<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:00:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:00:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں معاشی نمو اب تک کیوں حاصل نہ ہو سکی؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280803/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں معاشی نمو سے متعلق بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ ملک استحکام کے چوتھے سال میں داخل ہو چکا ہے، تاہم ترقی اب بھی ایک خواب ہی بنی ہوئی ہے۔ اس بحث میں گئے بغیر کہ روایتی ترقیاتی ماڈل اب کیوں کارگر نہیں رہا، یہ حقیقت واضح ہے کہ پاکستان کو سرمایہ کاری کے حصول کے لیے بیرونی مالیاتی سہارا (بفرز) درکار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان بفرز کے بغیر تلوار بدستور لٹکتی رہے گی، جس کے باعث اسٹیٹ بینک ایک فیصد سے زائد جاری کھاتہ خسارے کی اجازت نہیں دے سکے گا، اور آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنے کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت دوست ممالک سے نہ تو خاطر خواہ سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکی ہے اور نہ ہی قرضہ جاتی رقوم کے بہاؤ میں اضافہ کر پائی ہے۔ گزشتہ دو برسوں سے موجودہ حکومت دوست ممالک سے 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لانے کے دعوے کرتی آ رہی ہے۔ جغرافیائی سیاست کی ہوائیں پاکستان کے حق میں ہونے کے باعث امیدیں ضرور بڑھی ہیں، مگر تاحال عملی طور پر خزانے میں کچھ نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی دستاویزات کے مطابق آئندہ پانچ برسوں کے دوران پاکستان کی اوسط سالانہ مجموعی بیرونی مالیاتی ضرورت 23 ارب ڈالر ہے، جس میں سے 7.5 ارب ڈالر سالانہ نجی شعبے سے متوقع ہیں۔ تقابلی طور پر مالی سال 2025 میں نجی شعبے کی جانب سے بیرونی رقوم کی متوقع وصولی صرف 795 ملین ڈالر ہے، جو آئندہ برسوں میں درکار سالانہ رقم کا بمشکل دسواں حصہ بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں ذمہ داری اب نجی شعبے کی جانب منتقل ہو رہی ہے کہ وہ طویل المدت منصوبے تشکیل دے اور بیرونی قرض دہندگان سے فنانسنگ حاصل کرے، اور یہ درست بھی ہے۔ عموماً نجی شعبہ حکومتی اداروں کے مقابلے میں زیادہ ساکھ رکھتا ہے، جہاں طرزِ حکمرانی کے مسائل بدستور نمایاں ہیں۔ مزید یہ کہ نجی شعبہ غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری اور فنانسنگ لا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کاغذی طور پر آئندہ چار برسوں میں برآمدات کو 63 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھتی ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسی پلاننگ کمیشن کی ٹیم نے 2015 میں 2025 تک برآمدات 125 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا تھا، جو محض خوش فہمی ثابت ہوا۔ آج بھی چار برس میں برآمدات دوگنا کرنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ نظر نہیں آتا۔ اسی طرح 2035 تک سالانہ 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لانے کا ہدف، جس میں 75 فیصد نجی شعبے سے متوقع ہے، کسی قابلِ اعتبار روڈ میپ سے محروم دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر حقیقی اعداد و شمار سے دل برداشتہ ہونے کے بجائے فوری ہدف یہ ہونا چاہیے کہ نجی شعبے کے بیرونی قرضے کو سالانہ 700 ملین ڈالر سے بڑھا کر 7 ارب ڈالر تک لے جایا جائے۔ موجودہ حالات میں یہ ایک طویل اور دشوار سفر ہے۔ بہتر خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کے بغیر نجی شعبہ یہ ہدف حاصل نہیں کر سکتا، اور اس کے لیے سالانہ 20 ارب ڈالر سے زائد کی مجموعی بیرونی مالیاتی ضروریات میں کمی ناگزیر ہے۔ جب تک ادائیگیوں کے توازن کے خطرات منڈلاتے رہیں گے اور بیرونی ادائیگیوں پر قدغن کا خدشہ برقرار رہے گا، پیش رفت محدود ہی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو بہتر ہوتی جغرافیائی پوزیشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوست ممالک اور ان کے بینکوں سے حاصل قلیل المدت قرضوں اور ڈپازٹس کو طویل المدت بانڈز میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اصل مسئلہ قرضوں کی مقدار نہیں بلکہ ان کی قلیل المدت نوعیت ہے۔ سالانہ رول اوور ایک معمول ہے اورمستقبل قریب میں ادائیگیوں کا امکان کم ہے، مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ میچورٹی اسٹرکچر کو ازسرِنو ترتیب دیا جائے تاکہ قلیل اور وسط المدتی منظرنامہ بہتر ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے اقدامات سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہو سکتی ہے اور ملکی نجی شعبے اور دوست ممالک کے نجی اداروں کے درمیان حقیقی شراکت داریاں ممکن بن سکیں گی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جیو اکنامکس عملی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ڈاکٹر معید یوسف کے مطابق متعدد ممالک کو بڑے منصوبوں، بالخصوص معدنیات اور دیگر اسٹریٹجک شعبوں میں، معاشی مفادات سے وابستہ ہونا چاہیے۔ چین، مشرقِ وسطیٰ اور امریکا کے مفادات کو پاکستان کے ساتھ ہم آہنگ کرنے سے منصوبوں کی کامیابی، سیاسی استحکام اور معاشی فوائد کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ سب کہنا جتنا آسان ہے، کرنا اتنا ہی مشکل ہے۔ قرضوں کی مدت میں توسیع ایک ضروری مگر ناکافی شرط ہے۔ اس کے ساتھ توانائی کے شعبے کی کمزورکارکردگی اور مالیاتی عدم توازن کا حل بھی ناگزیر ہے۔ مجموعی طرزِ حکمرانی میں بہتری اور طویل المدت سیاسی استحکام لازمی ہے، جو اکثریت کی رائے کو نظرانداز کر کے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ درست سمت میں چھوٹے مگر ٹھوس قدم اٹھائے جائیں: دوست ممالک سے قلیل المدتی قرضوں کو طویل المدتی مالیاتی آلات میں تبدیل کرنا، توانائی کے شعبے میں جرات مندانہ اصلاحات اور ڈی ریگولیشن کے ذریعے مسائل حل کرنا، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، اور جامع معاشی نمو کی پالیسیوں پر عمل کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بصورتِ دیگر ملک کم رفتار ترقی کے ایسے دائرے میں پھنسا رہنے کا خطرہ مول لے گا جہاں ایک آئی ایم ایف پروگرام ختم ہوتے ہی دوسرا فوری طور پر شروع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں معاشی نمو سے متعلق بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ ملک استحکام کے چوتھے سال میں داخل ہو چکا ہے، تاہم ترقی اب بھی ایک خواب ہی بنی ہوئی ہے۔ اس بحث میں گئے بغیر کہ روایتی ترقیاتی ماڈل اب کیوں کارگر نہیں رہا، یہ حقیقت واضح ہے کہ پاکستان کو سرمایہ کاری کے حصول کے لیے بیرونی مالیاتی سہارا (بفرز) درکار ہے۔</strong></p>
<p>ان بفرز کے بغیر تلوار بدستور لٹکتی رہے گی، جس کے باعث اسٹیٹ بینک ایک فیصد سے زائد جاری کھاتہ خسارے کی اجازت نہیں دے سکے گا، اور آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنے کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے گا۔</p>
<p>حکومت دوست ممالک سے نہ تو خاطر خواہ سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکی ہے اور نہ ہی قرضہ جاتی رقوم کے بہاؤ میں اضافہ کر پائی ہے۔ گزشتہ دو برسوں سے موجودہ حکومت دوست ممالک سے 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لانے کے دعوے کرتی آ رہی ہے۔ جغرافیائی سیاست کی ہوائیں پاکستان کے حق میں ہونے کے باعث امیدیں ضرور بڑھی ہیں، مگر تاحال عملی طور پر خزانے میں کچھ نہیں آیا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی دستاویزات کے مطابق آئندہ پانچ برسوں کے دوران پاکستان کی اوسط سالانہ مجموعی بیرونی مالیاتی ضرورت 23 ارب ڈالر ہے، جس میں سے 7.5 ارب ڈالر سالانہ نجی شعبے سے متوقع ہیں۔ تقابلی طور پر مالی سال 2025 میں نجی شعبے کی جانب سے بیرونی رقوم کی متوقع وصولی صرف 795 ملین ڈالر ہے، جو آئندہ برسوں میں درکار سالانہ رقم کا بمشکل دسواں حصہ بنتی ہے۔</p>
<p>یوں ذمہ داری اب نجی شعبے کی جانب منتقل ہو رہی ہے کہ وہ طویل المدت منصوبے تشکیل دے اور بیرونی قرض دہندگان سے فنانسنگ حاصل کرے، اور یہ درست بھی ہے۔ عموماً نجی شعبہ حکومتی اداروں کے مقابلے میں زیادہ ساکھ رکھتا ہے، جہاں طرزِ حکمرانی کے مسائل بدستور نمایاں ہیں۔ مزید یہ کہ نجی شعبہ غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری اور فنانسنگ لا سکتا ہے۔</p>
