<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 02:26:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 02:26:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کاروباری برادری کا ڈیمریج اور ڈیٹنشن چارجز معاف کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280700/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کاروباری برادری نے وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے کہ دس روزہ ٹرانسپورٹرز ہڑتال کے دوران بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے کنٹینرز پر عائد ڈیمریج اور ڈیٹنشن چارجز معاف کیے جائیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے وزارتِ بحری امور سے فوری مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شپنگ لائنز، ٹرمینل آپریٹرز اور پورٹ حکام کو ہدایات جاری کریں کہ 8 سے 17 دسمبر 2025 تک ملک گیر ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے کنٹینرز پر عائد ڈیمریج اور ڈیٹنشن چارجز کو مکمل طور پر معاف، معطل یا نمایاں حد تک کم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر بحری امور چوہدری انوار الحق کو ارسال کیے گئے خط میں چیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا اور صدرریحان حنیف نے ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال کی نشاندہی کی جس نے تجارتی و صنعتی حلقوں کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارسال کردہ خط میں وفاقی وزیر کو آگاہ کیا گیا کہ ہڑتال کے دوران کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور متعلقہ ٹرمینلز پر کارگو کی آمد و رفت تقریباً مکمل طور پر معطل رہی، اس عرصے میں درآمدی و برآمدی کنٹینرز بندرگاہوں پر پھنس کررہ گئے حالانکہ اس میں تاجر برادری یا درآمد کنندگان کا کوئی قصور نہ تھا اور نہ ہی برآمد کنندگان کا اس کے نتیجے میں یومیہ بنیاد پر بھاری ڈیمریج اور ڈیٹنشن چارجز جمع ہوتےچلےگئےجسکی وجہ سےسپلائی چین،پیداواری عمل اور برآمدی وعدوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ برآمد کنندگان کو شپمنٹ میں تاخیر، آرڈرز کی منسوخی اور بین الاقوامی خریداروں کے سامنے ساکھ متاثر ہونے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، اسکے علاوہ  درآمد کنندگان اپنی صنعتوں کے لیے ضروری خام مال اور اہم اشیاء کلیئر نہ کراسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ جبری تعطل کے دوران عائد ہونے والے ڈیمریج اور ڈیٹینشن چارجز کاروباری طبقے خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن گئے ہیں جو پہلے ہی توانائی کی زائد لاگت، زائد شرح سود اور مجموعی اخراجات کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین بی ایم جی اور صدر کے سی سی آئی نے بتایا کہ ہڑتال کے پورے عرصے میں کے سی سی آئی پاکستان کا سب سے بڑا چیمبر ہونے کے ناطے اس بحران کے حل کے لیے بھرپور کردار ادا کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کے سی سی آئی نے ٹرانسپورٹرز، پورٹ حکام اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے اور مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کیا اور کئی بار خبردار کیا کہ سامان کی نقل و حرکت میں مسلسل بندش معاشی تخریب کاری کے مترادف ہےاور اس سےقومی تجارت وبرآمدات کو طویل المدتی نقصان پہنچے گااگرچہ کے سی سی آئی کی کوششوں سے مذاکرات میں پیشرفت ہوئی اور معمولاتِ بحال ہوئے لیکن اس دوران جمع ہونے والے ڈیمریج اور ڈیٹنشن چارجز کی صورت میں مالی اثرات اب بھی برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں سائٹ ایسوسی ایشن کے آف انڈسٹری کراچی کے صدر احمد عظیم علوی نے گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے خاتمے کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے بھی وفاقی وزیر میری ٹائم افیئرز جنید انور چوہدری سے اپیل کی ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث بندرگاہوں پر برآمدی و درآمدی کنسائمنٹس تاخیر کا شکار ہونے اور اس کے نتیجے میں بندرگاہوں پر پھنسنے والے کنسائنمنٹس پر لگنے والے ڈیمریج، ڈیٹنشن چارجز کو فوری ختم کیا جائے کیونکہ اس کے برآمدی صنعتوں کے پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہوگا جس سے پیداواری سرگرمیاں سست روی کا شکار ہوسکتی ہیں ۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کاروباری برادری نے وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے کہ دس روزہ ٹرانسپورٹرز ہڑتال کے دوران بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے کنٹینرز پر عائد ڈیمریج اور ڈیٹنشن چارجز معاف کیے جائیں۔</strong></p>
