<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر ملکی سرمایہ کاری: کمزور اعداد و شمار، متزلزل اعتماد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280793/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نومبر 2025 کے دوران پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی اور رواں مالی سال جولائی تا نومبر تک کے وسیع تر تناظر نے ایک تلخ حقیقت کو مزید واضح کردیا ہے: سرمایہ کاری کی آمد محدود اور غیر مستحکم ہے اور یہ نئے سرمایہ کاروں کے اعتماد کے بجائے چند پرانے روایتی تعلقات پر منحصر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق نومبر 2025 میں خالص غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری سالانہ بنیاد پر 16 فیصد کمی کے بعد 180 ملین ڈالر رہی جو نومبر 2024 میں 214 ملین ڈالر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران مجموعی خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 25 فیصد کمی کے ساتھ 927 ملین ڈالر رہی جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ حجم 1.24 ارب ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/6948aa912422a.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/6948aa912422a.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اعدادوشمار سے ملنے والا پیغام بالکل واضح ہے: سرمایہ کاری کی آمد میں استحکام کے بجائے کمزوری آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ مہینوں کی طرح نومبر اور مالی سال 2026 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران آنے والی سرمایہ کاری میں چین (بشمول ہانگ کانگ) کا غلبہ رہا ۔ زیادہ تر خالص سرمایہ کاری پاور سیکٹرخصوصاً کوئلے سے متعلق منصوبے اور محدود مالی و انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کے شعبوں میں ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/6948aa92f2477.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/6948aa92f2477.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس باقی دنیا سے آنے والی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بدستور کم رہی جہاں نئی سرمایہ کاری کا حجم بڑی حد تک ملک سے باہر جانے والے سرمائے کے برابر رہا۔ مجموعی طور پر چین سے وابستہ سرمایہ کاری کے علاوہ، پاکستان کا ایف ڈی آئی پروفائل محدود اور کبھی کبھار ہونے والے واقعات تک محدود ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری کے مجموعی اعداد و شمار کسی بھی وقت واپس گرنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی شعبہ جاتی ساخت اس کے محدود دائرہ کار کو واضح کرتی ہے۔ صرف بجلی کے شعبے نے تقریباً 384 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جس کے بعد مالیاتی خدمات کا نمبر رہا جس میں تقریباً 328 ملین ڈالر آئے۔ ان دو شعبوں کے علاوہ، سرمایہ کاری کی رفتار انتہائی محدود رہی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/6948aa98ae372.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/6948aa98ae372.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مواصلات اور متعدد سروس سیکٹرز میں خالص سرمایہ کے اخراج کا سلسلہ جاری رہا جس سے ریگولیٹڈ اور صارفین سے جڑے شعبوں پر مسلسل دباؤ ظاہر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے سرمایہ کاری کا چیلنج وقتی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کا ہے۔ حکومتیں بار بار نجکاری کے منصوبے، روڈ شوز اور سہولت کاری کے اقدامات کا اعلان کرچکی ہیں، تاہم عمل درآمد تاخیر کا شکار رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/6948aa9ba86e9.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/6948aa9ba86e9.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پالیسی میں تبدیلیاں، ٹیریف کے دوبارہ مذاکرات اور پسِ منظر میں کیے جانے والے ریگولیٹری اقدامات اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ سرمایہ کاری کے وعدے کے بعد قواعد بدل سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2025 کے نتائج پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں واضح سست روی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مالی سال 2026 کے پہلے پانچ ماہ میں 25 فیصد کی کمی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ سرمایہ کاری کی آمد بدستور مخصوص شعبوں تک محدود، کمزور اور ساکھ کی کمی کا شکار ہے۔ پالیسی کے استحکام، معاہدوں کے تقدس اور قابلِ پیشن گوئی ریگولیشن کی جانب مستقل منتقلی کے بغیر، غیر ملکی سرمایہ کاری پائیدار اعتماد کے سرمائے کے بجائے محض کبھی کبھار ہونے والے واقعات کی صورت میں آتی رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نومبر 2025 کے دوران پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی اور رواں مالی سال جولائی تا نومبر تک کے وسیع تر تناظر نے ایک تلخ حقیقت کو مزید واضح کردیا ہے: سرمایہ کاری کی آمد محدود اور غیر مستحکم ہے اور یہ نئے سرمایہ کاروں کے اعتماد کے بجائے چند پرانے روایتی تعلقات پر منحصر ہے۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق نومبر 2025 میں خالص غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری سالانہ بنیاد پر 16 فیصد کمی کے بعد 180 ملین ڈالر رہی جو نومبر 2024 میں 214 ملین ڈالر تھی۔</p>
