<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 11:58:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 11:58:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صدر زرداری نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280687/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر جسٹس طارق محمود جہانگیری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹانے کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی تعمیل کرتے ہوئے جاری کیا گیا جس میں ان کی بطور جج تقرری غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں عہدہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے طارق محمود جہانگیری کو بطور جج ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق محمودجہانگیری کی بطور جج تعیناتی کے وقت ایل ایل بی کی درست ڈگری نہیں تھی، وہ جج کا عہدہ رکھنے کے اہل نہیں تھے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے سماعت کا مختصر حکم نامہ جاری کردیا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے دفتر کو ہدایت دی کہ اس حکم کی ایک کاپی وزارت قانون و انصاف کو بھیجی جائے تاکہ جسٹس جہانگیری کو اس عدالت کے جج کے طور پر غیر فعال کیا جاسکے اور دیگر ضروری اقدامات کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ نے تمام زیر التوا متفرق درخواستیں بھی نمٹادی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ طارق محمود جہانگیری کو متعدد مواقع دیے گئے کہ وہ اپنا جواب اور متنازع تعلیمی اسناد پیش کریں لیکن وہ اپنا جواب اور تعلیمی اسناد پیش کرنے میں ناکام رہے اور نہ ہی ان کی جانب سے کوئی معقول وجہ سامنے آسکی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔</strong></p>
<p>ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر جسٹس طارق محمود جہانگیری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹانے کی منظوری دے دی۔</p>
<p>ڈی نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی تعمیل کرتے ہوئے جاری کیا گیا جس میں ان کی بطور جج تقرری غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں عہدہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔</p>
<p>جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے طارق محمود جہانگیری کو بطور جج ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم دے دیا تھا۔</p>
<p>طارق محمودجہانگیری کی بطور جج تعیناتی کے وقت ایل ایل بی کی درست ڈگری نہیں تھی، وہ جج کا عہدہ رکھنے کے اہل نہیں تھے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے سماعت کا مختصر حکم نامہ جاری کردیا ۔</p>
<p>عدالتی بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے دفتر کو ہدایت دی کہ اس حکم کی ایک کاپی وزارت قانون و انصاف کو بھیجی جائے تاکہ جسٹس جہانگیری کو اس عدالت کے جج کے طور پر غیر فعال کیا جاسکے اور دیگر ضروری اقدامات کیے جائیں۔</p>
<p>بینچ نے تمام زیر التوا متفرق درخواستیں بھی نمٹادی ہیں۔</p>
<p>تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ طارق محمود جہانگیری کو متعدد مواقع دیے گئے کہ وہ اپنا جواب اور متنازع تعلیمی اسناد پیش کریں لیکن وہ اپنا جواب اور تعلیمی اسناد پیش کرنے میں ناکام رہے اور نہ ہی ان کی جانب سے کوئی معقول وجہ سامنے آسکی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280687</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Dec 2025 10:22:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/19101929800cc07.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/19101929800cc07.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