<p>حکومت کاغذی طور پر آئندہ چار برسوں میں برآمدات کو 63 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھتی ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسی پلاننگ کمیشن کی ٹیم نے 2015 میں 2025 تک برآمدات 125 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا تھا، جو محض خوش فہمی ثابت ہوا۔ آج بھی چار برس میں برآمدات دوگنا کرنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ نظر نہیں آتا۔ اسی طرح 2035 تک سالانہ 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لانے کا ہدف، جس میں 75 فیصد نجی شعبے سے متوقع ہے، کسی قابلِ اعتبار روڈ میپ سے محروم دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>غیر حقیقی اعداد و شمار سے دل برداشتہ ہونے کے بجائے فوری ہدف یہ ہونا چاہیے کہ نجی شعبے کے بیرونی قرضے کو سالانہ 700 ملین ڈالر سے بڑھا کر 7 ارب ڈالر تک لے جایا جائے۔ موجودہ حالات میں یہ ایک طویل اور دشوار سفر ہے۔ بہتر خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کے بغیر نجی شعبہ یہ ہدف حاصل نہیں کر سکتا، اور اس کے لیے سالانہ 20 ارب ڈالر سے زائد کی مجموعی بیرونی مالیاتی ضروریات میں کمی ناگزیر ہے۔ جب تک ادائیگیوں کے توازن کے خطرات منڈلاتے رہیں گے اور بیرونی ادائیگیوں پر قدغن کا خدشہ برقرار رہے گا، پیش رفت محدود ہی رہے گی۔</p>
<p>حکومت کو بہتر ہوتی جغرافیائی پوزیشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوست ممالک اور ان کے بینکوں سے حاصل قلیل المدت قرضوں اور ڈپازٹس کو طویل المدت بانڈز میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اصل مسئلہ قرضوں کی مقدار نہیں بلکہ ان کی قلیل المدت نوعیت ہے۔ سالانہ رول اوور ایک معمول ہے اورمستقبل قریب میں ادائیگیوں کا امکان کم ہے، مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ میچورٹی اسٹرکچر کو ازسرِنو ترتیب دیا جائے تاکہ قلیل اور وسط المدتی منظرنامہ بہتر ہو سکے۔</p>
<p>ایسے اقدامات سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہو سکتی ہے اور ملکی نجی شعبے اور دوست ممالک کے نجی اداروں کے درمیان حقیقی شراکت داریاں ممکن بن سکیں گی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جیو اکنامکس عملی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ڈاکٹر معید یوسف کے مطابق متعدد ممالک کو بڑے منصوبوں، بالخصوص معدنیات اور دیگر اسٹریٹجک شعبوں میں، معاشی مفادات سے وابستہ ہونا چاہیے۔ چین، مشرقِ وسطیٰ اور امریکا کے مفادات کو پاکستان کے ساتھ ہم آہنگ کرنے سے منصوبوں کی کامیابی، سیاسی استحکام اور معاشی فوائد کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔</p>
<p>تاہم یہ سب کہنا جتنا آسان ہے، کرنا اتنا ہی مشکل ہے۔ قرضوں کی مدت میں توسیع ایک ضروری مگر ناکافی شرط ہے۔ اس کے ساتھ توانائی کے شعبے کی کمزورکارکردگی اور مالیاتی عدم توازن کا حل بھی ناگزیر ہے۔ مجموعی طرزِ حکمرانی میں بہتری اور طویل المدت سیاسی استحکام لازمی ہے، جو اکثریت کی رائے کو نظرانداز کر کے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>فی الحال توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ درست سمت میں چھوٹے مگر ٹھوس قدم اٹھائے جائیں: دوست ممالک سے قلیل المدتی قرضوں کو طویل المدتی مالیاتی آلات میں تبدیل کرنا، توانائی کے شعبے میں جرات مندانہ اصلاحات اور ڈی ریگولیشن کے ذریعے مسائل حل کرنا، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، اور جامع معاشی نمو کی پالیسیوں پر عمل کرنا۔</p>
<p>بصورتِ دیگر ملک کم رفتار ترقی کے ایسے دائرے میں پھنسا رہنے کا خطرہ مول لے گا جہاں ایک آئی ایم ایف پروگرام ختم ہوتے ہی دوسرا فوری طور پر شروع ہو جاتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280803</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Dec 2025 16:06:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/2215402776b0168.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/2215402776b0168.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
