<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اب بھی ایک چیلنج</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280729/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ (جولائی تا نومبر) کے  دوران  براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  کے ابتدائی اعداد و شمار جاری کیے ہیں جو 1,474.2 ملین امریکی ڈالر رہے جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ رقم 2,151.9 ملین امریکی ڈالر تھی۔ اسی دوران سرمایہ کاری کے اخراج کا تخمینہ 546.8 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا جو پچھلے سال اسی مدت میں 909.5 ملین امریکی ڈالر تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جائزہ لیے گئے دونوں ادوار میں نجکاری کی آمدن کو غیر واضح طور پر صفر بتایا گیا حالانکہ وزیرِ اعظم نے پہلی ویمن بینک کی فروخت کا اعلان ایک ابوظہبی میں واقع انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی کو کیا تھا۔ بینک کی قیمت 14.6 ملین امریکی ڈالر (تقریباً 4.1 ارب روپے) تھی تاہم اصل فروخت کی رقم ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کا دوسرا جائزہ اور سسٹین ایبلٹی ریزیلینس فیسلٹی (ایس آر ایف) کا پہلا جائزہ پیش کرتے ہوئے موجودہ مالی سال میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری کا اندازہ جی ڈی پی کے 0.5 فیصد کے طور پر لگایا ہے، جو گزشتہ مالی سال میں 0.6 فیصد تھا۔ تاہم آئی ایم ایف نے یہ بھی نوٹ کیا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کو غیر ملکی سرمایہ کاری کی سہولت کے لیے وسیع اختیارات دیے گئے ہیں لیکن یہ کونسل شفافیت اور جوابدہی کے ایسے ضوابط کے تحت کام کر رہی ہے جن کا ابھی (عملی طور پر) تجربہ نہیں کیا گیا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے عملے نے رپورٹ میں واضح طور پر یہ شرط رکھی ہے کہ حکومت خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ذریعے آنے والی غیر ملکی سرمایہ کاری اور اس سے وابستہ کسی بھی قسم کی مانیٹری یا مالیاتی مراعات کی مکمل نشاندہی اور وضاحت کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانشل اینڈ اکنامک پالیسیز کی یادداشت حکومت کو کارکردگی بہتر بنانے اور سرمایہ کاری کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کا پابند بناتی ہے اور اسے کسی بھی نئی مالیاتی مراعات جیسے ٹیکس چھوٹ یا سبسڈی (بشمول بینک کریڈٹ پر رعایت) فراہم کرنے سے روکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت نے 25 ارب امریکی ڈالر سے زائد کے مفاہمتی یادداشتوں  پر دستخط کیے ہیں، تاہم ان کا باضابطہ معاہدوں میں تبدیل ہونا ابھی زیر التوا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی و سیاسی اہمیت حالیہ مہینوں میں کئی گنا بڑھ گئی ہے جس کا عکس وزیرِاعظم اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے غیر ملکی دوروں سے بھی ظاہر ہوتا ہے تاہم یہ ابھی تک غیر ملکی سرمایہ کاری میں تبدیل نہیں ہوا، ممکنہ طور پر اس لیے کہ ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول پرکشش نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک اصلاحات کے مثبت اثرات ظاہر نہیں ہوتے اس وقت تک غیر ملکی سرمایہ کاری پر زور دینے کے بجائے ماضی کے قرضوں کی معافی یا انہیں ختم کرانے کی کوشش کرنا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے نوٹ کیا کہ نومبر میں کرنٹ اکاؤنٹ کا توازن سرپلس میں رہا؛ تاہم قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ:(i) جولائی تا نومبر 2024 میں کرنٹ اکاونٹ کا بیلنس مثبت 503 ملین ڈالر رہا جبکہ اسی مدت میں اس سال یہ منفی 812 ملین ڈالر رہا؛(ii) تجارتی خسارہ   پچھلے سال جولائی تا نومبر میں منفی 9,799 ملین ڈالر تھا جبکہ اسی مدت میں اس سال منفی 12,769 ملین ڈالر رہا؛(iii) سروسز کی تجارت پچھلے سال منفی 1,280 ملین ڈالر رہی جبکہ اس سال منفی 1,316 ملین ڈالر رہی؛(iv) ترسیلاتِ زر پچھلے سال 14,767 ملین ڈالر سے بڑھ کر اس سال 16,145 ملین ڈالر ہو گئیں  جسے وزیر اعظم نے برین گین کے طور پر بیان کیا، نہ کہ برین ڈرین کے طور پر، حالانکہ فنڈ کی رپورٹ کے مطابق، توقع ہے کہ ترسیلاتِ زر کا بہاؤ مستقبل میں معتدل سطح کی جانب جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلاصہ یہ کہ میکرو اکنامک اشاریے ابھی تک اس دعوے کی تصدیق نہیں کرتے کہ معیشت اپنی نازک صورتحال سے نکل گئی ہے، یہ ایک ایسا جائزہ ہے جس کی تائید کارخانوں کی بندش میں اضافے، دہائیوں سے ملک میں کام کرنے والی کثیر القومی کمپنیوں کے انخلا، بے روزگاری میں اضافے اور نجی شعبے کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے میں ناکامی سے ہوتی ہے جبکہ حکومت نے ٹیکس دہندگان کے خرچ پر پلنے والے کل ملازمین کے 7 فیصد حصے کی تنخواہوں میں مستقل اضافہ کیا ہے؛ مزید یہ کہ حکومت اشرافیہ کے قبضے کے خلاف مزاحمت میں ناکام رہی ہے جس کی عکاسی حال ہی میں اپریل 2025 کے اس نوٹیفکیشن کی واپسی سے ہوئی جس میں دوبارہ ملازمت پانے والے پنشنرز کو یا تو پنشن یا تنخواہ (دونوں میں سے ایک) لینے کا اختیار دیا گیا تھا نہ کہ دونوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ (جولائی تا نومبر) کے  دوران  براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  کے ابتدائی اعداد و شمار جاری کیے ہیں جو 1,474.2 ملین امریکی ڈالر رہے جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ رقم 2,151.9 ملین امریکی ڈالر تھی۔ اسی دوران سرمایہ کاری کے اخراج کا تخمینہ 546.8 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا جو پچھلے سال اسی مدت میں 909.5 ملین امریکی ڈالر تھا۔</strong></p>
<p>جائزہ لیے گئے دونوں ادوار میں نجکاری کی آمدن کو غیر واضح طور پر صفر بتایا گیا حالانکہ وزیرِ اعظم نے پہلی ویمن بینک کی فروخت کا اعلان ایک ابوظہبی میں واقع انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی کو کیا تھا۔ بینک کی قیمت 14.6 ملین امریکی ڈالر (تقریباً 4.1 ارب روپے) تھی تاہم اصل فروخت کی رقم ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی۔</p>
<p>اس سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کا دوسرا جائزہ اور سسٹین ایبلٹی ریزیلینس فیسلٹی (ایس آر ایف) کا پہلا جائزہ پیش کرتے ہوئے موجودہ مالی سال میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری کا اندازہ جی ڈی پی کے 0.5 فیصد کے طور پر لگایا ہے، جو گزشتہ مالی سال میں 0.6 فیصد تھا۔ تاہم آئی ایم ایف نے یہ بھی نوٹ کیا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کو غیر ملکی سرمایہ کاری کی سہولت کے لیے وسیع اختیارات دیے گئے ہیں لیکن یہ کونسل شفافیت اور جوابدہی کے ایسے ضوابط کے تحت کام کر رہی ہے جن کا ابھی (عملی طور پر) تجربہ نہیں کیا گیا ۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے عملے نے رپورٹ میں واضح طور پر یہ شرط رکھی ہے کہ حکومت خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ذریعے آنے والی غیر ملکی سرمایہ کاری اور اس سے وابستہ کسی بھی قسم کی مانیٹری یا مالیاتی مراعات کی مکمل نشاندہی اور وضاحت کرے۔</p>
