<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:28:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:28:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہمارا ٹیکس نظام: اقتصادی انصاف میں رکاوٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280787/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رسمی معیشت  میں نجی شعبے کا حصہ اپنے ہم عصر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً کم رہا ہے اور اس گراوٹ کا واضح ثبوت گزشتہ دو دہائیوں کے دوران جی ڈی پی کے مقابلے میں نجی قرضوں  کے گرتے ہوئے تناسب سے ملتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی شعبے کے اندر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی کارکردگی تو اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی تحقیقی رپورٹس بتاتی ہیں کہ چھوٹی کمپنیوں کے لیے قانونی تعمیل کی لاگت  بہت زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر ورلڈ بینک کی ایک تحقیق کے مطابق، کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں تعمیل کی یہ بھاری لاگت چھوٹی کمپنیوں کو کچل کر رکھ دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اکیلا بین الاقوامی دباؤ کے بغیر ان اخراجات کو نمایاں طور پر کم نہیں کر سکتا، تاہم حکام مقامی سطح پر آنے والی لاگت  کو کم کرنے کے لیے مؤثر طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ریگولیٹری اصلاحات سے متعلق کابینہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے &lt;strong&gt;280 سے زائد ترامیم&lt;/strong&gt; تجویز کی ہیں جن کا مقصد نجی شعبے کی کمپنیوں کے لیے قانونی تعمیل کی لاگت کو کم کرنا ہے۔ یہ ایک مثبت قدم ہے لیکن یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ شاید یہ اقدامات اصل بنیادی مسئلے کو حل کرنے کے لیے کافی نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں اصل مسئلہ ٹیکسیشن کی بڑھتی ہوئی لاگت رہا ہے خواہ وہ براہِ راست  ٹیکس ہو یا بالواسطہ۔ ایف بی آر اپنے طور پر ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں ناکام رہا ہے اور رضاکارانہ طور پر ٹیکس کی ادائیگیوں کو فروغ دینے میں اس کی صلاحیت انتہائی محدود رہی ہے، تاہم ٹیکس بیس کو بڑھانے کے لیے آئی ایم ایف  کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2009 سے ویلیو چینز خصوصاً مینوفیکچرنگ کے شعبے پر ٹیکس لگانے کے لیے بھرپور کوششیں کی گئی ہیں۔ اس کا آغاز ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی طرز پر جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ سے ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس سلسلے میں کامیابی محدود رہی ہے۔ ایک متبادل حکمت عملی کے طور پر یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے کمپنیوں کو &lt;strong&gt;ودہولڈنگ ٹیکس ایجنٹ&lt;/strong&gt;  بنا دیا ہے تاکہ وہ ویلیو چین میں موجود دیگر افراد کی طرف سے ٹیکس جمع کریں۔ یہ اقدام درحقیقت ٹیکس حکام کی اپنی مدد آپ ٹیکس جمع کرنے میں ناکامی کا اعتراف ہے۔ اس عمل میں ٹیکس کا سارا بوجھ غیر متناسب طور پر کمپنیوں پر ڈال دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں غیر رسمی معیشت کی شرح بہت زیادہ ہے اور پائیدان کے نچلے حصے پر موجود صنعتوں کی اکثریت غیر دستاویزی ہے۔ یہ سپلائرز (خواہ وہ چھوٹے نہ بھی ہوں) ٹیکس نیٹ میں آنے سے انکار کر دیتے ہیں اور خریدار کمپنیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ٹیکس کی رقم کو اپنی لاگت میں شامل کریں۔ دوسری طرف، حکومت نے نان فائلرز پر ودہولڈنگ ٹیکس  کی شرح میں اضافہ کر دیا ہے، جو زیادہ تر معاملات میں فروخت شدہ سامان کی لاگت کا حصہ بن چکا ہے۔ نتیجتاً یہ اضافی بوجھ صارف تک منتقل ہو جاتا ہے جس سے پورا شعبہ مسابقتی حیثیت کھو دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور مسئلہ ٹیکس کی تعمیل اور گوشوارے جمع کروانا ہے جو کہ ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہے اور چھوٹی کمپنیوں سے بہت زیادہ محنت اور وسائل کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ کمپنیاں ٹیکس اور قانونی ماہرین کی بڑی ٹیمیں نہیں رکھتیں، لہذا یہ بوجھ ان کے سی ای اوز یا مالکان کا قیمتی وقت کھا جاتا ہے۔ نتیجے کے طور پر، ان کے پاس اپنے بنیادی کاروباری کاموں پر توجہ دینے کے لیے کم وقت بچتا ہے، جو جدت طرازی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے اور کاروبار کی توسیع کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متعدد صورتوں میں ودہولڈنگ ٹیکس خواہ وہ براہِ راست ہو یا بالواسطہ منافع کے بجائے براہِ راست آمدنی سے کاٹ لیا جاتا ہے۔ اگر اصل ٹیکس واجبات کٹی ہوئی رقم سے کم ہوں، تو ایف بی آر پر لازم ہے کہ وہ زائد رقم واپس کرے، لیکن ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ یہ ریفنڈز زیادہ تر صرف ان بڑی کمپنیوں کو مل پاتے ہیں جن کے پاس فیصلہ سازوں پر اثر انداز ہونے کے لیے لابنگ کی طاقت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کو ریفنڈز (رقم کی واپسی) شاید ہی کبھی ملتی ہے جس سے ان کے ورکنگ کیپٹل (روزمرہ اخراجات کا سرمایہ) کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت سے کاروبار کارپوریٹ ڈھانچے (رجسٹرڈ کمپنی) سے دور ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں غیر رسمی معیشت  کا حصہ بڑھ جاتا ہے، جس کا واضح ثبوت ’براڈ منی‘  کے تناسب سے مارکیٹ میں زیرِ گردش کرنسی  کا بڑھتا ہوا حجم ہے۔ 2015-16 سے اب تک اس رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس کے واپس پلٹنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر حکومت چاہتی ہے کہ چھوٹے کاروبار رسمی کاروبار کی نمو کو فروغ دیں، تو اسے اصل مسئلے سے نمٹنا ہوگا اور ایف بی آر میں اپنی کارکردگی بہتر بنانی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس جمع کرنا ٹیکس حکام کی ذمہ داری ہے، نہ کہ ویلیو چین میں شامل دیگر کاروباری اداروں کی۔ اس (بنیادی مسئلے) کو حل کیے بغیر، ’قانونی تعمیل کی لاگت کو کم کرنے کی کوششوں کا اثر بہت معمولی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائت بزنس ریکاررڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رسمی معیشت  میں نجی شعبے کا حصہ اپنے ہم عصر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً کم رہا ہے اور اس گراوٹ کا واضح ثبوت گزشتہ دو دہائیوں کے دوران جی ڈی پی کے مقابلے میں نجی قرضوں  کے گرتے ہوئے تناسب سے ملتا ہے۔</strong></p>
<p>نجی شعبے کے اندر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی کارکردگی تو اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی تحقیقی رپورٹس بتاتی ہیں کہ چھوٹی کمپنیوں کے لیے قانونی تعمیل کی لاگت  بہت زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر ورلڈ بینک کی ایک تحقیق کے مطابق، کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں تعمیل کی یہ بھاری لاگت چھوٹی کمپنیوں کو کچل کر رکھ دیتی ہے۔</p>
<p>پاکستان اکیلا بین الاقوامی دباؤ کے بغیر ان اخراجات کو نمایاں طور پر کم نہیں کر سکتا، تاہم حکام مقامی سطح پر آنے والی لاگت  کو کم کرنے کے لیے مؤثر طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔</p>
<p>حال ہی میں ریگولیٹری اصلاحات سے متعلق کابینہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے <strong>280 سے زائد ترامیم</strong> تجویز کی ہیں جن کا مقصد نجی شعبے کی کمپنیوں کے لیے قانونی تعمیل کی لاگت کو کم کرنا ہے۔ یہ ایک مثبت قدم ہے لیکن یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ شاید یہ اقدامات اصل بنیادی مسئلے کو حل کرنے کے لیے کافی نہ ہوں۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں اصل مسئلہ ٹیکسیشن کی بڑھتی ہوئی لاگت رہا ہے خواہ وہ براہِ راست  ٹیکس ہو یا بالواسطہ۔ ایف بی آر اپنے طور پر ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں ناکام رہا ہے اور رضاکارانہ طور پر ٹیکس کی ادائیگیوں کو فروغ دینے میں اس کی صلاحیت انتہائی محدود رہی ہے، تاہم ٹیکس بیس کو بڑھانے کے لیے آئی ایم ایف  کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>2009 سے ویلیو چینز خصوصاً مینوفیکچرنگ کے شعبے پر ٹیکس لگانے کے لیے بھرپور کوششیں کی گئی ہیں۔ اس کا آغاز ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی طرز پر جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ سے ہوا تھا۔</p>
