<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے دریائے چناب کے بہاؤ میں رکاوٹ پر بھارت سے وضاحت طلب کر لی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280678/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب کے بہاؤ میں رکاوٹ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریڈیو پاکستان کے مطابق اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ انڈس واٹر کمشنر پاکستان نے سندھ طاس معاہدے میں درج شقوں کے مطابق اس معاملے پر وضاحت کے لیے اپنے بھارتی ہم منصب کو خط لکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ بھارت کی جانب سے زرعی سائیکل کے ایک نازک مرحلے پر دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری براہِ راست شہریوں کی زندگیوں اور روزگار کے ساتھ ساتھ غذائی اور معاشی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے، دریاؤں کے بہاؤ میں کسی یکطرفہ رد و بدل سے گریز کرے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر پورا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طاہر اندرابی نے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے جو خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کا ضامن رہا ہے۔ اس کی خلاف ورزی یا عدم پاسداری ایک جانب بین الاقوامی معاہدوں کے تقدس اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو خطرے میں ڈالتی ہے اور دوسری جانب علاقائی امن، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور ریاستوں کے مابین تعلقات کے ضوابط کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے، تاہم وہ اپنے عوام کے وجود سے جڑے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان اس امر کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب آپشنز استعمال کرے گا کہ بھارت ہماری پانی کی فراہمی کو محدود نہ کرے اور یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہ کرے کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ریاست بہار کے وزیراعلیٰ کی جانب سے ایک مسلم خاتون کا حجاب زبردستی اتارنے کے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اس طرح کا اقدام بھارت میں مسلم خواتین کی تذلیل کو معمول بنانے کے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل بھارت میں مذہبی اقلیتوں  بالخصوص مسلم شہریوں کے لیے کھلی بے حرمتی کا مظہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق اس قسم کا رویہ ہندوتوا سے متاثرہ سیاست سے جڑے ایک وسیع اور تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے اور انہوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس واقعے کی سنگینی کو تسلیم کرے، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے، مذہبی آزادی کا احترام کرے اور انسانی وقار کو یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی تازہ رپورٹ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں طاہر اندرابی نے کہا کہ یہ رپورٹ اس مؤقف کی تصدیق کرتی ہے جو پاکستان افغان طالبان حکومت اور عالمی برادری کے سامنے مسلسل پیش کرتا رہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی خطے کے امن اور سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی رپورٹ کے نتائج پاکستان کے سرکاری مؤقف سے ہم آہنگ ہیں اور امید ظاہر کی کہ دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں اس پیغام کو سنجیدگی سے سنا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب کے بہاؤ میں رکاوٹ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>ریڈیو پاکستان کے مطابق اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ انڈس واٹر کمشنر پاکستان نے سندھ طاس معاہدے میں درج شقوں کے مطابق اس معاملے پر وضاحت کے لیے اپنے بھارتی ہم منصب کو خط لکھا ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ بھارت کی جانب سے زرعی سائیکل کے ایک نازک مرحلے پر دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری براہِ راست شہریوں کی زندگیوں اور روزگار کے ساتھ ساتھ غذائی اور معاشی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔</p>
<p>ترجمان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے، دریاؤں کے بہاؤ میں کسی یکطرفہ رد و بدل سے گریز کرے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر پورا کرے۔</p>
<p>طاہر اندرابی نے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے جو خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کا ضامن رہا ہے۔ اس کی خلاف ورزی یا عدم پاسداری ایک جانب بین الاقوامی معاہدوں کے تقدس اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو خطرے میں ڈالتی ہے اور دوسری جانب علاقائی امن، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور ریاستوں کے مابین تعلقات کے ضوابط کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے، تاہم وہ اپنے عوام کے وجود سے جڑے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان اس امر کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب آپشنز استعمال کرے گا کہ بھارت ہماری پانی کی فراہمی کو محدود نہ کرے اور یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہ کرے کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>بھارتی ریاست بہار کے وزیراعلیٰ کی جانب سے ایک مسلم خاتون کا حجاب زبردستی اتارنے کے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اس طرح کا اقدام بھارت میں مسلم خواتین کی تذلیل کو معمول بنانے کے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل بھارت میں مذہبی اقلیتوں  بالخصوص مسلم شہریوں کے لیے کھلی بے حرمتی کا مظہر ہے۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق اس قسم کا رویہ ہندوتوا سے متاثرہ سیاست سے جڑے ایک وسیع اور تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے اور انہوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس واقعے کی سنگینی کو تسلیم کرے، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے، مذہبی آزادی کا احترام کرے اور انسانی وقار کو یقینی بنائے۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی تازہ رپورٹ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں طاہر اندرابی نے کہا کہ یہ رپورٹ اس مؤقف کی تصدیق کرتی ہے جو پاکستان افغان طالبان حکومت اور عالمی برادری کے سامنے مسلسل پیش کرتا رہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی خطے کے امن اور سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی رپورٹ کے نتائج پاکستان کے سرکاری مؤقف سے ہم آہنگ ہیں اور امید ظاہر کی کہ دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں اس پیغام کو سنجیدگی سے سنا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280678</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 17:55:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/iPKqoguvPHk/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/iPKqoguvPHk/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=iPKqoguvPHk"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
