<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:09:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:09:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>این ایف سی میں خیبر پختونخوا کو اس کا واجب حصہ پہلے ہی مل رہا ہے، حکومت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280746/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت خزانہ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت اس کا مکمل اور واجب حصہ باقاعدگی سے فراہم کیا جا رہا ہے، جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ (وار آن ٹیرر) کے لیے مختص اضافی حصہ بھی شامل ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی حکومت صوبوں کو این ایف سی کے تحت رقوم ہر پندرہ دن بعد جاری کرتی ہے اور اس مد میں کوئی بقایا واجبات موجود نہیں ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے اپنے بیان میں وفاقی حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ اور اس سے ہٹ کر بھی بروقت، شفاف اور مسلسل مالی وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، تاکہ صوبے کی ترقی، مالی استحکام اور تنازعات کے بعد بحالی کے عمل میں مدد فراہم کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کا حصہ قابلِ تقسیم محاصل میں صوبائی حصے کا 14.62 فیصد طے کیا گیا تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران صوبے پر پڑنے والے غیر معمولی بوجھ کو تسلیم کرتے ہوئے، غیر منقسم قابلِ تقسیم محاصل میں سے اضافی ایک فیصد حصہ خصوصی طور پر خیبر پختونخوا کے لیے مختص کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ساتواں این ایف سی ایوارڈ ابتدا میں پانچ سال کے لیے نافذ کیا گیا تھا، تاہم آٹھویں، نویں اور دسویں این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث اسی فریم ورک پر عمل درآمد جاری رکھا گیا، جس کے تحت خیبر پختونخوا کو اب بھی اس کا مکمل اور اضافی حصہ فراہم کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے مطابق حالیہ طور پر 17 دسمبر 2025 کو خیبر پختونخوا حکومت کو 46.44 ارب روپے جاری کیے گئے، جو بروقت ادائیگی کے وفاقی عزم کا ثبوت ہے۔ جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک این ایف سی کے تحت قابلِ تقسیم محاصل میں سے مجموعی طور پر 5,867 ارب روپے صوبے کو منتقل کیے جا چکے ہیں، جبکہ اسی عرصے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں 705 ارب روپے فراہم کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، تیل و گیس رائلٹی، گیس ڈویلپمنٹ سرچارج اور قدرتی گیس پر ایکسائز ڈیوٹی سمیت دیگر مدات میں جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک 482.78 ارب روپے کے براہِ راست منتقلیاں بھی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ نے مزید بتایا کہ سابق فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد، نظرثانی شدہ این ایف سی فارمولے کی عدم موجودگی میں وفاقی حکومت نے نئے ضم شدہ اضلاع کے اخراجات اپنی این ایف سی حصے سے پورے کیے، جس کے تحت 2019 سے اب تک 704 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بے گھر افراد کی مدد کے لیے 117.166 ارب روپے اور وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت گزشتہ پندرہ برس میں 115 ارب روپے مختص کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مالی سال 2016 سے 2025 کے دوران خیبر پختونخوا میں 481.433 ارب روپے کی نقد معاونت فراہم کی گئی۔ وزارتِ خزانہ نے کہا کہ وفاقی حکومت منصفانہ وسائل کی تقسیم، مالی وفاقیت اور خیبر پختونخوا کی مسلسل معاونت کے لیے پرعزم ہے، جبکہ 11ویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت سابق فاٹا کے حصے سے متعلق امور کو باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت خزانہ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت اس کا مکمل اور واجب حصہ باقاعدگی سے فراہم کیا جا رہا ہے، جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ (وار آن ٹیرر) کے لیے مختص اضافی حصہ بھی شامل ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی حکومت صوبوں کو این ایف سی کے تحت رقوم ہر پندرہ دن بعد جاری کرتی ہے اور اس مد میں کوئی بقایا واجبات موجود نہیں ہیں۔</strong></p>
<p>وزارتِ خزانہ نے اپنے بیان میں وفاقی حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ اور اس سے ہٹ کر بھی بروقت، شفاف اور مسلسل مالی وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، تاکہ صوبے کی ترقی، مالی استحکام اور تنازعات کے بعد بحالی کے عمل میں مدد فراہم کی جا سکے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کا حصہ قابلِ تقسیم محاصل میں صوبائی حصے کا 14.62 فیصد طے کیا گیا تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران صوبے پر پڑنے والے غیر معمولی بوجھ کو تسلیم کرتے ہوئے، غیر منقسم قابلِ تقسیم محاصل میں سے اضافی ایک فیصد حصہ خصوصی طور پر خیبر پختونخوا کے لیے مختص کیا گیا تھا۔</p>
<p>اگرچہ ساتواں این ایف سی ایوارڈ ابتدا میں پانچ سال کے لیے نافذ کیا گیا تھا، تاہم آٹھویں، نویں اور دسویں این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث اسی فریم ورک پر عمل درآمد جاری رکھا گیا، جس کے تحت خیبر پختونخوا کو اب بھی اس کا مکمل اور اضافی حصہ فراہم کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کے مطابق حالیہ طور پر 17 دسمبر 2025 کو خیبر پختونخوا حکومت کو 46.44 ارب روپے جاری کیے گئے، جو بروقت ادائیگی کے وفاقی عزم کا ثبوت ہے۔ جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک این ایف سی کے تحت قابلِ تقسیم محاصل میں سے مجموعی طور پر 5,867 ارب روپے صوبے کو منتقل کیے جا چکے ہیں، جبکہ اسی عرصے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں 705 ارب روپے فراہم کیے گئے۔</p>
<p>اس کے علاوہ، تیل و گیس رائلٹی، گیس ڈویلپمنٹ سرچارج اور قدرتی گیس پر ایکسائز ڈیوٹی سمیت دیگر مدات میں جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک 482.78 ارب روپے کے براہِ راست منتقلیاں بھی کی گئی۔</p>
<p>وزارت خزانہ نے مزید بتایا کہ سابق فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد، نظرثانی شدہ این ایف سی فارمولے کی عدم موجودگی میں وفاقی حکومت نے نئے ضم شدہ اضلاع کے اخراجات اپنی این ایف سی حصے سے پورے کیے، جس کے تحت 2019 سے اب تک 704 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بے گھر افراد کی مدد کے لیے 117.166 ارب روپے اور وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت گزشتہ پندرہ برس میں 115 ارب روپے مختص کیے گئے۔</p>
<p>بیان کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مالی سال 2016 سے 2025 کے دوران خیبر پختونخوا میں 481.433 ارب روپے کی نقد معاونت فراہم کی گئی۔ وزارتِ خزانہ نے کہا کہ وفاقی حکومت منصفانہ وسائل کی تقسیم، مالی وفاقیت اور خیبر پختونخوا کی مسلسل معاونت کے لیے پرعزم ہے، جبکہ 11ویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت سابق فاٹا کے حصے سے متعلق امور کو باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280746</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Dec 2025 09:34:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/21093043be63fc0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/21093043be63fc0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
