<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئی حتمی فیصلہ نہیں، دفترِ خارجہ نے آرمی چیف کے امریکی دورے کی رپورٹ مسترد کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280682/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے جمعرات کو ایک میڈیا رپورٹ کی تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا امریکا کا دورہ حتمی شکل پا چکا ہے، اور کہا کہ ایسے کسی دورے کا کوئی تصدیق شدہ منصوبہ موجود نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ رائٹرز کی خبر سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دورے کی منصوبہ بندی مکمل ہو چکی ہے اور اسے حتمی حیثیت حاصل ہے، جو درست نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ میں رائٹرز کی خبر کی اصل روح کی تردید کر سکتا ہوں، کیونکہ اس میں یہ تاثر دیا گیا کہ دورہ طے پا چکا ہے اور اس بارے میں حتمی فیصلہ ہو چکا ہے، حالانکہ اس مرحلے پر ایسی کوئی حتمی بات نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وضاحت اس کے بعد سامنے آئی جب رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ آئندہ ہفتوں میں واشنگٹن کا دورہ کریں گے، جہاں ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے، اور ممکنہ طور پر بات چیت کا محور غزہ کے لیے ایک استحکامی فورس سے متعلق واشنگٹن کی تجویز ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ مجوزہ فورس میں مسلم اکثریتی ممالک کے دستے شامل ہو سکتے ہیں، جو غزہ کے لیے وسیع تر تعمیرِ نو اور منتقلی کے منصوبے کا حصہ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق امریکا کی حمایت یافتہ اس منصوبے پر کئی ممالک نے تحفظات کا اظہار کیا ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس میں شمولیت انہیں تنازع میں گھسیٹ سکتی ہے اور اندرونِ ملک ردعمل کو جنم دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کی قیادت پہلے ہی محتاط موقف کا اشارہ دے چکی ہے، اور گزشتہ ماہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ اگرچہ اسلام آباد امن مشنز پر غور کر سکتا ہے، تاہم حماس کو غیر مسلح کرنا “ہمارا کام نہیں”۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بیان کردہ دورے کے تناظر میں ممکنہ پاکستان۔امریکا معاشی تعاون، بشمول تجارت یا ریکوڈک جیسے سرمایہ کاری منصوبوں سے متعلق سوال پر ترجمان نے کسی ممکنہ معاشی پیکیج پر تبصرہ نہیں کیا جو عسکری سطح کے روابط سے منسلک ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال میں بھارتی میڈیا کی جانب سے مبینہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کا بھی ذکر کیا گیا، جن میں آسٹریلیا کے بونڈی بیچ دہشت گرد حملے کے بعد کی رپورٹس شامل تھیں، جن کے بارے میں صحافی نے کہا کہ کئی دنوں تک پاکستان کو بدنام کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے جواب میں ترجمان نے پاکستان کے اس موقف کو دہرایا کہ وہ بار بار ہونے والی غلط معلومات کی مہمات پر تشویش رکھتا ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اسلام آباد نے یہ معاملہ کسی بین الاقوامی فورم پر باضابطہ طور پر اٹھایا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان سے غزہ امن منصوبے سے منسلک کسی بین الاقوامی استحکامی فورس میں پاکستان کی ممکنہ شرکت کے بارے میں بھی سوال کیا گیا، تاہم اس پر کوئی براہِ راست جواب نہیں دیا گیا، سوائے اس کے کہ پہلے سے جاری سرکاری مؤقف دہرایا گیا کہ پاکستان کا غزہ سے متعلق موقف جنگ بندی، انسانی امداد اور منصفانہ سیاسی حل کی حمایت پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حالیہ عرصے میں سعودی عرب، ترکی، مصر اور قطر سمیت کئی مسلم ممالک کے عسکری اور سول رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں، جنہیں تجزیہ کار غزہ سے متعلق مجوزہ منصوبے پر مشاورت قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ پاکستان میں اندرونی حساسیت موجود ہے، جہاں امریکا کی حمایت یافتہ کسی منصوبے کے تحت غزہ میں فوجی تعیناتی عوامی مخالفت کو جنم دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا قیاس آرائیوں کو پالیسی فیصلوں کی تصدیق نہیں سمجھا جانا چاہیے، اور سرکاری مؤقف مناسب وقت پر باضابطہ ذرائع سے ہی سامنے لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل منیر رواں برس اب تک تین مرتبہ امریکا کا دورہ کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون میں واشنگٹن کے پہلے دورے کے دوران، جو مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کے ایک ماہ بعد ہوا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ظہرانے پر ملاقات کی۔ یہ تاریخ میں پہلی بار تھا کہ کسی امریکی صدر نے پاکستان کے آرمی چیف کی وائٹ ہاؤس میں سینئر سول حکام کے بغیر میزبانی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا دورہ اگست میں ہوا، جس کے بارے میں آرمی چیف نے کہا کہ اس سے واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں ایک “نیا رخ” سامنے آیا۔ اس موقع پر ان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں، جبکہ پاکستانی تارکینِ وطن سے بھی روابط قائم کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران ستمبر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ہمراہ وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا اور صدر ٹرمپ سے ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی اور دیگر امور پر بات چیت کی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے جمعرات کو ایک میڈیا رپورٹ کی تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا امریکا کا دورہ حتمی شکل پا چکا ہے، اور کہا کہ ایسے کسی دورے کا کوئی تصدیق شدہ منصوبہ موجود نہیں ہے۔</strong></p>
