<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ اور پنجاب میں جعلی اور ملاوٹ شدہ زرعی دواؤں کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرچکا، سی سی پی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280733/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ اور پنجاب میں جعلی اور ملاوٹ شدہ کیڑے مار دوائیں عام ہیں جو نہ صرف فصلوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں، کسانوں کو مالی نقصان میں مبتلا کر رہی ہیں بلکہ مارکیٹ میں مسابقت کو بھی متاثر کررہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی نے ہفتہ کو زرعی ادویات اور کیڑے مار اسپرے کی مارکیٹ سے متعلق جامع جائزہ رپورٹ جاری کردی جس میں اس شعبے میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ وسیع اور بڑھتی ہوئی زرعی مارکیٹ کے باوجود پاکستان میں کیڑے مار ادویات کی کوئی مقامی پیداوار نہیں اور ملک پوری طرح درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن کا کہنا ہے کہ قوانین کے کمزور نفاذ اور پیچیدہ منظوری نظام نے زرعی ادویات کے شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب اور سندھ میں جعلی اور ملاوٹ شدہ زرعی زہروں کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرچکا ہے جبکہ دو سالہ شیلف لائف کی شرط کے باعث بڑی مقدار میں زرعی ادویات غیر ضروری طور پر ضائع ہورہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق صوبائی لیبارٹریوں میں صلاحیت کی کمی اور تربیت یافتہ عملے کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کا فائدہ جعلساز اٹھا رہے ہیں۔ کمیشن نے نشاندہی کی کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی اور صوبائی اختیارات میں اوورلیپ کے باعث بھی مؤثر ریگولیٹری نظام متاثر ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپٹیشن کمیشن نے زرعی اسپرے کے قوانین بہتر بنانے، منظوری کے عمل کو آسان اور تیز کرنے، اور جعلی زرعی مصنوعات کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مقامی پیداوار کو فروغ دینے اور ملکی آب و ہوا کے مطابق زرعی ادویات تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں زرعی گریجویٹس کو لائسنس یافتہ ڈسٹری بیوٹر بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ سی سی پی کے مطابق مؤثر نفاذ کے ذریعے زرعی مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ دیا جاسکتا ہے اور کسانوں کو بہتر تحفظ فراہم کرنا ممکن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ اور پنجاب میں جعلی اور ملاوٹ شدہ کیڑے مار دوائیں عام ہیں جو نہ صرف فصلوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں، کسانوں کو مالی نقصان میں مبتلا کر رہی ہیں بلکہ مارکیٹ میں مسابقت کو بھی متاثر کررہی ہیں۔</strong></p>
<p>سی سی پی نے ہفتہ کو زرعی ادویات اور کیڑے مار اسپرے کی مارکیٹ سے متعلق جامع جائزہ رپورٹ جاری کردی جس میں اس شعبے میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔</p>
<p>رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ وسیع اور بڑھتی ہوئی زرعی مارکیٹ کے باوجود پاکستان میں کیڑے مار ادویات کی کوئی مقامی پیداوار نہیں اور ملک پوری طرح درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔</p>
<p>کمیشن کا کہنا ہے کہ قوانین کے کمزور نفاذ اور پیچیدہ منظوری نظام نے زرعی ادویات کے شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔</p>
<p>سی سی پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب اور سندھ میں جعلی اور ملاوٹ شدہ زرعی زہروں کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرچکا ہے جبکہ دو سالہ شیلف لائف کی شرط کے باعث بڑی مقدار میں زرعی ادویات غیر ضروری طور پر ضائع ہورہی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق صوبائی لیبارٹریوں میں صلاحیت کی کمی اور تربیت یافتہ عملے کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کا فائدہ جعلساز اٹھا رہے ہیں۔ کمیشن نے نشاندہی کی کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی اور صوبائی اختیارات میں اوورلیپ کے باعث بھی مؤثر ریگولیٹری نظام متاثر ہوا ہے۔</p>
<p>کمپٹیشن کمیشن نے زرعی اسپرے کے قوانین بہتر بنانے، منظوری کے عمل کو آسان اور تیز کرنے، اور جعلی زرعی مصنوعات کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مقامی پیداوار کو فروغ دینے اور ملکی آب و ہوا کے مطابق زرعی ادویات تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔</p>
<p>مزید برآں زرعی گریجویٹس کو لائسنس یافتہ ڈسٹری بیوٹر بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ سی سی پی کے مطابق مؤثر نفاذ کے ذریعے زرعی مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ دیا جاسکتا ہے اور کسانوں کو بہتر تحفظ فراہم کرنا ممکن ہوگا۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280733</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Dec 2025 16:13:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/2016094417e6c29.webp" type="image/webp" medium="image" height="410" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/2016094417e6c29.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