<p>کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے وزارتِ بحری امور سے فوری مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شپنگ لائنز، ٹرمینل آپریٹرز اور پورٹ حکام کو ہدایات جاری کریں کہ 8 سے 17 دسمبر 2025 تک ملک گیر ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے کنٹینرز پر عائد ڈیمریج اور ڈیٹنشن چارجز کو مکمل طور پر معاف، معطل یا نمایاں حد تک کم کیا جائے۔</p>
<p>وفاقی وزیر بحری امور چوہدری انوار الحق کو ارسال کیے گئے خط میں چیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا اور صدرریحان حنیف نے ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال کی نشاندہی کی جس نے تجارتی و صنعتی حلقوں کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔</p>
<p>ارسال کردہ خط میں وفاقی وزیر کو آگاہ کیا گیا کہ ہڑتال کے دوران کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور متعلقہ ٹرمینلز پر کارگو کی آمد و رفت تقریباً مکمل طور پر معطل رہی، اس عرصے میں درآمدی و برآمدی کنٹینرز بندرگاہوں پر پھنس کررہ گئے حالانکہ اس میں تاجر برادری یا درآمد کنندگان کا کوئی قصور نہ تھا اور نہ ہی برآمد کنندگان کا اس کے نتیجے میں یومیہ بنیاد پر بھاری ڈیمریج اور ڈیٹنشن چارجز جمع ہوتےچلےگئےجسکی وجہ سےسپلائی چین،پیداواری عمل اور برآمدی وعدوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ برآمد کنندگان کو شپمنٹ میں تاخیر، آرڈرز کی منسوخی اور بین الاقوامی خریداروں کے سامنے ساکھ متاثر ہونے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، اسکے علاوہ  درآمد کنندگان اپنی صنعتوں کے لیے ضروری خام مال اور اہم اشیاء کلیئر نہ کراسکے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ جبری تعطل کے دوران عائد ہونے والے ڈیمریج اور ڈیٹینشن چارجز کاروباری طبقے خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن گئے ہیں جو پہلے ہی توانائی کی زائد لاگت، زائد شرح سود اور مجموعی اخراجات کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>چیئرمین بی ایم جی اور صدر کے سی سی آئی نے بتایا کہ ہڑتال کے پورے عرصے میں کے سی سی آئی پاکستان کا سب سے بڑا چیمبر ہونے کے ناطے اس بحران کے حل کے لیے بھرپور کردار ادا کرتا رہا۔</p>
<p>دوسری جانب کے سی سی آئی نے ٹرانسپورٹرز، پورٹ حکام اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے اور مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کیا اور کئی بار خبردار کیا کہ سامان کی نقل و حرکت میں مسلسل بندش معاشی تخریب کاری کے مترادف ہےاور اس سےقومی تجارت وبرآمدات کو طویل المدتی نقصان پہنچے گااگرچہ کے سی سی آئی کی کوششوں سے مذاکرات میں پیشرفت ہوئی اور معمولاتِ بحال ہوئے لیکن اس دوران جمع ہونے والے ڈیمریج اور ڈیٹنشن چارجز کی صورت میں مالی اثرات اب بھی برقرار ہیں۔</p>
<p>علاوہ ازیں سائٹ ایسوسی ایشن کے آف انڈسٹری کراچی کے صدر احمد عظیم علوی نے گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے خاتمے کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے بھی وفاقی وزیر میری ٹائم افیئرز جنید انور چوہدری سے اپیل کی ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث بندرگاہوں پر برآمدی و درآمدی کنسائمنٹس تاخیر کا شکار ہونے اور اس کے نتیجے میں بندرگاہوں پر پھنسنے والے کنسائنمنٹس پر لگنے والے ڈیمریج، ڈیٹنشن چارجز کو فوری ختم کیا جائے کیونکہ اس کے برآمدی صنعتوں کے پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہوگا جس سے پیداواری سرگرمیاں سست روی کا شکار ہوسکتی ہیں ۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280700</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Dec 2025 14:09:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/19140626e1dfb0e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/19140626e1dfb0e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