<p>اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران مجموعی خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 25 فیصد کمی کے ساتھ 927 ملین ڈالر رہی جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ حجم 1.24 ارب ڈالر تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/6948aa912422a.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/6948aa912422a.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اعدادوشمار سے ملنے والا پیغام بالکل واضح ہے: سرمایہ کاری کی آمد میں استحکام کے بجائے کمزوری آئی ہے۔</p>
<p>حالیہ مہینوں کی طرح نومبر اور مالی سال 2026 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران آنے والی سرمایہ کاری میں چین (بشمول ہانگ کانگ) کا غلبہ رہا ۔ زیادہ تر خالص سرمایہ کاری پاور سیکٹرخصوصاً کوئلے سے متعلق منصوبے اور محدود مالی و انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کے شعبوں میں ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/6948aa92f2477.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/6948aa92f2477.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس کے برعکس باقی دنیا سے آنے والی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بدستور کم رہی جہاں نئی سرمایہ کاری کا حجم بڑی حد تک ملک سے باہر جانے والے سرمائے کے برابر رہا۔ مجموعی طور پر چین سے وابستہ سرمایہ کاری کے علاوہ، پاکستان کا ایف ڈی آئی پروفائل محدود اور کبھی کبھار ہونے والے واقعات تک محدود ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری کے مجموعی اعداد و شمار کسی بھی وقت واپس گرنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔</p>
<p>مالی سال 2026 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی شعبہ جاتی ساخت اس کے محدود دائرہ کار کو واضح کرتی ہے۔ صرف بجلی کے شعبے نے تقریباً 384 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جس کے بعد مالیاتی خدمات کا نمبر رہا جس میں تقریباً 328 ملین ڈالر آئے۔ ان دو شعبوں کے علاوہ، سرمایہ کاری کی رفتار انتہائی محدود رہی۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/6948aa98ae372.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/6948aa98ae372.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مواصلات اور متعدد سروس سیکٹرز میں خالص سرمایہ کے اخراج کا سلسلہ جاری رہا جس سے ریگولیٹڈ اور صارفین سے جڑے شعبوں پر مسلسل دباؤ ظاہر ہوتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے سرمایہ کاری کا چیلنج وقتی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کا ہے۔ حکومتیں بار بار نجکاری کے منصوبے، روڈ شوز اور سہولت کاری کے اقدامات کا اعلان کرچکی ہیں، تاہم عمل درآمد تاخیر کا شکار رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/6948aa9ba86e9.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/6948aa9ba86e9.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>پالیسی میں تبدیلیاں، ٹیریف کے دوبارہ مذاکرات اور پسِ منظر میں کیے جانے والے ریگولیٹری اقدامات اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ سرمایہ کاری کے وعدے کے بعد قواعد بدل سکتے ہیں۔</p>
<p>نومبر 2025 کے نتائج پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں واضح سست روی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مالی سال 2026 کے پہلے پانچ ماہ میں 25 فیصد کی کمی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ سرمایہ کاری کی آمد بدستور مخصوص شعبوں تک محدود، کمزور اور ساکھ کی کمی کا شکار ہے۔ پالیسی کے استحکام، معاہدوں کے تقدس اور قابلِ پیشن گوئی ریگولیشن کی جانب مستقل منتقلی کے بغیر، غیر ملکی سرمایہ کاری پائیدار اعتماد کے سرمائے کے بجائے محض کبھی کبھار ہونے والے واقعات کی صورت میں آتی رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280793</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Dec 2025 16:04:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/22131531f9ef148.webp" type="image/webp" medium="image" height="1067" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/22131531f9ef148.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