<p>ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ رائٹرز کی خبر سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دورے کی منصوبہ بندی مکمل ہو چکی ہے اور اسے حتمی حیثیت حاصل ہے، جو درست نہیں۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ میں رائٹرز کی خبر کی اصل روح کی تردید کر سکتا ہوں، کیونکہ اس میں یہ تاثر دیا گیا کہ دورہ طے پا چکا ہے اور اس بارے میں حتمی فیصلہ ہو چکا ہے، حالانکہ اس مرحلے پر ایسی کوئی حتمی بات نہیں ہے۔</p>
<p>یہ وضاحت اس کے بعد سامنے آئی جب رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ آئندہ ہفتوں میں واشنگٹن کا دورہ کریں گے، جہاں ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے، اور ممکنہ طور پر بات چیت کا محور غزہ کے لیے ایک استحکامی فورس سے متعلق واشنگٹن کی تجویز ہوگی۔</p>
<p>رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ مجوزہ فورس میں مسلم اکثریتی ممالک کے دستے شامل ہو سکتے ہیں، جو غزہ کے لیے وسیع تر تعمیرِ نو اور منتقلی کے منصوبے کا حصہ ہوں گے۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق امریکا کی حمایت یافتہ اس منصوبے پر کئی ممالک نے تحفظات کا اظہار کیا ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس میں شمولیت انہیں تنازع میں گھسیٹ سکتی ہے اور اندرونِ ملک ردعمل کو جنم دے سکتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کی قیادت پہلے ہی محتاط موقف کا اشارہ دے چکی ہے، اور گزشتہ ماہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ اگرچہ اسلام آباد امن مشنز پر غور کر سکتا ہے، تاہم حماس کو غیر مسلح کرنا “ہمارا کام نہیں”۔</p>
<p>رپورٹ میں بیان کردہ دورے کے تناظر میں ممکنہ پاکستان۔امریکا معاشی تعاون، بشمول تجارت یا ریکوڈک جیسے سرمایہ کاری منصوبوں سے متعلق سوال پر ترجمان نے کسی ممکنہ معاشی پیکیج پر تبصرہ نہیں کیا جو عسکری سطح کے روابط سے منسلک ہو۔</p>
<p>سوال میں بھارتی میڈیا کی جانب سے مبینہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کا بھی ذکر کیا گیا، جن میں آسٹریلیا کے بونڈی بیچ دہشت گرد حملے کے بعد کی رپورٹس شامل تھیں، جن کے بارے میں صحافی نے کہا کہ کئی دنوں تک پاکستان کو بدنام کیا گیا۔</p>
<p>اس کے جواب میں ترجمان نے پاکستان کے اس موقف کو دہرایا کہ وہ بار بار ہونے والی غلط معلومات کی مہمات پر تشویش رکھتا ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اسلام آباد نے یہ معاملہ کسی بین الاقوامی فورم پر باضابطہ طور پر اٹھایا ہے یا نہیں۔</p>
<p>ترجمان سے غزہ امن منصوبے سے منسلک کسی بین الاقوامی استحکامی فورس میں پاکستان کی ممکنہ شرکت کے بارے میں بھی سوال کیا گیا، تاہم اس پر کوئی براہِ راست جواب نہیں دیا گیا، سوائے اس کے کہ پہلے سے جاری سرکاری مؤقف دہرایا گیا کہ پاکستان کا غزہ سے متعلق موقف جنگ بندی، انسانی امداد اور منصفانہ سیاسی حل کی حمایت پر مبنی ہے۔</p>
<p>رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حالیہ عرصے میں سعودی عرب، ترکی، مصر اور قطر سمیت کئی مسلم ممالک کے عسکری اور سول رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں، جنہیں تجزیہ کار غزہ سے متعلق مجوزہ منصوبے پر مشاورت قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ پاکستان میں اندرونی حساسیت موجود ہے، جہاں امریکا کی حمایت یافتہ کسی منصوبے کے تحت غزہ میں فوجی تعیناتی عوامی مخالفت کو جنم دے سکتی ہے۔</p>
<p>دفترِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا قیاس آرائیوں کو پالیسی فیصلوں کی تصدیق نہیں سمجھا جانا چاہیے، اور سرکاری مؤقف مناسب وقت پر باضابطہ ذرائع سے ہی سامنے لایا جائے گا۔</p>
<p>یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل منیر رواں برس اب تک تین مرتبہ امریکا کا دورہ کر چکے ہیں۔</p>
<p>جون میں واشنگٹن کے پہلے دورے کے دوران، جو مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کے ایک ماہ بعد ہوا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ظہرانے پر ملاقات کی۔ یہ تاریخ میں پہلی بار تھا کہ کسی امریکی صدر نے پاکستان کے آرمی چیف کی وائٹ ہاؤس میں سینئر سول حکام کے بغیر میزبانی کی۔</p>
<p>دوسرا دورہ اگست میں ہوا، جس کے بارے میں آرمی چیف نے کہا کہ اس سے واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں ایک “نیا رخ” سامنے آیا۔ اس موقع پر ان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں، جبکہ پاکستانی تارکینِ وطن سے بھی روابط قائم کیے گئے۔</p>
<p>اسی دوران ستمبر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ہمراہ وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا اور صدر ٹرمپ سے ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی اور دیگر امور پر بات چیت کی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280682</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 21:19:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/18210552ce799b8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/18210552ce799b8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
