<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:22:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:22:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مال برداری کے اوقات بڑھانے پر کارگو ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال ختم کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280643/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں کارگو ٹرانسپورٹرز نے بدھ کے روز اپنی پہیہ جام ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد کراچی کی بندرگاہوں سے ملک بھر کی فیکٹریوں تک مال برداری کا نظام بحال ہونا شروع ہو گیا۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے اہم مطالبات تسلیم کرتے ہوئے 20 فٹ لمبی 10 پہیوں والی کارگو گاڑیوں کو سڑکوں پر چلنے کے لیے روزانہ 19 گھنٹے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت کسٹمز ہاؤس کراچی میں ہونے والے کامیاب مذاکرات کے بعد سامنے آئی، جن کی قیادت پنجاب کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ بلال اکبر خان نے کی۔ پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ مذاکرات میں اقتصادی اور بندرگاہی حکام کے علاوہ مختلف ٹرانسپورٹرز تنظیموں کے نمائندے شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پورٹ قاسم ٹرانسپورٹرز گڈز ایسوسی ایشن کے چیئرمین حماس خان لودھی نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے تحریری نوٹیفکیشن موصول ہونے کے بعد ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق ٹرانسپورٹرز نے فوری طور پر اپنی سرگرمیاں بحال کر دی ہیں اور پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ کے باہر گاڑیوں کی قطاریں لگنا شروع ہو گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس لودھی نے کہا کہ پہلے 10 پہیوں والی 20 فٹ کارگو گاڑیوں کو صرف 9 گھنٹے سڑکوں پر چلنے کی اجازت تھی، تاہم اب یہ گاڑیاں دن میں 19 گھنٹے مال کی ترسیل کر سکیں گی۔ البتہ یہ گاڑیاں دن میں دو مرتبہ سڑکوں سے ہٹیں گی، ایک مرتبہ اسکول اور دفاتر کے کھلنے کے وقت 2.5 گھنٹے کے لیے اور دوسری مرتبہ اسکولوں کی چھٹی کے وقت مزید 2.5 گھنٹے کے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ 14 پہیوں والی کارگو گاڑیوں کے اوقات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور وہ بدستور رات 10 بجے سے صبح 7 بجے تک چل سکیں گی۔ اس کے علاوہ حکومت نے کراچی میں این ایل سی کے قریب، امریکی قونصل خانے کے نزدیک، گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے 50 ایکڑ زمین مختص کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ٹرانسپورٹرز کی یہ ہڑتال گزشتہ سات روز سے جاری تھی، جس میں پورٹ قاسم ٹرانسپورٹرز گڈز ایسوسی ایشن سمیت 9 دیگر تنظیمیں شامل تھیں۔ ہڑتال کے باعث حکومت اور صنعتی شعبے کو روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کے معاشی نقصانات کا سامنا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین توقیر الحق نے بتایا کہ ہڑتال کے باعث ادویات کی سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی اور ملک کے بعض علاقوں میں دواؤں کی قلت پیدا ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ دواساز صنعت کو خام مال کی درآمد اور تیار شدہ مصنوعات کی برآمد میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اس سے قبل افغانستان کے ساتھ سرحدی بندش کے باعث بھی دواساز کمپنیوں کو تقریباً 200 ملین ڈالر کے نقصانات اٹھانا پڑے تھے، کیونکہ ہمسایہ ملک کو برآمدات معطل ہو گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں کارگو ٹرانسپورٹرز نے بدھ کے روز اپنی پہیہ جام ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد کراچی کی بندرگاہوں سے ملک بھر کی فیکٹریوں تک مال برداری کا نظام بحال ہونا شروع ہو گیا۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے اہم مطالبات تسلیم کرتے ہوئے 20 فٹ لمبی 10 پہیوں والی کارگو گاڑیوں کو سڑکوں پر چلنے کے لیے روزانہ 19 گھنٹے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت کسٹمز ہاؤس کراچی میں ہونے والے کامیاب مذاکرات کے بعد سامنے آئی، جن کی قیادت پنجاب کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ بلال اکبر خان نے کی۔ پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ مذاکرات میں اقتصادی اور بندرگاہی حکام کے علاوہ مختلف ٹرانسپورٹرز تنظیموں کے نمائندے شریک تھے۔</p>
<p>پورٹ قاسم ٹرانسپورٹرز گڈز ایسوسی ایشن کے چیئرمین حماس خان لودھی نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے تحریری نوٹیفکیشن موصول ہونے کے بعد ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق ٹرانسپورٹرز نے فوری طور پر اپنی سرگرمیاں بحال کر دی ہیں اور پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ کے باہر گاڑیوں کی قطاریں لگنا شروع ہو گئی ہیں۔</p>
<p>حماس لودھی نے کہا کہ پہلے 10 پہیوں والی 20 فٹ کارگو گاڑیوں کو صرف 9 گھنٹے سڑکوں پر چلنے کی اجازت تھی، تاہم اب یہ گاڑیاں دن میں 19 گھنٹے مال کی ترسیل کر سکیں گی۔ البتہ یہ گاڑیاں دن میں دو مرتبہ سڑکوں سے ہٹیں گی، ایک مرتبہ اسکول اور دفاتر کے کھلنے کے وقت 2.5 گھنٹے کے لیے اور دوسری مرتبہ اسکولوں کی چھٹی کے وقت مزید 2.5 گھنٹے کے لیے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ 14 پہیوں والی کارگو گاڑیوں کے اوقات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور وہ بدستور رات 10 بجے سے صبح 7 بجے تک چل سکیں گی۔ اس کے علاوہ حکومت نے کراچی میں این ایل سی کے قریب، امریکی قونصل خانے کے نزدیک، گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے 50 ایکڑ زمین مختص کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ ٹرانسپورٹرز کی یہ ہڑتال گزشتہ سات روز سے جاری تھی، جس میں پورٹ قاسم ٹرانسپورٹرز گڈز ایسوسی ایشن سمیت 9 دیگر تنظیمیں شامل تھیں۔ ہڑتال کے باعث حکومت اور صنعتی شعبے کو روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کے معاشی نقصانات کا سامنا رہا۔</p>
<p>ادھر پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین توقیر الحق نے بتایا کہ ہڑتال کے باعث ادویات کی سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی اور ملک کے بعض علاقوں میں دواؤں کی قلت پیدا ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ دواساز صنعت کو خام مال کی درآمد اور تیار شدہ مصنوعات کی برآمد میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>یاد رہے کہ اس سے قبل افغانستان کے ساتھ سرحدی بندش کے باعث بھی دواساز کمپنیوں کو تقریباً 200 ملین ڈالر کے نقصانات اٹھانا پڑے تھے، کیونکہ ہمسایہ ملک کو برآمدات معطل ہو گئی تھیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280643</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 09:23:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/18092119e898783.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/18092119e898783.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
