<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:41:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:41:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی نیلامی آج ہوگی، 3 امیدوار میدان میں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280818/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے لیے آج  (منگل)  اسلام آباد میں بولی کا عمل منعقد کیا جارہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بولی دہندگان اپنی سیل شدہ بولیاں صبح 10 بجکر 45 منٹ سے  11 بجکر 15 منٹ کے درمیان جمع کرائیں گے جب کہ بولیاں سہ پہر ساڑھے 3 بجے تک کھولی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بولی دہندگان میں 3 فریق شامل ہیں جن میں پہلے نمبر پر لکی سیمنٹ لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ اور کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ پر مشتمل کنسورشیم ہے۔ دوسرے نمبر پر میٹرو وینچرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ ہے، جو عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ اور سٹی اسکولز (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر مشتمل ایک کنسورشیم ہے جب کہ تیسرے نمبر پر لیک سٹی ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور ایئر بلیو (پرائیویٹ) لمیٹڈ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی فاؤنڈیشن نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے حصول کے لیے جاری بولی کے عمل سے دستبرداری اختیار کرلی ہے جس کے بعد بولیاں جمع کرانے اور کھولے جانے سے قبل اس دوڑ میں اب 3 بولی دہندگان باقی رہ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن کے مطابق پچھتر فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا &lt;strong&gt;92.5&lt;/strong&gt; فیصد پی آئی اے میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے گا، جبکہ &lt;strong&gt;7.5&lt;/strong&gt; فیصد رقم حکومت کو منتقل کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ تر سرمایہ براہِ راست قومی ائرلائن کی بحالی اور ترقی پر خرچ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت بقیہ 25 فیصد حصص اپنے پاس برقرار رکھے گی اور کامیاب بولی دہندہ کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ انہیں بعد میں حاصل کرسکے۔ کمیشن کے مطابق پی آئی اے  کے بزنس پلان کی بنیاد پر 18 طیاروں پر مشتمل بیڑے کو 3 سے 4 سال کے اندر دگنا کرنے کا منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم کو انٹرویو دیتے ہوئے محمد علی نے کہا کہ ریفرنس پرائس کا جائزہ نجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی لے گی اور اس کی منظوری دے گی، جس کا اعلان بولی کھلنے کے وقت کیا جائے گا۔ اگر بولیاں ریفرنس پرائس سے زیادہ ہوئیں تو اوپن آکشن منعقد کی جائے گی جبکہ ریفرنس پرائس سے کم بولیوں کا جائزہ لے کر سب سے زیادہ رقم کی پیشکش کو ترجیح دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بولی کے عمل کے بعد توقع ہے کہ وفاقی کابینہ چند ہی دنوں میں اس لین دین کی منظوری دے دے گی۔ اس کے بعد کمیشن بولی دہندگان کی جانب سے جمع کرائے گئے دستاویزات پر دستخط کے عمل کو آگے بڑھائے گا اور اسے اثاثوں، واجبات اور لیز پر لیے گئے طیاروں کی منتقلی سمیت تمام طریقہ کار کی تکمیل کے لیے 90 دن میسر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی نے تصدیق کی کہ بولی دہندگان کو مقررہ 90 دن کی مدت کے اندر یہ فیصلہ حتمی طور پر کرنا ہوگا کہ وہ بقیہ 25 فیصد حصص حاصل کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامیاب بولی دہندہ کو مقررہ 90 دن کے اندر بولی کی رقم کا دو تہائی حصہ جمع کروانا ہوگا، جبکہ باقی ایک تہائی رقم ایک سال کے اندر ادا کی جائے گی۔ حکومت نے ایک سال میں مکمل ادائیگی کی اجازت دینے کی تجویز مسترد کر دی، اس وجہ سے کہ ہوائی کمپنی کی کارکردگی میں ممکنہ تبدیلیوں سے منسلک خطرات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے اس وقت اپنے 34 طیاروں کے بیڑے میں سے 18 طیارے چلا رہا ہے اور 97 ممالک کے ساتھ فضائی خدمت کے معاہدے رکھتا ہے، جبکہ 170 سے زائد ممالک میں لینڈنگ کے حقوق بھی حاصل ہیں۔ ایئرلائن نے 11 ارب روپے کا خالص منافع اور 30 ارب روپے کا ایکویٹی رپورٹ کی ہے جبکہ 26 ارب روپے کے واجبات پی آئی اے کے ساتھ رہیں گے اور انہیں پانچ سال میں ادا کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کے ملازمین کے تحفظ کے لیے نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ ایک سال تک ملازمتوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، جبکہ پنشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد کے فوائد کی ذمہ داری ہولڈنگ کمپنی پر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کی افرادی قوت 2011 میں 11,500 ملازمین سے کم ہو کر اب 6,500 رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے لیے آج  (منگل)  اسلام آباد میں بولی کا عمل منعقد کیا جارہا ہے۔</strong></p>
