<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:28:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:28:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>واپسی کی بھاری قیمت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280696/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد کے پراپرٹی ریٹس  پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا حالیہ یو ٹرن  محض ایک انتظامی غلطی نہیں ہے۔ درحقیقت، یہ اس گہری خرابی کی عکاسی کرتا ہے جو تیزی سے پاکستانی بیوروکریسی اور سرکاری حلقوں پر حاوی ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے فیصلے جن کے نتائج دور رس ہوتے ہیں، بظاہر زمینی حقائق اور عوامی ردِعمل کو نظر انداز کر کے تنہائی میں مسلط کر دیے جاتے ہیں اور جیسے ہی ناگزیر عوامی غصہ سامنے آتا ہے انہیں عجلت میں واپس لے لیا جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے ایف بی آر نے پراپرٹی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کردیا تھا جو کہ ڈی ایچ اے  کے علاقوں میں 87 سے 168 فیصد تک تھا، حالانکہ یہاں قیمتوں میں آخری اضافہ محض ایک سال پہلے ہی کیا گیا تھا۔ دیگر مقامات پر یہ اضافہ مضحکہ خیز حد تک پہنچ گیا، جہاں سی-سیکٹر میں قیمتیں 900 فیصد اور ایف-سیکٹر میں حیران کن طور پر 1250 فیصد تک بڑھا دی گئیں۔ اس اقدام نے بنیادی منطق، تناسب اور انتظامی بصیرت کے واضح فقدان کو بے نقاب کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات کہ قیمتوں میں یہ ناقابلِ فہم اضافے ایک ایسی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر مسلط کیے گئے جو پہلے ہی شدید مندی کا شکار ہے جہاں ایف بی آر پہلے سے ہی جائیداد کی فروخت پر 4.5 سے 11.5 فیصد اور خریداری پر 2.5 سے 18.5 فیصد تک ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کرتا ہے، اس اقدام کا دفاع کرنا مزید مشکل بنا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی دارالحکومت کی تاجر برادری، رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور عام ٹیکس دہندگان کے درمیان غم و غصے کی لہر فوری اور مکمل طور پر متوقع تھی۔ پراپرٹی ویلیویشن ٹیبل کو دو ٹوک انداز میں مسترد کر دیا گیا اور اسلام آباد چیمبر نے اعلان کیا کہ اگر نوٹیفکیشن واپس نہ لیا گیا تو 22 دسمبر کو ایف بی آر ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا جائے گا۔ بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر، ٹیکس حکام نے ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں تاجر برادری کے تحفظات کی صداقت کو تسلیم کرتے ہوئے سابقہ حکم نامے کو معطل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ اسلام آباد چیمبر  کے صدر طاہر محمود نے نشاندہی کی، ٹیکس ادارے کے ناقص فیصلے اور انتظامی نااہلی نے جائیدادوں کی منتقلی کے عمل کو عملی طور پر منجمد کر دیا تھا جس کے نتیجے میں گزشتہ کئی روز سے قومی خزانے میں ٹیکس کی وصولی تقریباً صفر ہو کر رہ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سلسلہ ایک واضح سوال اٹھاتا ہے: کیا ایف بی آر واقعی اس بات کی پیش گوئی کرنے میں ناکام رہا کہ اتنی غیر متناسب قیمتوں میں اضافہ کس قدر شدید ردعمل کو جنم دے گا، یا اس نے جان بوجھ کر ایسا کیا، یہ جانتے ہوئے کہ بالآخر اسے واپس جانا پڑے گا؟ کسی بھی صورت میں، اس غیر محتاط اور غیر سوچ سمجھ کر کی گئی فیصلہ سازی کے ذمہ داران کو اس شدید نااہلی کا حساب دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پراپرٹی ویلیویشن میں غیر متناسب اضافے کا یہ حالیہ ایف بی آر نوٹیفکیشن واضح طور پر غیر منصفانہ تھا، لیکن اس نے پھر بھی ایک انتہائی پریشان کن طرزِ عمل کو نمایاں کیا ہے: حکومت اب اپنے جائز اقدامات سے بھی پیچھے ہٹ جاتی ہے، کیونکہ وہ ماضی کے ناقص فیصلوں پر عوامی دباؤ کے سامنے جھکنے سے قائم ہونے والی خطرناک مثال کے جال میں پھنس چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف کوتاہیوں اور اقدامات کے ذریعے، حکومت نے بتدریج اس بات کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ اعتراضات یا احتجاج کو مذاکراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے، اور مختلف مفاد پرست گروہوں نے یہ سیکھ لیا ہے کہ کسی کیس کی جوازیت اہمیت نہیں رکھتی، بلکہ احتجاج کی شدت زیادہ اثر رکھتی ہے: شور و غل مچائیں، اقتصادی سرگرمیوں کو مفلوج کریں، سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی دیں اور حکومت پیچھے ہٹ جائے گی۔  