<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹریٹ کرائم میں 44 فیصد کمی، 89 فیصد بڑے منشیات فروش پکڑلیے ، وزیر اعلیٰ سندھ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280662/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے  سندھ پولیس میں وسیع اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اصلاحات اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے سندھ میں امن و امان میں واضح بہتری آئی ہے۔ موبائل فون اور گاڑیوں کی چھینا جھپٹی اور چوری کے واقعات میں 44 فیصد سے زائد کمی آئی ہے جبکہ  بڑے منشیات فروشوں میں سے 89 فیصد کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ تقریباً 12 ہزار سی سی ٹی وی کیمرے قومی ڈیٹا بیس سے منسلک کیے جا چکے ہیں اور عادی مجرموں کی الیکٹرانک ٹیگنگ سے نگرانی اور جرائم کی روک تھام میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ سندھ نے یہ بات 55 ویں پی این اسٹاف کورس اور 23ویں کورسپانڈنس اسٹاف کورس کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جن کی قیادت کمانڈنٹ پی این وار کالج / کمانڈر سینٹرل پنجاب  ریئر ایڈمرل سہیل احمد اعظمی کر رہے تھے۔ اس موقع پر سندھ کے وزرا، انسپکٹر جنرل پولیس اور سیکریٹریز بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ سندھ پولیس، جو 1843 میں قائم ہوئی اور برصغیر کی قدیم ترین فورسز میں شمار ہوتی ہے، اس وقت 31 اضلاع میں 618 پولیس اسٹیشنز اور ایک لاکھ 62 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہے جبکہ اس کا بجٹ تقریباً 190 ارب روپے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ لائن آف ڈیوٹی کے دوران 2,553 اہلکاروں کی شہادت کے باوجود فورس کو ڈھانچے، آپریشنز اور فلاح و بہبود کے شعبوں میں جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت نے پولیسنگ کی بنیادی اکائی یعنی پولیس اسٹیشن پر خصوصی توجہ دی ہے، جس کے تحت تزئین و آرائش، اپ گریڈیشن اور مالی خودمختاری دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ سینکڑوں پولیس اسٹیشنز کو علیحدہ بجٹ فراہم کیا گیا ہے جبکہ ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران کو ڈرائنگ اینڈ ڈسبَرْسنگ آفیسرز کے اختیارات دیے گئے ہیں ،تاکہ فیصلہ سازی میں تیزی اور جوابدہی کو بہتر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ نے ٹیکنالوجی پر مبنی متعدد اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اسٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کے تحت تمام مقدمات کا ریکارڈ ڈیجیٹل طور پر محفوظ کیا جا رہا ہے اور اسے فارنزک، کیمیکل، ڈی این اے اور میڈیکو لیگل لیبارٹریوں کے ساتھ ساتھ عدالتی نظام سے بھی منسلک کر دیا گیا ہے، جس سے ججز آن لائن مقدمات کی پیش رفت دیکھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ سندھ اسمارٹ سرویلنس سسٹم، جو ٹول پلازوں پر مصنوعی ذہانت سے لیس کیمروں کے ساتھ نصب ہے، مجرمانہ اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے ڈیٹا سے منسلک ہے اور اس کی مدد سے سیکڑوں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ جدید سی ٹی ڈی فیوژن سینٹر اوپن سورس انٹیلی جنس، بگ ڈیٹا اور جدید ویڈیو و آڈیو ٹولز کے ذریعے انسداد دہشت گردی کو مضبوط بنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دیگر نظاموں میں ہوٹل آئی مینجمنٹ سسٹم شامل ہے، جو ہوٹلوں میں قیام پذیر افراد کی نگرانی کرتا ہے اور اس کے ذریعے متعدد گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ ایمپلائی ویریفکیشن سسٹم بایومیٹرک تصدیق کے ذریعے ملازمین کی جانچ پڑتال کرتا ہے، جس سے ہزاروں مجرموں کو پکڑا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ تلاشی ڈیوائس کے ذریعے اہلکار موقع پر ہی بایومیٹرک تصدیق کے ذریعے کسی بھی شخص کا ریکارڈ چیک کر سکتے ہیں۔ شفافیت بڑھانے کے لیے باڈی وورن کیمرے بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ نے خصوصی یونٹس کا بھی ذکر کیا جن میں سنٹرلائزڈ انویسٹی گیشن سیلز، خصوصی سیکیورٹی یونٹ (جو بین الاقوامی کرکٹ اور دیگر ہائی رسک ایونٹس کی سیکیورٹی فراہم کر چکا ہے)، ریپڈ رسپانس فورس، کراؤڈ مینجمنٹ یونٹ (خواتین ونگ سمیت) اور سندھ پولیس ہائی وے پیٹرول شامل ہیں، جنہیں اہم شاہراہوں کے تحفظ کے لیے جدید گاڑیوں اور نفری سے لیس کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ٹریفک مینجمنٹ کو بھی آن لائن ڈرائیونگ لائسنس سسٹم اور اے آئی پر مبنی نفاذ و ای چالان پلیٹ فارم کے ذریعے جدید بنایا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جنوری 2024 سے نومبر 2025 کے دوران موبائل اور گاڑیوں کی چھینا جھپٹی اور چوری کے واقعات میں 44 فیصد سے زائد جبکہ ڈکیتیوں کے دوران ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات میں 60 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ نے کچے کے علاقوں میں حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ردعمل کی پالیسی سے ہٹ کر حملہ، ہتھیار ڈالنے، اسلحہ تلفی اور قومی دھارے میں لانے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق 2024 سے سکھر، گھوٹکی، کشمور اور شکارپور میں ٹیکنالوجی کی مدد سے کیے گئے مؤثر آپریشنز کے نتیجے میں سینکڑوں ڈاکو ہلاک، زخمی یا گرفتار کیے گئے، بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا اور سر کی قیمت والے درجنوں مطلوب ملزمان نے خود کو قانون کے حوالے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ جنوری سے نومبر 2025 کے دوران منظم جرائم اور منشیات کے خلاف بھرپور کارروائی کرتے ہوئے اعلیٰ درجے کے منشیات فروشوں میں سے 89 فیصد کو گرفتار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود پر بھی بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ شہید اہلکاروں کے خاندانوں کو خطیر معاوضہ، ریٹائرمنٹ کی عمر تک تنخواہ، ملازمت کے مواقع، صحت کی سہولتیں، بچوں کے لیے وظائف اور شادی کے لیے مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد فورس کی قربانیوں کا اعتراف اور ان کا احترام کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مستقبل میں کراچی سیف سٹی پروجیکٹ جیسے بڑے ٹیکنالوجیکل منصوبے، جن کے تحت 12 ہزار سی سی ٹی وی کیمرے قومی ڈیٹا بیس سے منسلک ہوں گے اور عادی مجرموں کی الیکٹرانک ٹیگنگ نگرانی اور جرائم کی روک تھام کو مزید مؤثر بنائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے  سندھ پولیس میں وسیع اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اصلاحات اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے سندھ میں امن و امان میں واضح بہتری آئی ہے۔ موبائل فون اور گاڑیوں کی چھینا جھپٹی اور چوری کے واقعات میں 44 فیصد سے زائد کمی آئی ہے جبکہ  بڑے منشیات فروشوں میں سے 89 فیصد کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ تقریباً 12 ہزار سی سی ٹی وی کیمرے قومی ڈیٹا بیس سے منسلک کیے جا چکے ہیں اور عادی مجرموں کی الیکٹرانک ٹیگنگ سے نگرانی اور جرائم کی روک تھام میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>وزیر اعلیٰ سندھ نے یہ بات 55 ویں پی این اسٹاف کورس اور 23ویں کورسپانڈنس اسٹاف کورس کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جن کی قیادت کمانڈنٹ پی این وار کالج / کمانڈر سینٹرل پنجاب  ریئر ایڈمرل سہیل احمد اعظمی کر رہے تھے۔ اس موقع پر سندھ کے وزرا، انسپکٹر جنرل پولیس اور سیکریٹریز بھی موجود تھے۔</p>
<p>وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ سندھ پولیس، جو 1843 میں قائم ہوئی اور برصغیر کی قدیم ترین فورسز میں شمار ہوتی ہے، اس وقت 31 اضلاع میں 618 پولیس اسٹیشنز اور ایک لاکھ 62 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہے جبکہ اس کا بجٹ تقریباً 190 ارب روپے ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ لائن آف ڈیوٹی کے دوران 2,553 اہلکاروں کی شہادت کے باوجود فورس کو ڈھانچے، آپریشنز اور فلاح و بہبود کے شعبوں میں جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>سید مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت نے پولیسنگ کی بنیادی اکائی یعنی پولیس اسٹیشن پر خصوصی توجہ دی ہے، جس کے تحت تزئین و آرائش، اپ گریڈیشن اور مالی خودمختاری دی گئی ہے۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ سینکڑوں پولیس اسٹیشنز کو علیحدہ بجٹ فراہم کیا گیا ہے جبکہ ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران کو ڈرائنگ اینڈ ڈسبَرْسنگ آفیسرز کے اختیارات دیے گئے ہیں ،تاکہ فیصلہ سازی میں تیزی اور جوابدہی کو بہتر بنایا جا سکے۔</p>
