<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی واجبات: خیبر پختونخوا کو 6.57 ٹریلین ادا کردیے، وزارتِ خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280724/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق خیبرپختونخوا نے جولائی 2010 سے فیڈرل ڈیویژبل پول سے مجموعی طور پر 6.57 ٹریلین روپے وصول کیے ہیں، اس رقم میں صوبے کا این ایف سی  ایوارڈ کے تحت باقاعدہ حصہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات کی مد میں دیا جانے والا اضافی معاوضہ بھی شامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے مطابق جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا (کے پی) کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت اس کے حصہ کے طور پر 5,867 ارب روپے منتقل کیے جبکہ صوبے کے جنگِ دہشت گردی سے متعلق اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اضافی 705 ارب روپے بھی فراہم کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان کے مطابق ساتویں این ایف سی  ایوارڈ کے تحت وفاقی قابلِ تقسیم پول میں صوبوں کے مجموعی حصے میں سے خیبر پختونخوا کا حصہ 14.62 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران صوبے پر پڑنے والے غیر معمولی بوجھ کے اعتراف میں غیر منقسم تقسیم پذیر فنڈ کے اضافی 1 فیصد حصے کو خصوصی طور پر خیبر پختونخوا کے لیے مختص کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ اصل میں 5 سال کی مدت کے لیے بنایا گیا تھا تاہم بعد کے این ایف سی ایوارڈز (آٹھواں، نواں اور دسواں) پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے فریم ورک کو جاری رکھنا ضروری ہوگیا۔ اسی طرح، خیبر پختونخوا کو اس کا واجب حصہ موصول ہوتا رہا جس میں جنگِ دہشت گردی کے لیے اضافی مختص شدہ رقم بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے مطابق وفاقی حکومت صوبوں کو این ایف سی کے حصے دو ہفتے کی بنیاد پر جاری کرتی رہی ہے اور اس حوالے سے کوئی بقایا واجبات موجود نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ حال ہی میں 17 دسمبر 2025 کو خیبر پختونخوا حکومت  کو 46.44 ارب روپے کی رقم جاری کی گئی جو وفاقی حکومت کی بروقت ادائیگی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے کہا کہ این ایف سی کے علاوہ، وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کو براہِ راست منتقلیوں کا بھی بلا تعطل سلسلہ یقینی بنایا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک تیل اور قدرتی گیس پر رائلٹی، گیس ڈویلپمنٹ سرچارج، قدرتی گیس پر ایکسائز ڈیوٹی اور دیگر متعلقہ عنوانات کے تحت 482.78 ارب روپے منتقل کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے این ایف سی کے دائرہ کار سے آگے جا کر خیبر پختونخوا کو خاطر خواہ مالی معاونت فراہم کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے کہا کہ سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے بعد اور این ایف سی کے نئے فارمولے کی غیر موجودگی میں، وفاقی حکومت نے نئے ضم شدہ اضلاع کے اخراجات اپنے این ایف سی حصے سے پورے کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 سے اب تک نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے خیبر پختونخوا حکومت  کو 704 ارب روپے منتقل کیے گئے جبکہ اندرونِ ملک منتقل ہونے والے افراد  کی حمایت کے لیے اضافی 117.166 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ آئینی اختیارات کی منتقلی کے باوجود وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کی فلاح و ترقی میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام سے صوبائی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے خیبر پختونخوا کو 115 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینظیر انکم سپورٹ پروگرام  کے ذریعے مالی سال 2016–25 کے دوران خیبر پختونخوا میں غیر مشروط اور مشروط کیش ٹرانسفرز پر 481.433 ارب روپے خرچ کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے یہ بھی بتایا کہ وفاقی حکومت این ایف سی کے فریم ورک کو مشاورت کے ذریعے مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیارہویں این ایف سی کو 22 اگست 2025 کو صدرِ پاکستان نے تشکیل دیا اور اس کا پہلا اجلاس 4 دسمبر 2025 کو ہوا۔ اجلاس کے دوران سابقہ فاٹا/نئے ضم شدہ اضلاع کے انضمام اور تقسیم ہونے والے فنڈز میں ان کے حصے کے حوالے سے سفارشات دینے کے لیے ایک مخصوص ذیلی گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا حکومت کی درخواست پر اس ذیلی گروپ کا پہلا اجلاس 23 دسمبر 2025 کو مقرر کیا گیا ہے جس میں خیبر پختونخوا کے وزیرِ خزانہ بطور مقررہ کنوینر خدمات انجام دیں گے جو زیر التوا مالی امور کے حل کے لیے باہمی اور شفاف انداز کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے دوبارہ واضح کیا کہ وفاقی حکومت منصفانہ وسائل کی تقسیم، مالیاتی وفاقیت اور خیبر پختونخوا کے لیے مستقل معاونت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے تاکہ صوبائی ضروریات، خصوصاً سلامتی کے چیلنجز، بے دخلی اور انتظامی انضمام سے پیدا ہونے والی ضروریات کو بروقت اور ذمہ داری کے ساتھ پورا کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند روز قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا پر نیٹ ہائیڈل منافع  کے طور پر 2,200 ارب روپے سے زائد واجب الادا ہے جبکہ سابقہ فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے این ایف سی کے تحت 1,375 ارب روپے کی اضافی ادائیگی باقی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق خیبرپختونخوا نے جولائی 2010 سے فیڈرل ڈیویژبل پول سے مجموعی طور پر 6.57 ٹریلین روپے وصول کیے ہیں، اس رقم میں صوبے کا این ایف سی  ایوارڈ کے تحت باقاعدہ حصہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات کی مد میں دیا جانے والا اضافی معاوضہ بھی شامل ہے۔</strong></p>