یہ کلچر خاص طور پر اس لیے جڑ پکڑ چکا ہے کیونکہ بیوروکریسی اکثر مناسب منصوبہ بندی اور دور اندیشی کے بغیر اقدامات متعارف کراتی ہے، جس کے بعد اس کے پاس بالآخر پیچھے ہٹنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ ٹرانسپورٹرز ہڑتال حکومت کی کمزور پوزیشن کی واضح مثال ہے۔ اگرچہ پنجاب حکام نے ان کی کچھ مانگیں قبول کر لی ہیں، احتجاج جاری رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرانسپورٹرز اپنے تمام مطالبات چاہ رہے ہیں، چاہے وہ جائز ہوں یا نہ ہوں اور حکومت نے ماضی کی روایت کے مطابق پیچھے ہٹتے ہوئے ٹرانسپورٹرز الائنس کے چیئرمین کے اعلان کے مطابق اپنے تمام بڑے مطالبات تسلیم کرلیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اخبار نے پہلے بھی حکام سے اپیل کی تھی کہ وہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مذاکرات میں متوازن حکمت عملی اپنائیں، ان کے جائز تحفظات کو دور کریں، مگر طویل عرصے سے نظرانداز کی جانے والی سڑکوں کی حفاظت سے سمجھوتہ نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پالیسی ساز اپنی فیصلے سازی میں پیش بینی، جامع منصوبہ بندی اور سوچ سمجھ کر تجزیے کو بنیاد نہ بنائیں تو اس ردعمل پر مبنی طرزِ عمل کے طویل المدتی نتائج شدید ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورنہ ہر واپسی صرف انتشار پھیلانے والے عناصر کو طاقتور کرے گی، پالیسی کی ساکھ کو کمزور کرے گی اور حکومت کو غیر سنجیدہ اور غیر منصوبہ بند فیصلوں میں الجھی ہوئی دکھانے والی تصویر کو مزید مستحکم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد کے پراپرٹی ریٹس  پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا حالیہ یو ٹرن  محض ایک انتظامی غلطی نہیں ہے۔ درحقیقت، یہ اس گہری خرابی کی عکاسی کرتا ہے جو تیزی سے پاکستانی بیوروکریسی اور سرکاری حلقوں پر حاوی ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے فیصلے جن کے نتائج دور رس ہوتے ہیں، بظاہر زمینی حقائق اور عوامی ردِعمل کو نظر انداز کر کے تنہائی میں مسلط کر دیے جاتے ہیں اور جیسے ہی ناگزیر عوامی غصہ سامنے آتا ہے انہیں عجلت میں واپس لے لیا جاتا ہے۔</strong></p>
<p>گزشتہ ہفتے ایف بی آر نے پراپرٹی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کردیا تھا جو کہ ڈی ایچ اے  کے علاقوں میں 87 سے 168 فیصد تک تھا، حالانکہ یہاں قیمتوں میں آخری اضافہ محض ایک سال پہلے ہی کیا گیا تھا۔ دیگر مقامات پر یہ اضافہ مضحکہ خیز حد تک پہنچ گیا، جہاں سی-سیکٹر میں قیمتیں 900 فیصد اور ایف-سیکٹر میں حیران کن طور پر 1250 فیصد تک بڑھا دی گئیں۔ اس اقدام نے بنیادی منطق، تناسب اور انتظامی بصیرت کے واضح فقدان کو بے نقاب کردیا ہے۔</p>
<p>یہ بات کہ قیمتوں میں یہ ناقابلِ فہم اضافے ایک ایسی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر مسلط کیے گئے جو پہلے ہی شدید مندی کا شکار ہے جہاں ایف بی آر پہلے سے ہی جائیداد کی فروخت پر 4.5 سے 11.5 فیصد اور خریداری پر 2.5 سے 18.5 فیصد تک ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کرتا ہے، اس اقدام کا دفاع کرنا مزید مشکل بنا دیتا ہے۔</p>