<p>وزیر اعلیٰ نے ٹیکنالوجی پر مبنی متعدد اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اسٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کے تحت تمام مقدمات کا ریکارڈ ڈیجیٹل طور پر محفوظ کیا جا رہا ہے اور اسے فارنزک، کیمیکل، ڈی این اے اور میڈیکو لیگل لیبارٹریوں کے ساتھ ساتھ عدالتی نظام سے بھی منسلک کر دیا گیا ہے، جس سے ججز آن لائن مقدمات کی پیش رفت دیکھ سکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ سندھ اسمارٹ سرویلنس سسٹم، جو ٹول پلازوں پر مصنوعی ذہانت سے لیس کیمروں کے ساتھ نصب ہے، مجرمانہ اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے ڈیٹا سے منسلک ہے اور اس کی مدد سے سیکڑوں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ جدید سی ٹی ڈی فیوژن سینٹر اوپن سورس انٹیلی جنس، بگ ڈیٹا اور جدید ویڈیو و آڈیو ٹولز کے ذریعے انسداد دہشت گردی کو مضبوط بنا رہا ہے۔</p>
<p>اسی طرح دیگر نظاموں میں ہوٹل آئی مینجمنٹ سسٹم شامل ہے، جو ہوٹلوں میں قیام پذیر افراد کی نگرانی کرتا ہے اور اس کے ذریعے متعدد گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ ایمپلائی ویریفکیشن سسٹم بایومیٹرک تصدیق کے ذریعے ملازمین کی جانچ پڑتال کرتا ہے، جس سے ہزاروں مجرموں کو پکڑا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ تلاشی ڈیوائس کے ذریعے اہلکار موقع پر ہی بایومیٹرک تصدیق کے ذریعے کسی بھی شخص کا ریکارڈ چیک کر سکتے ہیں۔ شفافیت بڑھانے کے لیے باڈی وورن کیمرے بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔</p>
<p>وزیر اعلیٰ نے خصوصی یونٹس کا بھی ذکر کیا جن میں سنٹرلائزڈ انویسٹی گیشن سیلز، خصوصی سیکیورٹی یونٹ (جو بین الاقوامی کرکٹ اور دیگر ہائی رسک ایونٹس کی سیکیورٹی فراہم کر چکا ہے)، ریپڈ رسپانس فورس، کراؤڈ مینجمنٹ یونٹ (خواتین ونگ سمیت) اور سندھ پولیس ہائی وے پیٹرول شامل ہیں، جنہیں اہم شاہراہوں کے تحفظ کے لیے جدید گاڑیوں اور نفری سے لیس کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ٹریفک مینجمنٹ کو بھی آن لائن ڈرائیونگ لائسنس سسٹم اور اے آئی پر مبنی نفاذ و ای چالان پلیٹ فارم کے ذریعے جدید بنایا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جنوری 2024 سے نومبر 2025 کے دوران موبائل اور گاڑیوں کی چھینا جھپٹی اور چوری کے واقعات میں 44 فیصد سے زائد جبکہ ڈکیتیوں کے دوران ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات میں 60 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔</p>
<p>وزیر اعلیٰ نے کچے کے علاقوں میں حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ردعمل کی پالیسی سے ہٹ کر حملہ، ہتھیار ڈالنے، اسلحہ تلفی اور قومی دھارے میں لانے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق 2024 سے سکھر، گھوٹکی، کشمور اور شکارپور میں ٹیکنالوجی کی مدد سے کیے گئے مؤثر آپریشنز کے نتیجے میں سینکڑوں ڈاکو ہلاک، زخمی یا گرفتار کیے گئے، بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا اور سر کی قیمت والے درجنوں مطلوب ملزمان نے خود کو قانون کے حوالے کیا۔</p>
<p>وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ جنوری سے نومبر 2025 کے دوران منظم جرائم اور منشیات کے خلاف بھرپور کارروائی کرتے ہوئے اعلیٰ درجے کے منشیات فروشوں میں سے 89 فیصد کو گرفتار کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود پر بھی بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ شہید اہلکاروں کے خاندانوں کو خطیر معاوضہ، ریٹائرمنٹ کی عمر تک تنخواہ، ملازمت کے مواقع، صحت کی سہولتیں، بچوں کے لیے وظائف اور شادی کے لیے مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد فورس کی قربانیوں کا اعتراف اور ان کا احترام کرنا ہے۔</p>
<p>آخر میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مستقبل میں کراچی سیف سٹی پروجیکٹ جیسے بڑے ٹیکنالوجیکل منصوبے، جن کے تحت 12 ہزار سی سی ٹی وی کیمرے قومی ڈیٹا بیس سے منسلک ہوں گے اور عادی مجرموں کی الیکٹرانک ٹیگنگ نگرانی اور جرائم کی روک تھام کو مزید مؤثر بنائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280662</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 13:17:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/181305066bc5050.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/181305066bc5050.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