<p>تاہم اس سلسلے میں کامیابی محدود رہی ہے۔ ایک متبادل حکمت عملی کے طور پر یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے کمپنیوں کو <strong>ودہولڈنگ ٹیکس ایجنٹ</strong>  بنا دیا ہے تاکہ وہ ویلیو چین میں موجود دیگر افراد کی طرف سے ٹیکس جمع کریں۔ یہ اقدام درحقیقت ٹیکس حکام کی اپنی مدد آپ ٹیکس جمع کرنے میں ناکامی کا اعتراف ہے۔ اس عمل میں ٹیکس کا سارا بوجھ غیر متناسب طور پر کمپنیوں پر ڈال دیا گیا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں غیر رسمی معیشت کی شرح بہت زیادہ ہے اور پائیدان کے نچلے حصے پر موجود صنعتوں کی اکثریت غیر دستاویزی ہے۔ یہ سپلائرز (خواہ وہ چھوٹے نہ بھی ہوں) ٹیکس نیٹ میں آنے سے انکار کر دیتے ہیں اور خریدار کمپنیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ٹیکس کی رقم کو اپنی لاگت میں شامل کریں۔ دوسری طرف، حکومت نے نان فائلرز پر ودہولڈنگ ٹیکس  کی شرح میں اضافہ کر دیا ہے، جو زیادہ تر معاملات میں فروخت شدہ سامان کی لاگت کا حصہ بن چکا ہے۔ نتیجتاً یہ اضافی بوجھ صارف تک منتقل ہو جاتا ہے جس سے پورا شعبہ مسابقتی حیثیت کھو دیتا ہے۔</p>
<p>ایک اور مسئلہ ٹیکس کی تعمیل اور گوشوارے جمع کروانا ہے جو کہ ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہے اور چھوٹی کمپنیوں سے بہت زیادہ محنت اور وسائل کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ کمپنیاں ٹیکس اور قانونی ماہرین کی بڑی ٹیمیں نہیں رکھتیں، لہذا یہ بوجھ ان کے سی ای اوز یا مالکان کا قیمتی وقت کھا جاتا ہے۔ نتیجے کے طور پر، ان کے پاس اپنے بنیادی کاروباری کاموں پر توجہ دینے کے لیے کم وقت بچتا ہے، جو جدت طرازی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے اور کاروبار کی توسیع کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔</p>
<p>متعدد صورتوں میں ودہولڈنگ ٹیکس خواہ وہ براہِ راست ہو یا بالواسطہ منافع کے بجائے براہِ راست آمدنی سے کاٹ لیا جاتا ہے۔ اگر اصل ٹیکس واجبات کٹی ہوئی رقم سے کم ہوں، تو ایف بی آر پر لازم ہے کہ وہ زائد رقم واپس کرے، لیکن ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ یہ ریفنڈز زیادہ تر صرف ان بڑی کمپنیوں کو مل پاتے ہیں جن کے پاس فیصلہ سازوں پر اثر انداز ہونے کے لیے لابنگ کی طاقت ہوتی ہے۔</p>
<p>چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کو ریفنڈز (رقم کی واپسی) شاید ہی کبھی ملتی ہے جس سے ان کے ورکنگ کیپٹل (روزمرہ اخراجات کا سرمایہ) کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت سے کاروبار کارپوریٹ ڈھانچے (رجسٹرڈ کمپنی) سے دور ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں غیر رسمی معیشت  کا حصہ بڑھ جاتا ہے، جس کا واضح ثبوت ’براڈ منی‘  کے تناسب سے مارکیٹ میں زیرِ گردش کرنسی  کا بڑھتا ہوا حجم ہے۔ 2015-16 سے اب تک اس رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس کے واپس پلٹنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔</p>
<p>اگر حکومت چاہتی ہے کہ چھوٹے کاروبار رسمی کاروبار کی نمو کو فروغ دیں، تو اسے اصل مسئلے سے نمٹنا ہوگا اور ایف بی آر میں اپنی کارکردگی بہتر بنانی ہوگی۔</p>
<p>ٹیکس جمع کرنا ٹیکس حکام کی ذمہ داری ہے، نہ کہ ویلیو چین میں شامل دیگر کاروباری اداروں کی۔ اس (بنیادی مسئلے) کو حل کیے بغیر، ’قانونی تعمیل کی لاگت کو کم کرنے کی کوششوں کا اثر بہت معمولی ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائت بزنس ریکاررڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280787</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Dec 2025 12:10:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/22115111c0c27f1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/22115111c0c27f1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
