<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور اینٹ گروپ کے درمیان ڈیجیٹل ادائیگیوں اور فنانشل ٹیکنالوجی کے فروغ پر تبادلہ خیال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280677/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے سنگاپور میں قائم عالمی ڈیجیٹل ادائیگیوں , فنانشل ٹیکنالوجی کی کمپنی اینٹ گروپ اور پاکستان کے معروف ڈیجیٹل مالیاتی پلیٹ فارم ایزی پیسہ کے ساتھ ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں، مالی شمولیت اور ٹیکنالوجی پر مبنی مالیاتی خدمات کے فروغ کے لیے تبادلہ خیال کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے  وزارتِ خزانہ میں ایک وفد سے ملاقات کی، جس میں اینٹ انٹرنیشنل کے صدر اور اینٹ گروپ کے سینئر نائب صدر ڈگلس فیگن، ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے چیئرمین عرفان وہاب خان اور صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر جہانزیب خان شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پاکستان کو کیش لیس اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار معیشت کی جانب تیزی سے منتقل کرنے پر غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ ڈیجیٹائزیشن کی جانب قومی پیش رفت میں واضح تیزی آ چکی ہے اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، ادائیگی کے نظام اور سرکاری ادائیگیوں کی ڈیجیٹائزیشن جیسے اہم شعبوں میں مربوط حکمتِ عملی کے تحت واضح کارکردگی اہداف پر کام جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر ڈگلس فیگن نے پاکستان کے ڈیجیٹل معیشتی ایجنڈے کی حمایت کے لیے اینٹ انٹرنیشنل اور اینٹ گروپ کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ ایشیا بھر میں حاصل کیے گئے عالمی تجربات، ٹیکنالوجی صلاحیتوں اور عملی مہارت کو بروئے کار لا کر کیش لیس ادائیگیوں اور ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے فروغ میں مدد دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایزی پیسہ کو ڈیجیٹل بینک کا لائسنس ملنا صلاحیتوں میں اضافے، رسائی کو وسعت دینے اور ڈیجیٹل لین دین کے فروغ کے لیے ایک اہم موقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو کے دوران وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل بینک اور فِن ٹیک پلیٹ فارمز جامع قرضوں اور ہدفی فنانسنگ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، خصوصاً چھوٹے کسانوں جیسے نظرانداز شدہ طبقات کے لیے یہ خدمات انجام دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ زرعی قرضوں کی سہولت کو زیادہ سے زیادہ چھوٹے کاشتکاروں تک پہنچانے کی ضرورت ہے اور قابلِ توسیع ڈیجیٹل پلیٹ فارمز مالی شمولیت اور پائیداری کو بہتر بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے ملکی سرکاری قرضوں کے لیے سرمایہ کاروں کی بنیاد کو متنوع بنانے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے عام شہریوں کی شرکت کو ممکن بنا کر تقسیم کے اخراجات اور رکاوٹوں کو کم کرنے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی، تاکہ شہری آسان ذرائع سے  محفوظ اور قابلِ فروخت سرکاری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایزی پیسہ کے عرفان وہاب خان نے بتایا کہ فِن ٹیک ادارہ بتدریج صرف ادائیگیوں سے آگے بڑھ کر وسیع مالیاتی خدمات کی جانب جا رہا ہے، جس میں مالی شمولیت، صارفین کی آگاہی، بچت اور ویلتھ مینجمنٹ مصنوعات کی تیاری شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں سرحد پار اور والٹ پر مبنی ادائیگیوں کی صلاحیتوں میں بہتری اور صارفین کے لیے لین دین میں رکاوٹیں کم کرنے پر بھی بات چیت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے ورچوئل اثاثوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور انہیں ایک مؤثر ضابطہ جاتی فریم ورک میں لانے کی ضرورت پر حکومت کے مؤقف سے بھی آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں ٹوکنائزیشن سے متعلق مواقع اور ریگولیٹڈ، ٹیکنالوجی پر مبنی چینلز کے ذریعے محفوظ اور قابلِ رسائی مالیاتی مصنوعات، بشمول سرکاری سیکیورٹیز اور کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی، پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان طویل المدتی اور پائیدار ترقی کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے اور اپنے اسٹریٹجک معاشی تعلقات سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈگلس فیگن نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ڈیجیٹل فنانس کے فروغ سے معاشی سرگرمیوں کی بہتر دستاویز بندی ممکن ہوتی ہے اور مختلف عالمی منڈیوں کے تجربات کے مطابق ٹیکس بیس میں توسیع میں مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایزی پیسہ اور اینٹ انٹرنیشنل کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کیو آر کوڈ پر مبنی مرچنٹ نیٹ ورک کو وسعت دی جائے گی اور عملی استعمال کے ذریعے صارفین میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ بایومیٹرک کسٹمر آن بورڈنگ، کمپلائنس تقاضوں اور تصدیقی اخراجات سے متعلق عملی امور پر بھی روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے وفد کے عزم کو سراہا اور حکومت کے ڈیجیٹائزیشن ایجنڈے کے تحت مشترکہ ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ ہم آہنگی میں ٹھوس تجاویز پیش کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے سنگاپور میں قائم عالمی ڈیجیٹل ادائیگیوں , فنانشل ٹیکنالوجی کی کمپنی اینٹ گروپ اور پاکستان کے معروف ڈیجیٹل مالیاتی پلیٹ فارم ایزی پیسہ کے ساتھ ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں، مالی شمولیت اور ٹیکنالوجی پر مبنی مالیاتی خدمات کے فروغ کے لیے تبادلہ خیال کیا۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے  وزارتِ خزانہ میں ایک وفد سے ملاقات کی، جس میں اینٹ انٹرنیشنل کے صدر اور اینٹ گروپ کے سینئر نائب صدر ڈگلس فیگن، ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے چیئرمین عرفان وہاب خان اور صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر جہانزیب خان شامل تھے۔</p>
