<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان کو فتنہ الخوارج اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، فیلڈ مارشل عاصم منیر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280777/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے افغانستان کو واضح اور سخت انتباہ جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بینر تلے پاکستان میں دراندازی کرنے والے دہشت گردوں کی اکثریت افغان باشندوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کابل (افغان حکومت) پر زور دیا کہ وہ فتنہ الخوارج اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علماء و مشائخ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ افغانستان عسکریت پسندی کے معاملے پر اپنا مبہم رویہ برقرار نہیں رکھ سکتا، افغانستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے یا خوارج کے ساتھ۔۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے جامع خطاب میں آرمی چیف نے پاکستان کے داخلی سکیورٹی چیلنجز، علاقائی جغرافیائی سیاسی ماحول، فوجی تیاری اور قوم سازی میں دین وعلم کے کردار پر روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ وہ معاشرے جو اپنے علمی روایات اور آباؤ اجداد کی علمی وراثت کو ترک کرتے ہیں، تاریخی طور پر زوال پذیر ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دہشت گردی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عسکری تشدد پاکستان کے شہریوں، بشمول خواتین اور بچوں کے خلاف افغانستان کے طالبان کی حمایت کے ساتھ کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا کہ  فتنہ الخوارج کی جو تشکیلیں افغانستان سے آتی ہیں ان میں 70 فیصد افغانی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عسکریت پسندی کے مذہبی پہلو پر بات کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ اسلامی ریاست میں جہاد کا اعلان یا فتویٰ جاری کرنے کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ریاستی عناصر کی جانب سے اس اختیار کو اپنے لیے استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو اسلامی تعلیمات کی تحریف سمجھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیلڈ مارشل نے قرآن مجید کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں اور عالمی کردار کی وضاحت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان اور 1,400 سال قبل قائم ہونے والی اسلامی ریاست مدینہ کے درمیان مماثلتیں بیان کیں اور کہا کہ دونوں کا قیام رمضان  میں ہوا اور دونوں کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی جبکہ ہجرت نے ان کے قیام میں مرکزی کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دو مقدس مساجد کا محافظ ہونے کا شرف عطا کیا ہے، آپریشن بنیان المرصوص میں اللّٰہ کی مدد آتے ہوئے دیکھی اور محسوس کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی پشت پناہی سے دہشت گردی کے ذریعے ہمارے معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے افغانستان کو واضح اور سخت انتباہ جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بینر تلے پاکستان میں دراندازی کرنے والے دہشت گردوں کی اکثریت افغان باشندوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کابل (افغان حکومت) پر زور دیا کہ وہ فتنہ الخوارج اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔</strong></p>
<p>علماء و مشائخ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ افغانستان عسکریت پسندی کے معاملے پر اپنا مبہم رویہ برقرار نہیں رکھ سکتا، افغانستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے یا خوارج کے ساتھ۔۔</p>
<p>اپنے جامع خطاب میں آرمی چیف نے پاکستان کے داخلی سکیورٹی چیلنجز، علاقائی جغرافیائی سیاسی ماحول، فوجی تیاری اور قوم سازی میں دین وعلم کے کردار پر روشنی ڈالی۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ وہ معاشرے جو اپنے علمی روایات اور آباؤ اجداد کی علمی وراثت کو ترک کرتے ہیں، تاریخی طور پر زوال پذیر ہوچکے ہیں۔</p>
<p>فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دہشت گردی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عسکری تشدد پاکستان کے شہریوں، بشمول خواتین اور بچوں کے خلاف افغانستان کے طالبان کی حمایت کے ساتھ کیا جارہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے دعویٰ کیا کہ  فتنہ الخوارج کی جو تشکیلیں افغانستان سے آتی ہیں ان میں 70 فیصد افغانی شامل ہیں۔</p>
<p>عسکریت پسندی کے مذہبی پہلو پر بات کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ اسلامی ریاست میں جہاد کا اعلان یا فتویٰ جاری کرنے کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ریاستی عناصر کی جانب سے اس اختیار کو اپنے لیے استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو اسلامی تعلیمات کی تحریف سمجھا جائے گا۔</p>
<p>فیلڈ مارشل نے قرآن مجید کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں اور عالمی کردار کی وضاحت کی۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان اور 1,400 سال قبل قائم ہونے والی اسلامی ریاست مدینہ کے درمیان مماثلتیں بیان کیں اور کہا کہ دونوں کا قیام رمضان  میں ہوا اور دونوں کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی جبکہ ہجرت نے ان کے قیام میں مرکزی کردار ادا کیا۔</p>
<p>چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دو مقدس مساجد کا محافظ ہونے کا شرف عطا کیا ہے، آپریشن بنیان المرصوص میں اللّٰہ کی مدد آتے ہوئے دیکھی اور محسوس کی۔</p>
<p>فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی پشت پناہی سے دہشت گردی کے ذریعے ہمارے معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280777</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Dec 2025 09:55:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/220935402d26bb9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/220935402d26bb9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
