<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 22:08:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 22:08:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موسمیاتی لچک کی جانب بڑا قدم، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان گرین کمپیکٹ کا آغاز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280785/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور برطانیہ نے یو کے- پاکستان گرین کمپیکٹ کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد موسمیاتی لچک میں اضافہ، صاف توانائی کے فروغ اور قدرتی حل خصوصاً مینگرووز کے تحفظ کو وسعت دینا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق معاہدے پر وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک اور برطانوی وزیر برائے بین الاقوامی ترقی جینیفر چیپمین نے دستخط کئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپیکٹ کے تحت ماحول دوست ترقی اور طویل مدتی موسمیاتی اقدامات کے لیے 35 ملین پاؤنڈ (44 ملین امریکی ڈالر) کی ہدفی امداد فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے حکام نے اس اقدام کو محض پالیسی مذاکرات سے عملی نفاذ کی جانب ایک قدم قرار دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جنوبی ایشیا میں موسمیاتی خطرات شدت اختیار کررہے ہیں۔ پاکستان کو اس خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ خطرے کا شکار ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین کمپیکٹ موسمیاتی فنانس، صاف توانائی کی منتقلی، قدرتی حل، نوجوانوں اور اختراع کی حوصلہ افزائی اور ماحولیاتی موافقت و لچک کے پانچ بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے مطابق اس فریم ورک کے تحت برطانیہ پاکستان کے ساتھ مل کر سرکاری اور نجی شعبے سے موسمیاتی فنانس  اکٹھا کرنے، ماحول دوست سرمایہ کاری کے لیے ریگولیٹری ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور بینکوں سے قرضہ حاصل کرنے کے اہل  موسمیاتی منصوبوں کی فہرست تیار کرنے کے لیے کام کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ عالمی مارکیٹ کے رجحانات نے قابلِ تجدید توانائی  کو لاگت کے لحاظ سے تیزی سے مقابلہ ساز بنا دیا ہے۔ شمسی توانائی اب فوسل فیولز (تیل، گیس اور کوئلہ) کے مقابلے میں نمایاں طور پر سستی ہو چکی ہے جبکہ ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی ٹیکنالوجی  بھی برتری حاصل کررہی ہے۔ یہ عوامل پاکستان کی جانب سے قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے معاشی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے تحت شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ مینگرووز کی بحالی پر بھی توجہ دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شراکت داری میں مینگرووز کی بحالی پر بھی زور دیا گیا ہے جو موسمیاتی جھٹکوں کے خلاف قدرتی دفاع کا کردار ادا کرتے ہیں، ساحلی لچک کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اور اقتصادی فوائد بھی فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جدت اور نوجوانوں کی شمولیت کو ترجیح دی جائے گی، جس میں ماحولیاتی سمجھ بوجھ رکھنے والی اسٹارٹ اپس اور نوجوان اختراعی افراد کے لیے رہنمائی، تکنیکی معاونت اور سرمایہ کاروں تک رسائی فراہم کی جائے گی تاکہ سبز معیشت میں مواقع کو بڑھایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے پہلے سرکاری دورے کے دوران برطانوی وزیر جینیفر چیپمین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی چیلنج ہے اور اس پر بروقت کارروائی نہ کرنے کی قیمت کہیں زیادہ ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور برطانیہ نے یو کے- پاکستان گرین کمپیکٹ کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد موسمیاتی لچک میں اضافہ، صاف توانائی کے فروغ اور قدرتی حل خصوصاً مینگرووز کے تحفظ کو وسعت دینا ہے۔</strong></p>
<p>وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق معاہدے پر وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک اور برطانوی وزیر برائے بین الاقوامی ترقی جینیفر چیپمین نے دستخط کئے۔</p>
<p>کمپیکٹ کے تحت ماحول دوست ترقی اور طویل مدتی موسمیاتی اقدامات کے لیے 35 ملین پاؤنڈ (44 ملین امریکی ڈالر) کی ہدفی امداد فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>دونوں ممالک کے حکام نے اس اقدام کو محض پالیسی مذاکرات سے عملی نفاذ کی جانب ایک قدم قرار دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جنوبی ایشیا میں موسمیاتی خطرات شدت اختیار کررہے ہیں۔ پاکستان کو اس خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ خطرے کا شکار ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>گرین کمپیکٹ موسمیاتی فنانس، صاف توانائی کی منتقلی، قدرتی حل، نوجوانوں اور اختراع کی حوصلہ افزائی اور ماحولیاتی موافقت و لچک کے پانچ بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے۔</p>
<p>وزارت کے مطابق اس فریم ورک کے تحت برطانیہ پاکستان کے ساتھ مل کر سرکاری اور نجی شعبے سے موسمیاتی فنانس  اکٹھا کرنے، ماحول دوست سرمایہ کاری کے لیے ریگولیٹری ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور بینکوں سے قرضہ حاصل کرنے کے اہل  موسمیاتی منصوبوں کی فہرست تیار کرنے کے لیے کام کرے گا۔</p>
<p>رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ عالمی مارکیٹ کے رجحانات نے قابلِ تجدید توانائی  کو لاگت کے لحاظ سے تیزی سے مقابلہ ساز بنا دیا ہے۔ شمسی توانائی اب فوسل فیولز (تیل، گیس اور کوئلہ) کے مقابلے میں نمایاں طور پر سستی ہو چکی ہے جبکہ ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی ٹیکنالوجی  بھی برتری حاصل کررہی ہے۔ یہ عوامل پاکستان کی جانب سے قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے معاشی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>معاہدے کے تحت شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ مینگرووز کی بحالی پر بھی توجہ دی جائے گی۔</p>
<p>اس شراکت داری میں مینگرووز کی بحالی پر بھی زور دیا گیا ہے جو موسمیاتی جھٹکوں کے خلاف قدرتی دفاع کا کردار ادا کرتے ہیں، ساحلی لچک کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اور اقتصادی فوائد بھی فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>جدت اور نوجوانوں کی شمولیت کو ترجیح دی جائے گی، جس میں ماحولیاتی سمجھ بوجھ رکھنے والی اسٹارٹ اپس اور نوجوان اختراعی افراد کے لیے رہنمائی، تکنیکی معاونت اور سرمایہ کاروں تک رسائی فراہم کی جائے گی تاکہ سبز معیشت میں مواقع کو بڑھایا جا سکے۔</p>
<p>اپنے پہلے سرکاری دورے کے دوران برطانوی وزیر جینیفر چیپمین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی چیلنج ہے اور اس پر بروقت کارروائی نہ کرنے کی قیمت کہیں زیادہ ہوگی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280785</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Dec 2025 11:28:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/221113244a46c19.webp" type="image/webp" medium="image" height="350" width="475">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/221113244a46c19.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
