<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرمایہ کاری کا جمود</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280654/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقتصادی صورتحال کی خراب خبریں مسلسل تشویش پیدا کرتی ہوئی آ رہی ہیں۔ حالیہ میڈیا رپورٹس میں انتباہ دیا گیا ہے کہ مالی سال 2026 میں سرمایہ کاری کا جی ڈی پی کے مقابلے میں تناسب 13 فیصد سے کم ہو سکتا ہے کیونکہ ملکی سرمایہ کاری اور غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری  دونوں ایسے درجے تک گر جائیں گی جو دہائیوں میں نہیں دیکھے گئے۔ یہ پہلے ہی سرمایہ کی کمی سے دوچار معیشت کے لیے ایک نیا کم ترین ریکارڈ ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انتباہ اس لیے بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ مالی سال 2024 میں یہ تناسب پہلے ہی 13.1 فیصد تک گر چکا تھا جو پچھلے 50 سال میں سب سے کم سطح تھی اور اس وقت وسیع پیمانے پر تشویش پیدا ہوئی تھی۔ اگرچہ اگلے مالی سال میں معمولی بحالی دیکھنے میں آئی، لیکن اب واضح ہو چکا ہے کہ حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملکی سرمایہ کار سرگرمی سے پیچھے ہیں، غیر ملکی سرمایہ کار پیچھے ہٹ رہے ہیں اور یہاں تک کہ مستحکم غیر ملکی کاروبار بھی بتدریج مارکیٹ چھوڑ رہے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سرمایہ کاری کے تناسب میں ممکنہ طور پر مزید گراوٹ آئے گی، جس کے سنگین اثرات ترقی، روزگار اور طویل مدتی اقتصادی استحکام پر مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب واضح ہو چکا ہے کہ 2023 کی بڑی شہرت پانے والی سرمایہ کاری پالیسی نہ تو سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکی اور نہ ہی وہ رفتار فراہم کرسکی جو سرمائے کو متوجہ کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کاری کے تناسب کو 20 فیصد تک بڑھانے کا ہدف اب ایک سنجیدہ پالیسی مقصد کے طور پر اپنی ساری معتبریت کھوچکا ہے جو محض خوش فہمی سے آگے بڑھ کر اب مکمل طور پر خیالی حد میں جا پہنچا ہے۔ اس معاشی بحران کی جڑیں کوئی راز نہیں، کیونکہ انہیں بار بار اقتصادی رپورٹس اور تجزیاتی تحریروں میں بیان کیا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ بنیادی طور پر خطرات سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور ہمیشہ ایسے ماحول کی طرف متوقع طور پر بہتا ہے جو سیاسی استحکام، پالیسی کی یقین دہانی، قانون کی بالادستی اور سیکیورٹی فراہم کرتا ہو۔ موجودہ سیاسی، پالیسی اور سیکیورٹی ماحول میں یہ بنیادی عوامل سنجیدہ سرمایہ کاروں کی ضروریات کے معیار سے بہت کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ مہینوں میں نہ صرف ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک سے نکل گئیں بلکہ پاکستان کی بڑی ٹیکسٹائل کمپنیوں نے بھی سرمایہ کاری بیرون ملک منتقل کردیں، یہ ادارے توانائی کی کمر توڑ قیمتوں جو شعبہ بجلی میں حکومت کی دائمی بدانتظامی کا نتیجہ ہیں  اور مسلسل بلند شرحِ سود کے دباؤ کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دباؤ میں مزید شدت اس ٹیکس ڈھانچے کی وجہ سے آ رہی ہے جو منافع کے بجائے ’ٹرن اوور‘ (کل فروخت) پر کم از کم ٹیکس کے اصول پر مبنی ہے، جبکہ کاروباری لین دین کے ہر مرحلے پر لاگو ہونے والے متعدد ودہولڈنگ ٹیکس اور بعض صورتوں میں 60 فیصد تک پہنچنے والی ٹیکس کی شرح نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر ٹیکس کے مؤثر بوجھ کو اس سطح پر لے جا رہے ہیں جو ملک کے اندر دوبارہ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی اور ریگولیٹری دباؤ کے ساتھ بڑھتی ہوئی دہشت گردی، غیر مستحکم سرحدیں اور متعدد شعبوں میں غیر مستقل مزاج (ڈانواں ڈول) طرزِ حکمرانی جیسے سنگین مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں، جو مجموعی طور پر سرمایہ کاروں کے خدشات اور احتیاط میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ تصادم آمیز سیاست نے بھی حالات کو بہتر بنانے میں مدد نہیں کی اور بلا ضرورت سیاسی عدم استحکام کو ہوا دی ہے۔ اگرچہ حزبِ اختلاف کا کردار یہاں تعمیری نہیں رہا، تاہم حقیقت یہ ہے کہ سیاسی درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے کی اصل ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، جس کا فرض ہے کہ مستحکم ماحول قائم رکھے جو سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی بنیادی شرط ہے۔ اس حوالے سے حکومت واضح طور پر کمزور دکھائی دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب 2023 کی سرمایہ کاری پالیسی کے تحت اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل  قائم کی گئی تھی تو امید کی گئی تھی کہ ایک واحد ادارہ تمام سرمایہ کاری سے متعلق رکاوٹیں دور کرے گا، بیوروکریٹک پیچیدگی کو کم کرے گا، کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنائے گا اور وفاقی و صوبائی کوششوں کو ہم آہنگ کر کے سرمایہ کاری کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کاری میں رکاؤٹ دراصل گہری ساختی مسائل کی عکاسی کرتی ہے: ایک ایسی معیشت جو طاقتور طبقات کے قبضے کے تحت ہے، ٹیکس نظام میں بگاڑ اور بے شمار نظامی کمزوریاں۔ ان سب کو درست کرنے کے لیے وسیع اصلاحات درکار ہیں جن میں ٹیکس بیس کو وسیع کرنا اور ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ بنانا، توانائی کے مہنگے اخراجات کم کرنے کے لیے پاور سیکٹر کی مکمل اصلاح، اور حکمرانی اور سیاسی استحکام کے وسیع چیلنجز کو حل کرنا شامل ہیں، یہ اقدامات کسی ایک سرمایہ کاری سہولت کار کے دائرہ اختیار سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ جب تک حکمران سیاسی ارادہ اور صلاحیت پیدا نہیں کرتے کہ یہ وسیع اصلاحات نافذ کریں، سرمایہ کاری کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوئی امید محض ایک خواب ہی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقتصادی صورتحال کی خراب خبریں مسلسل تشویش پیدا کرتی ہوئی آ رہی ہیں۔ حالیہ میڈیا رپورٹس میں انتباہ دیا گیا ہے کہ مالی سال 2026 میں سرمایہ کاری کا جی ڈی پی کے مقابلے میں تناسب 13 فیصد سے کم ہو سکتا ہے کیونکہ ملکی سرمایہ کاری اور غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری  دونوں ایسے درجے تک گر جائیں گی جو دہائیوں میں نہیں دیکھے گئے۔ یہ پہلے ہی سرمایہ کی کمی سے دوچار معیشت کے لیے ایک نیا کم ترین ریکارڈ ہوگا۔</strong></p>
<p>یہ انتباہ اس لیے بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ مالی سال 2024 میں یہ تناسب پہلے ہی 13.1 فیصد تک گر چکا تھا جو پچھلے 50 سال میں سب سے کم سطح تھی اور اس وقت وسیع پیمانے پر تشویش پیدا ہوئی تھی۔ اگرچہ اگلے مالی سال میں معمولی بحالی دیکھنے میں آئی، لیکن اب واضح ہو چکا ہے کہ حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔</p>
<p>ملکی سرمایہ کار سرگرمی سے پیچھے ہیں، غیر ملکی سرمایہ کار پیچھے ہٹ رہے ہیں اور یہاں تک کہ مستحکم غیر ملکی کاروبار بھی بتدریج مارکیٹ چھوڑ رہے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سرمایہ کاری کے تناسب میں ممکنہ طور پر مزید گراوٹ آئے گی، جس کے سنگین اثرات ترقی، روزگار اور طویل مدتی اقتصادی استحکام پر مرتب ہوں گے۔</p>
<p>اب واضح ہو چکا ہے کہ 2023 کی بڑی شہرت پانے والی سرمایہ کاری پالیسی نہ تو سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکی اور نہ ہی وہ رفتار فراہم کرسکی جو سرمائے کو متوجہ کرسکے۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کاری کے تناسب کو 20 فیصد تک بڑھانے کا ہدف اب ایک سنجیدہ پالیسی مقصد کے طور پر اپنی ساری معتبریت کھوچکا ہے جو محض خوش فہمی سے آگے بڑھ کر اب مکمل طور پر خیالی حد میں جا پہنچا ہے۔ اس معاشی بحران کی جڑیں کوئی راز نہیں، کیونکہ انہیں بار بار اقتصادی رپورٹس اور تجزیاتی تحریروں میں بیان کیا جاچکا ہے۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ بنیادی طور پر خطرات سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور ہمیشہ ایسے ماحول کی طرف متوقع طور پر بہتا ہے جو سیاسی استحکام، پالیسی کی یقین دہانی، قانون کی بالادستی اور سیکیورٹی فراہم کرتا ہو۔ موجودہ سیاسی، پالیسی اور سیکیورٹی ماحول میں یہ بنیادی عوامل سنجیدہ سرمایہ کاروں کی ضروریات کے معیار سے بہت کم ہیں۔</p>