<p>وزارتِ خزانہ کے مطابق جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا (کے پی) کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت اس کے حصہ کے طور پر 5,867 ارب روپے منتقل کیے جبکہ صوبے کے جنگِ دہشت گردی سے متعلق اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اضافی 705 ارب روپے بھی فراہم کیے گئے۔</p>
<p>ایک بیان کے مطابق ساتویں این ایف سی  ایوارڈ کے تحت وفاقی قابلِ تقسیم پول میں صوبوں کے مجموعی حصے میں سے خیبر پختونخوا کا حصہ 14.62 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔</p>
<p>دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران صوبے پر پڑنے والے غیر معمولی بوجھ کے اعتراف میں غیر منقسم تقسیم پذیر فنڈ کے اضافی 1 فیصد حصے کو خصوصی طور پر خیبر پختونخوا کے لیے مختص کیا گیا۔</p>
<p>اگرچہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ اصل میں 5 سال کی مدت کے لیے بنایا گیا تھا تاہم بعد کے این ایف سی ایوارڈز (آٹھواں، نواں اور دسواں) پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے فریم ورک کو جاری رکھنا ضروری ہوگیا۔ اسی طرح، خیبر پختونخوا کو اس کا واجب حصہ موصول ہوتا رہا جس میں جنگِ دہشت گردی کے لیے اضافی مختص شدہ رقم بھی شامل ہے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کے مطابق وفاقی حکومت صوبوں کو این ایف سی کے حصے دو ہفتے کی بنیاد پر جاری کرتی رہی ہے اور اس حوالے سے کوئی بقایا واجبات موجود نہیں ہیں۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ حال ہی میں 17 دسمبر 2025 کو خیبر پختونخوا حکومت  کو 46.44 ارب روپے کی رقم جاری کی گئی جو وفاقی حکومت کی بروقت ادائیگی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ نے کہا کہ این ایف سی کے علاوہ، وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کو براہِ راست منتقلیوں کا بھی بلا تعطل سلسلہ یقینی بنایا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک تیل اور قدرتی گیس پر رائلٹی، گیس ڈویلپمنٹ سرچارج، قدرتی گیس پر ایکسائز ڈیوٹی اور دیگر متعلقہ عنوانات کے تحت 482.78 ارب روپے منتقل کیے گئے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے این ایف سی کے دائرہ کار سے آگے جا کر خیبر پختونخوا کو خاطر خواہ مالی معاونت فراہم کی ہے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ نے کہا کہ سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے بعد اور این ایف سی کے نئے فارمولے کی غیر موجودگی میں، وفاقی حکومت نے نئے ضم شدہ اضلاع کے اخراجات اپنے این ایف سی حصے سے پورے کیے ہیں۔</p>
<p>2019 سے اب تک نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے خیبر پختونخوا حکومت  کو 704 ارب روپے منتقل کیے گئے جبکہ اندرونِ ملک منتقل ہونے والے افراد  کی حمایت کے لیے اضافی 117.166 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ آئینی اختیارات کی منتقلی کے باوجود وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کی فلاح و ترقی میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام سے صوبائی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے خیبر پختونخوا کو 115 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>بینظیر انکم سپورٹ پروگرام  کے ذریعے مالی سال 2016–25 کے دوران خیبر پختونخوا میں غیر مشروط اور مشروط کیش ٹرانسفرز پر 481.433 ارب روپے خرچ کیے گئے۔</p>
<p>وزارت نے یہ بھی بتایا کہ وفاقی حکومت این ایف سی کے فریم ورک کو مشاورت کے ذریعے مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>گیارہویں این ایف سی کو 22 اگست 2025 کو صدرِ پاکستان نے تشکیل دیا اور اس کا پہلا اجلاس 4 دسمبر 2025 کو ہوا۔ اجلاس کے دوران سابقہ فاٹا/نئے ضم شدہ اضلاع کے انضمام اور تقسیم ہونے والے فنڈز میں ان کے حصے کے حوالے سے سفارشات دینے کے لیے ایک مخصوص ذیلی گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔</p>
<p>خیبر پختونخوا حکومت کی درخواست پر اس ذیلی گروپ کا پہلا اجلاس 23 دسمبر 2025 کو مقرر کیا گیا ہے جس میں خیبر پختونخوا کے وزیرِ خزانہ بطور مقررہ کنوینر خدمات انجام دیں گے جو زیر التوا مالی امور کے حل کے لیے باہمی اور شفاف انداز کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ نے دوبارہ واضح کیا کہ وفاقی حکومت منصفانہ وسائل کی تقسیم، مالیاتی وفاقیت اور خیبر پختونخوا کے لیے مستقل معاونت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے تاکہ صوبائی ضروریات، خصوصاً سلامتی کے چیلنجز، بے دخلی اور انتظامی انضمام سے پیدا ہونے والی ضروریات کو بروقت اور ذمہ داری کے ساتھ پورا کیا جاسکے۔</p>
<p>چند روز قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا پر نیٹ ہائیڈل منافع  کے طور پر 2,200 ارب روپے سے زائد واجب الادا ہے جبکہ سابقہ فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے این ایف سی کے تحت 1,375 ارب روپے کی اضافی ادائیگی باقی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280724</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Dec 2025 12:35:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/20121411e0fcc76.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/20121411e0fcc76.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
