<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوگل کا امریکی ویزا رکھنے والے ملازمین کو بیرونِ ملک سفر سے گریز کرنے کا مشورہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280732/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بزنس انسائیڈر نے جمعہ کو ایک اندرونی ای میل کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ الفابیٹ کی ذیلی کمپنی گوگل نے امریکی ویزوں پر مقیم اپنے بعض ملازمین کو سفارت خانوں میں تاخیری عمل کے باعث بین الاقوامی سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق  کمپنی کے بیرونی قانونی مشیر بی اے ایل امیگریشن لا کی جانب سے بھیجی گئی ای میل میں اُن ملازمین کو خبردار کیا گیا ہے جنہیں امریکا میں دوبارہ داخلے کے لیے ویزا اسٹیمپ  کی ضرورت ہوتی ہے، ویزا پراسیسنگ کے اوقات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اس میمومیں بتایا گیا کہ بعض امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں ویزا انٹرویو کے لیے اپوائنٹمنٹ ملنے میں 12 ماہ تک کی تاخیر کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی سفر کی صورت میں امریکا سے باہر طویل قیام کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسی ماہ ہنر مند ورکرز کے لیے ایچ ون بی  ویزا کے درخواست گزاروں کی جانچ پڑتال  سخت کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی اسکریننگ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ ون بی ویزا پروگرام، جو امریکی ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھارت اور چین سے ہنر مند کارکنوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس سال ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئی درخواستوں پر 1 لاکھ ڈالر فیس عائد کیے جانے کے بعد سے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق، ستمبر میں گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ نے اپنے ملازمین کو سختی سے مشورہ دیا تھا کہ وہ بین الاقوامی سفر سے گریز کریں اور ایچ ون بی ویزا رکھنے والے ملازمین کو امریکا ہی میں قیام کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بزنس انسائیڈر نے جمعہ کو ایک اندرونی ای میل کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ الفابیٹ کی ذیلی کمپنی گوگل نے امریکی ویزوں پر مقیم اپنے بعض ملازمین کو سفارت خانوں میں تاخیری عمل کے باعث بین الاقوامی سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق  کمپنی کے بیرونی قانونی مشیر بی اے ایل امیگریشن لا کی جانب سے بھیجی گئی ای میل میں اُن ملازمین کو خبردار کیا گیا ہے جنہیں امریکا میں دوبارہ داخلے کے لیے ویزا اسٹیمپ  کی ضرورت ہوتی ہے، ویزا پراسیسنگ کے اوقات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔</p>
<p>گوگل نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اس میمومیں بتایا گیا کہ بعض امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں ویزا انٹرویو کے لیے اپوائنٹمنٹ ملنے میں 12 ماہ تک کی تاخیر کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی سفر کی صورت میں امریکا سے باہر طویل قیام کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسی ماہ ہنر مند ورکرز کے لیے ایچ ون بی  ویزا کے درخواست گزاروں کی جانچ پڑتال  سخت کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی اسکریننگ بھی شامل ہے۔</p>
<p>ایچ ون بی ویزا پروگرام، جو امریکی ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھارت اور چین سے ہنر مند کارکنوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس سال ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئی درخواستوں پر 1 لاکھ ڈالر فیس عائد کیے جانے کے بعد سے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق، ستمبر میں گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ نے اپنے ملازمین کو سختی سے مشورہ دیا تھا کہ وہ بین الاقوامی سفر سے گریز کریں اور ایچ ون بی ویزا رکھنے والے ملازمین کو امریکا ہی میں قیام کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280732</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Dec 2025 15:49:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/20153556cbc3b3a.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/20153556cbc3b3a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