<p>بولی دہندگان اپنی سیل شدہ بولیاں صبح 10 بجکر 45 منٹ سے  11 بجکر 15 منٹ کے درمیان جمع کرائیں گے جب کہ بولیاں سہ پہر ساڑھے 3 بجے تک کھولی جائیں گی۔</p>
<p>بولی دہندگان میں 3 فریق شامل ہیں جن میں پہلے نمبر پر لکی سیمنٹ لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ اور کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ پر مشتمل کنسورشیم ہے۔ دوسرے نمبر پر میٹرو وینچرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ ہے، جو عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ اور سٹی اسکولز (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر مشتمل ایک کنسورشیم ہے جب کہ تیسرے نمبر پر لیک سٹی ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور ایئر بلیو (پرائیویٹ) لمیٹڈ شامل ہیں۔</p>
<p>فوجی فاؤنڈیشن نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے حصول کے لیے جاری بولی کے عمل سے دستبرداری اختیار کرلی ہے جس کے بعد بولیاں جمع کرانے اور کھولے جانے سے قبل اس دوڑ میں اب 3 بولی دہندگان باقی رہ گئے ہیں۔</p>
<p>نجکاری کمیشن کے مطابق پچھتر فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا <strong>92.5</strong> فیصد پی آئی اے میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے گا، جبکہ <strong>7.5</strong> فیصد رقم حکومت کو منتقل کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ تر سرمایہ براہِ راست قومی ائرلائن کی بحالی اور ترقی پر خرچ ہو۔</p>
<p>حکومت بقیہ 25 فیصد حصص اپنے پاس برقرار رکھے گی اور کامیاب بولی دہندہ کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ انہیں بعد میں حاصل کرسکے۔ کمیشن کے مطابق پی آئی اے  کے بزنس پلان کی بنیاد پر 18 طیاروں پر مشتمل بیڑے کو 3 سے 4 سال کے اندر دگنا کرنے کا منصوبہ ہے۔</p>
<p>ایک ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم کو انٹرویو دیتے ہوئے محمد علی نے کہا کہ ریفرنس پرائس کا جائزہ نجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی لے گی اور اس کی منظوری دے گی، جس کا اعلان بولی کھلنے کے وقت کیا جائے گا۔ اگر بولیاں ریفرنس پرائس سے زیادہ ہوئیں تو اوپن آکشن منعقد کی جائے گی جبکہ ریفرنس پرائس سے کم بولیوں کا جائزہ لے کر سب سے زیادہ رقم کی پیشکش کو ترجیح دی جائے گی۔</p>
<p>بولی کے عمل کے بعد توقع ہے کہ وفاقی کابینہ چند ہی دنوں میں اس لین دین کی منظوری دے دے گی۔ اس کے بعد کمیشن بولی دہندگان کی جانب سے جمع کرائے گئے دستاویزات پر دستخط کے عمل کو آگے بڑھائے گا اور اسے اثاثوں، واجبات اور لیز پر لیے گئے طیاروں کی منتقلی سمیت تمام طریقہ کار کی تکمیل کے لیے 90 دن میسر ہوں گے۔</p>
<p>محمد علی نے تصدیق کی کہ بولی دہندگان کو مقررہ 90 دن کی مدت کے اندر یہ فیصلہ حتمی طور پر کرنا ہوگا کہ وہ بقیہ 25 فیصد حصص حاصل کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔</p>
<p>کامیاب بولی دہندہ کو مقررہ 90 دن کے اندر بولی کی رقم کا دو تہائی حصہ جمع کروانا ہوگا، جبکہ باقی ایک تہائی رقم ایک سال کے اندر ادا کی جائے گی۔ حکومت نے ایک سال میں مکمل ادائیگی کی اجازت دینے کی تجویز مسترد کر دی، اس وجہ سے کہ ہوائی کمپنی کی کارکردگی میں ممکنہ تبدیلیوں سے منسلک خطرات موجود ہیں۔</p>
<p>پی آئی اے اس وقت اپنے 34 طیاروں کے بیڑے میں سے 18 طیارے چلا رہا ہے اور 97 ممالک کے ساتھ فضائی خدمت کے معاہدے رکھتا ہے، جبکہ 170 سے زائد ممالک میں لینڈنگ کے حقوق بھی حاصل ہیں۔ ایئرلائن نے 11 ارب روپے کا خالص منافع اور 30 ارب روپے کا ایکویٹی رپورٹ کی ہے جبکہ 26 ارب روپے کے واجبات پی آئی اے کے ساتھ رہیں گے اور انہیں پانچ سال میں ادا کیا جائے گا۔</p>
<p>پی آئی اے کے ملازمین کے تحفظ کے لیے نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ ایک سال تک ملازمتوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، جبکہ پنشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد کے فوائد کی ذمہ داری ہولڈنگ کمپنی پر ہوگی۔</p>
<p>پی آئی اے کی افرادی قوت 2011 میں 11,500 ملازمین سے کم ہو کر اب 6,500 رہ گئی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280818</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 09:31:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/230926291dbc7a2.webp" type="image/webp" medium="image" height="394" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/230926291dbc7a2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
