<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مارکیٹ وینزویلا اور روس کی رسد کے خطرات پر محتاط، خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280825/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خام تیل کی قیمتوں منگل کو معمولی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ گزشتہ سیشن میں ان میں 2 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔ قیمتوں میں معمولی کمی اور گزشتہ اضافے کی وجہ امریکہ کا وہ بیان ہے جس میں اس نے قبضے میں لیے گئے وینزویلا کے خام تیل کو فروخت کرنے کا اشارہ دیا ہے جبکہ دوسری جانب روسی بحری جہازوں اور پئیرز پر یوکرینی حملوں نے سپلائی میں خلل کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز 6 سینٹ یا 0.1 فیصد کی کمی سے 62.01 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 9 سینٹ یا 0.16 فیصد کی کمی کے ساتھ 57.92 ڈالر پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو برینٹ نے دو ماہ میں اپنی بہترین یومیہ کارکردگی دکھائی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی نے 14 نومبر کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکرج فرم فلپ نووا کی سینئر مارکیٹ تجزیہ کار پریانکا سچدیوا نے ایک نوٹ میں کہا کہ کہ خام تیل کی مارکیٹیں 2025 کے آخری ہفتوں میں سست روی  کا شکار ہیں اور قیمتیں بڑی حد تک دباؤ میں ہیں۔ یہ صورتحال مسلسل مندی کے رجحان اور وقفے وقفے سے آنے والی تیزی کی خبروں کے درمیان جاری کشمکش کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگرچہ 2025 کے دوران جغرافیائی سیاسی خبروں کی بنیاد پر قیمتوں میں معمولی بحالی دیکھی گئی، تاہم مجموعی صورتحال سست طلب اور زیادہ رسد کے توازن کی طرف اشارہ کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر رجحان کمزور ہی رہا کیونکہ طویل مدتی رسد کے خدشات مختصر مدتی رسک آف ریلیز پر غالب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مارکیٹس محتاط ہیں کیونکہ تاجروں نے جغرافیائی سیاسی خطرات کا موازنہ 2026 کے آغاز میں متوقع وافر رسد سے کیا ہے جس کی وجہ سے قیمتیں کسی بھی طویل مدتی خلل کے لیے حساس ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں وینزویلا کے ساحل کے قریب سے جو تیل قبضے میں لیا گیا ہے، امریکہ اسے اپنے پاس رکھ سکتا ہے یا فروخت کر سکتا ہے۔ یہ بیان وینزویلا کے خلاف ان کی دباؤ بڑھانے کی مہم کے دوران سامنے آیا ہے، جس میں پابندیوں کی زد میں آنے والے آئل ٹینکرز کی ملک میں آمد و رفت پر بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارکلیز  نے پیر کو جاری کردہ ایک نوٹ میں کہا ہے کہ: “یہ سچ ہے کہ اگر مستقبل قریب میں وینزویلا کی تیل کی برآمدات صفر تک بھی گر جائیں، تب بھی امکان یہی ہے کہ سن 2026 کی پہلی ششماہی (H1 26) کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی وافر مقدار میں رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خام تیل کی قیمتوں منگل کو معمولی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ گزشتہ سیشن میں ان میں 2 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔ قیمتوں میں معمولی کمی اور گزشتہ اضافے کی وجہ امریکہ کا وہ بیان ہے جس میں اس نے قبضے میں لیے گئے وینزویلا کے خام تیل کو فروخت کرنے کا اشارہ دیا ہے جبکہ دوسری جانب روسی بحری جہازوں اور پئیرز پر یوکرینی حملوں نے سپلائی میں خلل کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز 6 سینٹ یا 0.1 فیصد کی کمی سے 62.01 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 9 سینٹ یا 0.16 فیصد کی کمی کے ساتھ 57.92 ڈالر پر رہا۔</p>
<p>پیر کو برینٹ نے دو ماہ میں اپنی بہترین یومیہ کارکردگی دکھائی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی نے 14 نومبر کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا۔</p>
<p>بروکرج فرم فلپ نووا کی سینئر مارکیٹ تجزیہ کار پریانکا سچدیوا نے ایک نوٹ میں کہا کہ کہ خام تیل کی مارکیٹیں 2025 کے آخری ہفتوں میں سست روی  کا شکار ہیں اور قیمتیں بڑی حد تک دباؤ میں ہیں۔ یہ صورتحال مسلسل مندی کے رجحان اور وقفے وقفے سے آنے والی تیزی کی خبروں کے درمیان جاری کشمکش کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگرچہ 2025 کے دوران جغرافیائی سیاسی خبروں کی بنیاد پر قیمتوں میں معمولی بحالی دیکھی گئی، تاہم مجموعی صورتحال سست طلب اور زیادہ رسد کے توازن کی طرف اشارہ کرتی ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر رجحان کمزور ہی رہا کیونکہ طویل مدتی رسد کے خدشات مختصر مدتی رسک آف ریلیز پر غالب ہیں۔</p>
<p>تاہم مارکیٹس محتاط ہیں کیونکہ تاجروں نے جغرافیائی سیاسی خطرات کا موازنہ 2026 کے آغاز میں متوقع وافر رسد سے کیا ہے جس کی وجہ سے قیمتیں کسی بھی طویل مدتی خلل کے لیے حساس ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں وینزویلا کے ساحل کے قریب سے جو تیل قبضے میں لیا گیا ہے، امریکہ اسے اپنے پاس رکھ سکتا ہے یا فروخت کر سکتا ہے۔ یہ بیان وینزویلا کے خلاف ان کی دباؤ بڑھانے کی مہم کے دوران سامنے آیا ہے، جس میں پابندیوں کی زد میں آنے والے آئل ٹینکرز کی ملک میں آمد و رفت پر بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے۔</p>
<p>بارکلیز  نے پیر کو جاری کردہ ایک نوٹ میں کہا ہے کہ: “یہ سچ ہے کہ اگر مستقبل قریب میں وینزویلا کی تیل کی برآمدات صفر تک بھی گر جائیں، تب بھی امکان یہی ہے کہ سن 2026 کی پہلی ششماہی (H1 26) کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی وافر مقدار میں رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280825</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 11:21:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/23110954011dbd5.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/23110954011dbd5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