<p>فنانشل اینڈ اکنامک پالیسیز کی یادداشت حکومت کو کارکردگی بہتر بنانے اور سرمایہ کاری کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کا پابند بناتی ہے اور اسے کسی بھی نئی مالیاتی مراعات جیسے ٹیکس چھوٹ یا سبسڈی (بشمول بینک کریڈٹ پر رعایت) فراہم کرنے سے روکتی ہے۔</p>
<p>اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت نے 25 ارب امریکی ڈالر سے زائد کے مفاہمتی یادداشتوں  پر دستخط کیے ہیں، تاہم ان کا باضابطہ معاہدوں میں تبدیل ہونا ابھی زیر التوا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی و سیاسی اہمیت حالیہ مہینوں میں کئی گنا بڑھ گئی ہے جس کا عکس وزیرِاعظم اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے غیر ملکی دوروں سے بھی ظاہر ہوتا ہے تاہم یہ ابھی تک غیر ملکی سرمایہ کاری میں تبدیل نہیں ہوا، ممکنہ طور پر اس لیے کہ ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول پرکشش نہیں ہے۔</p>
<p>جب تک اصلاحات کے مثبت اثرات ظاہر نہیں ہوتے اس وقت تک غیر ملکی سرمایہ کاری پر زور دینے کے بجائے ماضی کے قرضوں کی معافی یا انہیں ختم کرانے کی کوشش کرنا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے نوٹ کیا کہ نومبر میں کرنٹ اکاؤنٹ کا توازن سرپلس میں رہا؛ تاہم قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ:(i) جولائی تا نومبر 2024 میں کرنٹ اکاونٹ کا بیلنس مثبت 503 ملین ڈالر رہا جبکہ اسی مدت میں اس سال یہ منفی 812 ملین ڈالر رہا؛(ii) تجارتی خسارہ   پچھلے سال جولائی تا نومبر میں منفی 9,799 ملین ڈالر تھا جبکہ اسی مدت میں اس سال منفی 12,769 ملین ڈالر رہا؛(iii) سروسز کی تجارت پچھلے سال منفی 1,280 ملین ڈالر رہی جبکہ اس سال منفی 1,316 ملین ڈالر رہی؛(iv) ترسیلاتِ زر پچھلے سال 14,767 ملین ڈالر سے بڑھ کر اس سال 16,145 ملین ڈالر ہو گئیں  جسے وزیر اعظم نے برین گین کے طور پر بیان کیا، نہ کہ برین ڈرین کے طور پر، حالانکہ فنڈ کی رپورٹ کے مطابق، توقع ہے کہ ترسیلاتِ زر کا بہاؤ مستقبل میں معتدل سطح کی جانب جائے گا۔</p>
<p>خلاصہ یہ کہ میکرو اکنامک اشاریے ابھی تک اس دعوے کی تصدیق نہیں کرتے کہ معیشت اپنی نازک صورتحال سے نکل گئی ہے، یہ ایک ایسا جائزہ ہے جس کی تائید کارخانوں کی بندش میں اضافے، دہائیوں سے ملک میں کام کرنے والی کثیر القومی کمپنیوں کے انخلا، بے روزگاری میں اضافے اور نجی شعبے کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے میں ناکامی سے ہوتی ہے جبکہ حکومت نے ٹیکس دہندگان کے خرچ پر پلنے والے کل ملازمین کے 7 فیصد حصے کی تنخواہوں میں مستقل اضافہ کیا ہے؛ مزید یہ کہ حکومت اشرافیہ کے قبضے کے خلاف مزاحمت میں ناکام رہی ہے جس کی عکاسی حال ہی میں اپریل 2025 کے اس نوٹیفکیشن کی واپسی سے ہوئی جس میں دوبارہ ملازمت پانے والے پنشنرز کو یا تو پنشن یا تنخواہ (دونوں میں سے ایک) لینے کا اختیار دیا گیا تھا نہ کہ دونوں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280729</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Dec 2025 15:01:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/2014390676486db.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/2014390676486db.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
