<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اینگرو نے ٹیلی کام ٹاورز کے کاروبار کیلئے 475 ملین ڈالر کی اسلامک فنانسنگ حاصل کرلی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280728/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے سب سے بڑے کاروباری گروپس میں سے ایک، اینگرو نے اپنے ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے 475 ملین ڈالر (133 ارب روپے) کے ایک بڑے سودے پر عملدرآمد مکمل کرلیا ہے۔ اس لین دین کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی مکمل فنانسنگ (100 فیصد) اسلامک بینکنگ کے ذریعے کی گئی ہے جو کہ پاکستان کے سب سے بڑے شریعت کے مطابق ہونے والے سودوں میں سے ایک ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینگرو گروپ نے ہفتہ کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا کہ اس فنڈنگ  کے نتیجے میں دیودار اور اس کے 10 ہزار سے زائد ٹیلی کام ٹاورز اینگرو کے پورٹ فولیو میں شامل ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب کے دوران گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں داؤد فیملی اور اینگرو، اسلامک بینکرز اور روایتی بینکوں (جنہوں نے اپنی اسلامک ونڈوز کے ذریعے حصہ لیا) کو اتنے بڑے حجم کا سودا پایہ تکمیل تک پہنچانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا یہ ایک بڑی کامیابی ہے جو بینکوں کی حمایت سے ممکن ہوئی لیکن اس کا کریڈٹ حسین داؤد اور ان کے خاندان کو بھی جاتا ہے جنہوں نے اسے اسلامی بینکاری کے ذریعے فنڈ کروانے کا عزم دکھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر اسٹیٹ بینک نے اس مشترکہ کوشش کی تعریف کی اور ڈیجیٹل فنانس کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے وژن کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مالیاتی شمولیت کو ممکن بنانے کے لیے ٹیلی کام کنیکٹیویٹی کے کلیدی کردار پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینگرو کے مطابق مشترکہ ٹیلی کام انفرااسٹرکچر جہاں ایک ہی ٹاور متعدد موبائل نیٹ ورک آپریٹرز کو خدمات فراہم کرتا ہے، ایک ایسا کم لاگت (کفایتی) ماڈل پیش کرتا ہے جو پاکستان کے لیے ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق ایک ٹاور کی تنصیب پر تقریباً 50,000 ڈالر لاگت آتی ہے، لہٰذا اس کے مشترکہ استعمال سے ایک ہی جگہ پر بار بار سرمایہ کاری سے بچا جا سکتا ہے اور قیمتی وسائل کو دیگر بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے وقف کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، کمپنی کا کہنا ہے کہ اس بات کو یقینی بنا کر کہ یہ اہم بنیادی ڈھانچہ مقامی ملکیت میں رہے، پاکستان اپنے ڈیجیٹل مستقبل کو خود سنوارنے اور اسے کنٹرول کرنے کی صلاحیت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینگرو نے اس معاملے میں شریک بینکوں بالخصوص یوبی ایل اور میزان بینک کے تعاون کی بھرپور تائید اور تعریف کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر اینگرو کے چیئرمین حسین داؤد نے کہا کہ ہم کردار پر مبنی قیادت کا مظاہرہ کرکے اس سودے کو مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے سب سے بڑے کاروباری گروپس میں سے ایک، اینگرو نے اپنے ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے 475 ملین ڈالر (133 ارب روپے) کے ایک بڑے سودے پر عملدرآمد مکمل کرلیا ہے۔ اس لین دین کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی مکمل فنانسنگ (100 فیصد) اسلامک بینکنگ کے ذریعے کی گئی ہے جو کہ پاکستان کے سب سے بڑے شریعت کے مطابق ہونے والے سودوں میں سے ایک ہے۔</strong></p>
<p>اینگرو گروپ نے ہفتہ کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا کہ اس فنڈنگ  کے نتیجے میں دیودار اور اس کے 10 ہزار سے زائد ٹیلی کام ٹاورز اینگرو کے پورٹ فولیو میں شامل ہوگئے ہیں۔</p>
<p>تقریب کے دوران گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں داؤد فیملی اور اینگرو، اسلامک بینکرز اور روایتی بینکوں (جنہوں نے اپنی اسلامک ونڈوز کے ذریعے حصہ لیا) کو اتنے بڑے حجم کا سودا پایہ تکمیل تک پہنچانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔</p>
<p>انہوں نے کہا یہ ایک بڑی کامیابی ہے جو بینکوں کی حمایت سے ممکن ہوئی لیکن اس کا کریڈٹ حسین داؤد اور ان کے خاندان کو بھی جاتا ہے جنہوں نے اسے اسلامی بینکاری کے ذریعے فنڈ کروانے کا عزم دکھایا۔</p>
<p>گورنر اسٹیٹ بینک نے اس مشترکہ کوشش کی تعریف کی اور ڈیجیٹل فنانس کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے وژن کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مالیاتی شمولیت کو ممکن بنانے کے لیے ٹیلی کام کنیکٹیویٹی کے کلیدی کردار پر بھی زور دیا۔</p>
<p>اینگرو کے مطابق مشترکہ ٹیلی کام انفرااسٹرکچر جہاں ایک ہی ٹاور متعدد موبائل نیٹ ورک آپریٹرز کو خدمات فراہم کرتا ہے، ایک ایسا کم لاگت (کفایتی) ماڈل پیش کرتا ہے جو پاکستان کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق ایک ٹاور کی تنصیب پر تقریباً 50,000 ڈالر لاگت آتی ہے، لہٰذا اس کے مشترکہ استعمال سے ایک ہی جگہ پر بار بار سرمایہ کاری سے بچا جا سکتا ہے اور قیمتی وسائل کو دیگر بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے وقف کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، کمپنی کا کہنا ہے کہ اس بات کو یقینی بنا کر کہ یہ اہم بنیادی ڈھانچہ مقامی ملکیت میں رہے، پاکستان اپنے ڈیجیٹل مستقبل کو خود سنوارنے اور اسے کنٹرول کرنے کی صلاحیت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔</p>
<p>اینگرو نے اس معاملے میں شریک بینکوں بالخصوص یوبی ایل اور میزان بینک کے تعاون کی بھرپور تائید اور تعریف کی۔</p>
<p>اس موقع پر اینگرو کے چیئرمین حسین داؤد نے کہا کہ ہم کردار پر مبنی قیادت کا مظاہرہ کرکے اس سودے کو مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280728</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Dec 2025 14:32:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/2014142633d60bb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/2014142633d60bb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
