<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:32:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:32:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>45 ماہ بعد زرمبادلہ ذخائر 21 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280681/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ہی ہفتے کے دوران 1.3 ارب ڈالر کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ ذخائر تقریباً چار سال (45ماہ )کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ مرکزی بینک کے مطابق یہ اضافہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے حالیہ قرض کی قسط موصول ہونے کے باعث ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;12 دسمبر 2025 تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 15.89 ارب ڈالر ہو گئے، جس کی وجہ آئی ایم ایف کی جانب سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبیلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی وصولی بنی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کے ذخائر آخری بار 11 مارچ 2022 کو 15 ارب ڈالر سے زائد تھے، جس کے بعد فروری 2023 میں یہ کم ہو کر تشویشناک حد یعنی 2.9 ارب ڈالر تک آ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران 12 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 21.09 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر 5.20 ارب ڈالر تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی ادائیگی کی منظوری دی تھی، جس میں ایک ارب ڈالر ای ایف ایف اور 200 ملین ڈالر آر ایس ایف کے تحت شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی پالیسی کوششوں نے مشکل عالمی حالات اور حالیہ شدید سیلاب کے باوجود معیشت کو مستحکم کرنے اور اعتماد کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ مالیاتی کارکردگی مضبوط رہی اور مالی سال 2025 میں جی ڈی پی کے 1.3 فیصد کے برابر بنیادی سرپلس حاصل کیا گیا جو اہداف کے مطابق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سیلاب کے باعث غذائی اشیاء کی قیمتوں پر پڑنے والا اثر ہے، تاہم یہ عارضی ہونے کی توقع ہے۔ مالی سال 2025 کے اختتام پر مجموعی ذخائر 14.5 ارب ڈالر تھے، جو ایک سال قبل 9.4 ارب ڈالر تھے اور اندازہ ہے کہ مالی سال 2026 اور درمیانی مدت میں یہ مزید بڑھتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق مرکزی بینک نے دسمبر 2025 کا 15.5 ارب ڈالر کا ہدف بھاری قرضوں کی ادائیگیوں کے باوجود عبور کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے اپنی تازہ مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ میں کہا کہ برآمدات دباؤ کا شکار رہیں، جس کی بڑی وجہ غذائی برآمدات  بالخصوص چاول کی برآمد میں نمایاں کمی ہے۔ مالیاتی پہلو سے خالص آمد محدود رہی، تاہم اس کے باوجود اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر دسمبر 2025 کے مقررہ ہدف 15.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے، جس میں مرکزی بینک کی جانب سے مسلسل فارن ایکسچینج خریداری نے اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ آئندہ عرصے میں عالمی سطح پر بدلتی تجارتی صورتحال جیسے عوامل برآمدات کو محدود رکھ سکتے ہیں، تاہم عالمی سطح پر تیل کی کم قیمتیں درآمدات میں اضافے کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے جائزہ بڑی حد تک تبدیل نہیں ہوا اور مالی سال 2026 میں خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ مزید یہ کہ متوقع سرکاری رقوم کی وصولی کے ساتھ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر جون 2026 تک بڑھ کر 17.8 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ہی ہفتے کے دوران 1.3 ارب ڈالر کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ ذخائر تقریباً چار سال (45ماہ )کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ مرکزی بینک کے مطابق یہ اضافہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے حالیہ قرض کی قسط موصول ہونے کے باعث ہوا۔</strong></p>
<p>12 دسمبر 2025 تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 15.89 ارب ڈالر ہو گئے، جس کی وجہ آئی ایم ایف کی جانب سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبیلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی وصولی بنی۔</p>
<p>مرکزی بینک کے ذخائر آخری بار 11 مارچ 2022 کو 15 ارب ڈالر سے زائد تھے، جس کے بعد فروری 2023 میں یہ کم ہو کر تشویشناک حد یعنی 2.9 ارب ڈالر تک آ گئے تھے۔</p>
<p>اسی دوران 12 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 21.09 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر 5.20 ارب ڈالر تھے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی ادائیگی کی منظوری دی تھی، جس میں ایک ارب ڈالر ای ایف ایف اور 200 ملین ڈالر آر ایس ایف کے تحت شامل ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی پالیسی کوششوں نے مشکل عالمی حالات اور حالیہ شدید سیلاب کے باوجود معیشت کو مستحکم کرنے اور اعتماد کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ مالیاتی کارکردگی مضبوط رہی اور مالی سال 2025 میں جی ڈی پی کے 1.3 فیصد کے برابر بنیادی سرپلس حاصل کیا گیا جو اہداف کے مطابق ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سیلاب کے باعث غذائی اشیاء کی قیمتوں پر پڑنے والا اثر ہے، تاہم یہ عارضی ہونے کی توقع ہے۔ مالی سال 2025 کے اختتام پر مجموعی ذخائر 14.5 ارب ڈالر تھے، جو ایک سال قبل 9.4 ارب ڈالر تھے اور اندازہ ہے کہ مالی سال 2026 اور درمیانی مدت میں یہ مزید بڑھتے رہیں گے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق مرکزی بینک نے دسمبر 2025 کا 15.5 ارب ڈالر کا ہدف بھاری قرضوں کی ادائیگیوں کے باوجود عبور کر لیا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے اپنی تازہ مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ میں کہا کہ برآمدات دباؤ کا شکار رہیں، جس کی بڑی وجہ غذائی برآمدات  بالخصوص چاول کی برآمد میں نمایاں کمی ہے۔ مالیاتی پہلو سے خالص آمد محدود رہی، تاہم اس کے باوجود اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر دسمبر 2025 کے مقررہ ہدف 15.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے، جس میں مرکزی بینک کی جانب سے مسلسل فارن ایکسچینج خریداری نے اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ آئندہ عرصے میں عالمی سطح پر بدلتی تجارتی صورتحال جیسے عوامل برآمدات کو محدود رکھ سکتے ہیں، تاہم عالمی سطح پر تیل کی کم قیمتیں درآمدات میں اضافے کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔</p>
<p>مجموعی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے جائزہ بڑی حد تک تبدیل نہیں ہوا اور مالی سال 2026 میں خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ مزید یہ کہ متوقع سرکاری رقوم کی وصولی کے ساتھ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر جون 2026 تک بڑھ کر 17.8 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280681</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 19:49:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریحان ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/18192836001d823.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/18192836001d823.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
