40398840'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AliKhizar/status/2003365880475124018?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003365880475124018%7Ctwgr%5Eb1bc1329b0c65d384b99a6c34fc78989ea62d271%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40398840"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بولی کے عمل میں شامل کنسورشیمز میں ایک کنسورشیم لکی سیمنٹ لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ اور کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ پر مشتمل تھا۔ دوسرا کنسورشیم میٹرو وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ تھا جس میں عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ اور سٹی اسکولز پرائیویٹ لمیٹڈ شامل تھے۔ تیسرا کنسورشیم لیک سٹی ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ اور ایئر بلیو پرائیویٹ لمیٹڈ پر مشتمل تھے۔</p>
<p>فوجی فاؤنڈیشن نے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی کے عمل سے دستبرداری اختیار کرلی تھی جس کے بعد بولی دہندگان کی تعداد تین رہ گئی۔</p>
<p>نجکاری کمیشن کے مطابق بولی کے عمل میں 75 فیصد حصص پیش کیے گئے ہیں جن میں سے 92.5 فیصد رقم کمپنی کو جبکہ 7.5 فیصد حکومت کو ملے گی۔ موجودہ ڈھانچے کے تحت 92.5 فیصد آمدن دوبارہ کمپنی میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔</p>
<p>حکومت بقیہ 25 فیصد حصص اپنے پاس رکھے گی، تاہم کامیاب بولی دہندہ بعد میں ان حصص کو خریدنے کا اختیار رکھے گا۔ کمیشن کے مطابق پی آئی اے کے بزنس پلان کے تحت 18 طیاروں پر مشتمل بیڑے میں آئندہ تین سے چار برسوں میں دگنا اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>نجکاری کمیشن نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے اور حکومت پاکستان تمام قواعد و ضوابط کے مطابق شفاف، کھلے اور قابلِ اعتماد نجکاری عمل کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ سال قومی ایئرلائن کی فروخت کی حکومتی کوشش کمزور سرمایہ کار دلچسپی اور حل طلب مالی مسائل کے باعث ناکام ہو گئی تھی۔ اس وقت بلیو ورلڈ سٹی کنسورشیم واحد بولی دہندہ تھا، جس نے نجکاری کمیشن کی 85.03 ارب روپے کی کم از کم توقع پوری کرنے سے انکار کرتے ہوئے پی آئی اے کے 60 فیصد حصص کے لیے اپنی 10 ارب روپے کی پیشکش برقرار رکھی، جس کے نتیجے میں بولی کا عمل ختم ہو گیا تھا۔</p>
<p>حکومت نے اپریل میں نئے اظہارِ دلچسپی کے اعلان کے ساتھ پی آئی اے کی فروخت کا عمل دوبارہ شروع کیا، جس کا مقصد قومی ایئرلائن میں اپنا حصہ فروخت کرنا ہے۔ ابتدا میں اظہارِ دلچسپی جمع کرانے کی آخری تاریخ 3 جون مقرر کی گئی تھی، جسے بعد ازاں 19 جون تک بڑھا دیا گیا۔</p>
<p>حکومت قرضوں میں ڈوبی قومی ایئرلائن کی فروخت کے ذریعے فنڈز حاصل کرنے اور نقصان اٹھانے والے سرکاری اداروں میں اصلاحات کرنا چاہتی ہے، جیسا کہ سات ارب ڈالر کے عالمی مالیاتی فنڈ پروگرام کے تحت طے کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280827</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Dec 2025 11:00:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/24104125138df6c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/24104125138df6c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