<p>اجلاس میں پاکستان کو کیش لیس اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار معیشت کی جانب تیزی سے منتقل کرنے پر غور کیا گیا۔</p>
<p>وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ ڈیجیٹائزیشن کی جانب قومی پیش رفت میں واضح تیزی آ چکی ہے اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، ادائیگی کے نظام اور سرکاری ادائیگیوں کی ڈیجیٹائزیشن جیسے اہم شعبوں میں مربوط حکمتِ عملی کے تحت واضح کارکردگی اہداف پر کام جاری ہے۔</p>
<p>اس موقع پر ڈگلس فیگن نے پاکستان کے ڈیجیٹل معیشتی ایجنڈے کی حمایت کے لیے اینٹ انٹرنیشنل اور اینٹ گروپ کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ ایشیا بھر میں حاصل کیے گئے عالمی تجربات، ٹیکنالوجی صلاحیتوں اور عملی مہارت کو بروئے کار لا کر کیش لیس ادائیگیوں اور ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے فروغ میں مدد دی جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایزی پیسہ کو ڈیجیٹل بینک کا لائسنس ملنا صلاحیتوں میں اضافے، رسائی کو وسعت دینے اور ڈیجیٹل لین دین کے فروغ کے لیے ایک اہم موقع ہے۔</p>
<p>گفتگو کے دوران وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل بینک اور فِن ٹیک پلیٹ فارمز جامع قرضوں اور ہدفی فنانسنگ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، خصوصاً چھوٹے کسانوں جیسے نظرانداز شدہ طبقات کے لیے یہ خدمات انجام دے سکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ زرعی قرضوں کی سہولت کو زیادہ سے زیادہ چھوٹے کاشتکاروں تک پہنچانے کی ضرورت ہے اور قابلِ توسیع ڈیجیٹل پلیٹ فارمز مالی شمولیت اور پائیداری کو بہتر بنا سکتے ہیں۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے ملکی سرکاری قرضوں کے لیے سرمایہ کاروں کی بنیاد کو متنوع بنانے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے عام شہریوں کی شرکت کو ممکن بنا کر تقسیم کے اخراجات اور رکاوٹوں کو کم کرنے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی، تاکہ شہری آسان ذرائع سے  محفوظ اور قابلِ فروخت سرکاری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کر سکیں۔</p>
<p>ایزی پیسہ کے عرفان وہاب خان نے بتایا کہ فِن ٹیک ادارہ بتدریج صرف ادائیگیوں سے آگے بڑھ کر وسیع مالیاتی خدمات کی جانب جا رہا ہے، جس میں مالی شمولیت، صارفین کی آگاہی، بچت اور ویلتھ مینجمنٹ مصنوعات کی تیاری شامل ہے۔</p>
<p>اجلاس میں سرحد پار اور والٹ پر مبنی ادائیگیوں کی صلاحیتوں میں بہتری اور صارفین کے لیے لین دین میں رکاوٹیں کم کرنے پر بھی بات چیت ہوئی۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے ورچوئل اثاثوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور انہیں ایک مؤثر ضابطہ جاتی فریم ورک میں لانے کی ضرورت پر حکومت کے مؤقف سے بھی آگاہ کیا۔</p>
<p>اجلاس میں ٹوکنائزیشن سے متعلق مواقع اور ریگولیٹڈ، ٹیکنالوجی پر مبنی چینلز کے ذریعے محفوظ اور قابلِ رسائی مالیاتی مصنوعات، بشمول سرکاری سیکیورٹیز اور کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی، پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان طویل المدتی اور پائیدار ترقی کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے اور اپنے اسٹریٹجک معاشی تعلقات سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔</p>
<p>ڈگلس فیگن نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ڈیجیٹل فنانس کے فروغ سے معاشی سرگرمیوں کی بہتر دستاویز بندی ممکن ہوتی ہے اور مختلف عالمی منڈیوں کے تجربات کے مطابق ٹیکس بیس میں توسیع میں مدد ملتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے ایزی پیسہ اور اینٹ انٹرنیشنل کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کیو آر کوڈ پر مبنی مرچنٹ نیٹ ورک کو وسعت دی جائے گی اور عملی استعمال کے ذریعے صارفین میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ بایومیٹرک کسٹمر آن بورڈنگ، کمپلائنس تقاضوں اور تصدیقی اخراجات سے متعلق عملی امور پر بھی روشنی ڈالی۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے وفد کے عزم کو سراہا اور حکومت کے ڈیجیٹائزیشن ایجنڈے کے تحت مشترکہ ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ ہم آہنگی میں ٹھوس تجاویز پیش کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280677</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 17:35:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/18172021b7073c1.webp" type="image/webp" medium="image" height="1333" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/18172021b7073c1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