<p>وفاقی دارالحکومت کی تاجر برادری، رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور عام ٹیکس دہندگان کے درمیان غم و غصے کی لہر فوری اور مکمل طور پر متوقع تھی۔ پراپرٹی ویلیویشن ٹیبل کو دو ٹوک انداز میں مسترد کر دیا گیا اور اسلام آباد چیمبر نے اعلان کیا کہ اگر نوٹیفکیشن واپس نہ لیا گیا تو 22 دسمبر کو ایف بی آر ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا جائے گا۔ بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر، ٹیکس حکام نے ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں تاجر برادری کے تحفظات کی صداقت کو تسلیم کرتے ہوئے سابقہ حکم نامے کو معطل کر دیا گیا۔</p>
<p>جیسا کہ اسلام آباد چیمبر  کے صدر طاہر محمود نے نشاندہی کی، ٹیکس ادارے کے ناقص فیصلے اور انتظامی نااہلی نے جائیدادوں کی منتقلی کے عمل کو عملی طور پر منجمد کر دیا تھا جس کے نتیجے میں گزشتہ کئی روز سے قومی خزانے میں ٹیکس کی وصولی تقریباً صفر ہو کر رہ گئی تھی۔</p>
<p>یہ سلسلہ ایک واضح سوال اٹھاتا ہے: کیا ایف بی آر واقعی اس بات کی پیش گوئی کرنے میں ناکام رہا کہ اتنی غیر متناسب قیمتوں میں اضافہ کس قدر شدید ردعمل کو جنم دے گا، یا اس نے جان بوجھ کر ایسا کیا، یہ جانتے ہوئے کہ بالآخر اسے واپس جانا پڑے گا؟ کسی بھی صورت میں، اس غیر محتاط اور غیر سوچ سمجھ کر کی گئی فیصلہ سازی کے ذمہ داران کو اس شدید نااہلی کا حساب دینا چاہیے۔</p>
<p>اگرچہ پراپرٹی ویلیویشن میں غیر متناسب اضافے کا یہ حالیہ ایف بی آر نوٹیفکیشن واضح طور پر غیر منصفانہ تھا، لیکن اس نے پھر بھی ایک انتہائی پریشان کن طرزِ عمل کو نمایاں کیا ہے: حکومت اب اپنے جائز اقدامات سے بھی پیچھے ہٹ جاتی ہے، کیونکہ وہ ماضی کے ناقص فیصلوں پر عوامی دباؤ کے سامنے جھکنے سے قائم ہونے والی خطرناک مثال کے جال میں پھنس چکی ہے۔</p>
<p>مختلف کوتاہیوں اور اقدامات کے ذریعے، حکومت نے بتدریج اس بات کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ اعتراضات یا احتجاج کو مذاکراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے، اور مختلف مفاد پرست گروہوں نے یہ سیکھ لیا ہے کہ کسی کیس کی جوازیت اہمیت نہیں رکھتی، بلکہ احتجاج کی شدت زیادہ اثر رکھتی ہے: شور و غل مچائیں، اقتصادی سرگرمیوں کو مفلوج کریں، سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی دیں اور حکومت پیچھے ہٹ جائے گی۔  یہ کلچر خاص طور پر اس لیے جڑ پکڑ چکا ہے کیونکہ بیوروکریسی اکثر مناسب منصوبہ بندی اور دور اندیشی کے بغیر اقدامات متعارف کراتی ہے، جس کے بعد اس کے پاس بالآخر پیچھے ہٹنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔</p>
<p>حالیہ ٹرانسپورٹرز ہڑتال حکومت کی کمزور پوزیشن کی واضح مثال ہے۔ اگرچہ پنجاب حکام نے ان کی کچھ مانگیں قبول کر لی ہیں، احتجاج جاری رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرانسپورٹرز اپنے تمام مطالبات چاہ رہے ہیں، چاہے وہ جائز ہوں یا نہ ہوں اور حکومت نے ماضی کی روایت کے مطابق پیچھے ہٹتے ہوئے ٹرانسپورٹرز الائنس کے چیئرمین کے اعلان کے مطابق اپنے تمام بڑے مطالبات تسلیم کرلیے۔</p>
<p>اس اخبار نے پہلے بھی حکام سے اپیل کی تھی کہ وہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مذاکرات میں متوازن حکمت عملی اپنائیں، ان کے جائز تحفظات کو دور کریں، مگر طویل عرصے سے نظرانداز کی جانے والی سڑکوں کی حفاظت سے سمجھوتہ نہ کریں۔</p>
<p>اگر پالیسی ساز اپنی فیصلے سازی میں پیش بینی، جامع منصوبہ بندی اور سوچ سمجھ کر تجزیے کو بنیاد نہ بنائیں تو اس ردعمل پر مبنی طرزِ عمل کے طویل المدتی نتائج شدید ہوں گے۔</p>
<p>ورنہ ہر واپسی صرف انتشار پھیلانے والے عناصر کو طاقتور کرے گی، پالیسی کی ساکھ کو کمزور کرے گی اور حکومت کو غیر سنجیدہ اور غیر منصوبہ بند فیصلوں میں الجھی ہوئی دکھانے والی تصویر کو مزید مستحکم کرے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280696</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Dec 2025 12:44:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/19124254491d41a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/19124254491d41a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