<p>حالیہ مہینوں میں نہ صرف ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک سے نکل گئیں بلکہ پاکستان کی بڑی ٹیکسٹائل کمپنیوں نے بھی سرمایہ کاری بیرون ملک منتقل کردیں، یہ ادارے توانائی کی کمر توڑ قیمتوں جو شعبہ بجلی میں حکومت کی دائمی بدانتظامی کا نتیجہ ہیں  اور مسلسل بلند شرحِ سود کے دباؤ کا شکار ہیں۔</p>
<p>ان دباؤ میں مزید شدت اس ٹیکس ڈھانچے کی وجہ سے آ رہی ہے جو منافع کے بجائے ’ٹرن اوور‘ (کل فروخت) پر کم از کم ٹیکس کے اصول پر مبنی ہے، جبکہ کاروباری لین دین کے ہر مرحلے پر لاگو ہونے والے متعدد ودہولڈنگ ٹیکس اور بعض صورتوں میں 60 فیصد تک پہنچنے والی ٹیکس کی شرح نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر ٹیکس کے مؤثر بوجھ کو اس سطح پر لے جا رہے ہیں جو ملک کے اندر دوبارہ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔</p>
<p>معاشی اور ریگولیٹری دباؤ کے ساتھ بڑھتی ہوئی دہشت گردی، غیر مستحکم سرحدیں اور متعدد شعبوں میں غیر مستقل مزاج (ڈانواں ڈول) طرزِ حکمرانی جیسے سنگین مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں، جو مجموعی طور پر سرمایہ کاروں کے خدشات اور احتیاط میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔</p>
<p>موجودہ تصادم آمیز سیاست نے بھی حالات کو بہتر بنانے میں مدد نہیں کی اور بلا ضرورت سیاسی عدم استحکام کو ہوا دی ہے۔ اگرچہ حزبِ اختلاف کا کردار یہاں تعمیری نہیں رہا، تاہم حقیقت یہ ہے کہ سیاسی درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے کی اصل ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، جس کا فرض ہے کہ مستحکم ماحول قائم رکھے جو سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی بنیادی شرط ہے۔ اس حوالے سے حکومت واضح طور پر کمزور دکھائی دے رہی ہے۔</p>
<p>جب 2023 کی سرمایہ کاری پالیسی کے تحت اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل  قائم کی گئی تھی تو امید کی گئی تھی کہ ایک واحد ادارہ تمام سرمایہ کاری سے متعلق رکاوٹیں دور کرے گا، بیوروکریٹک پیچیدگی کو کم کرے گا، کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنائے گا اور وفاقی و صوبائی کوششوں کو ہم آہنگ کر کے سرمایہ کاری کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کرے گا۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کاری میں رکاؤٹ دراصل گہری ساختی مسائل کی عکاسی کرتی ہے: ایک ایسی معیشت جو طاقتور طبقات کے قبضے کے تحت ہے، ٹیکس نظام میں بگاڑ اور بے شمار نظامی کمزوریاں۔ ان سب کو درست کرنے کے لیے وسیع اصلاحات درکار ہیں جن میں ٹیکس بیس کو وسیع کرنا اور ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ بنانا، توانائی کے مہنگے اخراجات کم کرنے کے لیے پاور سیکٹر کی مکمل اصلاح، اور حکمرانی اور سیاسی استحکام کے وسیع چیلنجز کو حل کرنا شامل ہیں، یہ اقدامات کسی ایک سرمایہ کاری سہولت کار کے دائرہ اختیار سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ جب تک حکمران سیاسی ارادہ اور صلاحیت پیدا نہیں کرتے کہ یہ وسیع اصلاحات نافذ کریں، سرمایہ کاری کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوئی امید محض ایک خواب ہی رہے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280654</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 11:56:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/1811091411a9394.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/1811091411a9394.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
