<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:39:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:39:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کو کس نظر سے دیکھا جائے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280623/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق  شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کردی گئی ہے جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ جولائی تا نومبر اوسطاً مہنگائی ہدف 5 سے 7 فیصد کے اندر رہی، اگرچہ بنیادی مہنگائی نسبتاً برقرار رہی جس کی وجہ عالمی سطح پر اشیائے خوردونوش کی نسبتاً مستحکم قیمتیں اور مہنگائی کی متوقع شرح کا مستحکم رہنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیرت انگیز طور پر مانیٹری پالیسی کمیٹی  نے صرف مہنگائی کے درمیانی مدت کے ہدف (5 سے 7 فیصد) کا حوالہ دیاجس کا ذکر وہ گزشتہ ایک سال سے اپنے بیانات میں کر رہی ہے لیکن نومبر میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں ہونے والی کمی کا ذکر نہیں کیا، جو اکتوبر کے 6.2 فیصد سے گر کر نومبر میں 6.1 فیصد پر آگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ستمبر 2025 میں سی پی آئی  5.6 فیصد تھی، جس کا مطلب یہ تھا کہ اکتوبر میں مہنگائی میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا، لیکن اس اضافے کے باوجود 27 اکتوبر 2025 کے اجلاس میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے ڈسکاؤنٹ ریٹ (شرحِ سود) میں کوئی اضافہ نہیں کیا تھا۔ دوسری جانب نومبر میں ’کور انفلیشن‘ (بنیادی مہنگائی) برقرار نہیں رہی بلکہ اس میں واضح کمی دیکھی گئی؛ اکتوبر 2025 کے 7.5 فیصد کے مقابلے میں نومبر میں یہ 6.6 فیصد رہیم یعنی گزشتہ ماہ اس میں 0.9 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم پی سی کا حالیہ بیان 11 دسمبر کی صبح ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئی ان دستاویزات کی بازگشت معلوم ہوتا ہے جو اکتوبر 2025 تک کے اعداد و شمار پر مبنی تھیں: سیلاب کے بعد، اکتوبر میں سالانہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 6.2 فیصد ہو گئی، جس کی بنیادی وجہ گندم اور جلد خراب ہونے والی اشیاء (سبزیوں وغیرہ) کی قیمتیں تھیں، تاہم 7.8 فیصد پر ’کور انفلیشن‘ معتدل رہی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نومبر میں یہ اعداد و شمار بدل چکے تھے لہٰذا ایم پی سی کا بیان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ان ہدایات پر پورا نہیں اترتا جو اس نے 12 دسمبر 2025 کو اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئی دستاویزات بعنوان پاکستان کا ای ایف ایف کے تحت دوسرا جائزہ اور آر ایس ایف کے تحت پہلا جائزہ میں دی تھیں۔ آئی ایم ایف نے زور دیا تھا کہ پاکستان اپنی مانیٹری پالیسی  فریم ورک کے تجزیاتی ستونوں اور مواصلاتی نظام  کو مضبوط بنائے، جس میں ایم پی سی کے جوابی عمل  کی وضاحت شامل ہو، تاکہ شدید غیر یقینی صورتحال کے باوجود طویل مدتی توقعات کو مستحکم کرنے کے لیے پالیسی کے مؤقف کا واضح تخمینہ فراہم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں حکومت نے آئی ایم ایف سے یہ وعدہ کیا ہے کہ دو بنیادی اشیاءگندم اور چینی کے حوالے سے پالیسیاں بالترتیب مئی کے آخر اور جون کے آخر تک مرتب اور مشتہر کر دی جائیں گی۔ ان پالیسیوں میں درج ذیل پابندیوں کے خاتمے کا تصور دیا گیا ہے: ضوابط کا خاتمہ: گنا اگانے کیلئے مخصوص علاقوں کی پابندی، گنے کے استعمال و فروخت اور نئی شوگر ملوں کے لیے لائسنسنگ کی شرط ختم کرنا (یہ ضوابط طاقتور شوگر لابی کی جوڑ توڑ کو کم کرنے کے لیے بنائے گئے تھے، حالانکہ انہیں ختم کرنے سے کم از کم قلیل مدت میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں)۔تجارت کی آزادی: درآمدی ڈیوٹی میں کمی اور برآمدات کو آزاد کرنا (جس سے طاقتور برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کی ایسوسی ایشنز مصنوعی قلت پیدا کر سکتی ہیں)۔قیمتوں پر کنٹرول کا خاتمہ: سرکاری سطح پر قیمتیں مقرر کرنے کا نظام ختم کرنا (جو براہِ راست صارفین کے لیے قیمتوں پر منفی اثر ڈالے گا)۔ ان پالیسیوں کی کامیابی کا دارومدار کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی اس صلاحیت پر ہوگا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ مارکیٹ میں کوئی ملی بھگت نہ ہو، یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جسے سی سی پی طویل عرصے سے نافذ کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کی عکاسی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے دستاویزات میں مزید کہا گیا کہ ایم پی سی نے اپنی پچھلی چار میٹنگز میں پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رکھا، اس کی وجوہات میں خوراک اور توانائی کی مہنگائی میں فیور ایبل بیس ایفیکٹس کے بتدریج ختم ہونے کی توقع، شرحِ سود میں پچھلی کٹوتیوں کے تاخیری اثرات اور حالیہ سیلاب کے اثرات سمیت بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نسبتاً زیادہ حقیقی شرحِ سود کے باوجود ستمبر میں نجی شعبے کے قرضوں میں (سالانہ بنیادوں پر) 13.7 فیصد اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر مینوفیکچرنگ کے شعبے اور کار فنانسنگ کے لیے، اگرچہ یہ اضافہ ایک بہت ہی کم بنیاد  سے شروع ہوا تھا۔“ تاہم، یہ معلومات فنانس ڈویژن کی جانب سے نومبر کے لیے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ درج ذیل ڈیٹا سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں:(i) نجی شعبے کو دیے گئے قرضے (فلو) ئکم جولائی تا 7 نومبر 2025 میں منفی 54.9 ارب روپے رہے جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یکم جولائی تا 8 نومبر 2024 میں یہ مثبت 878.7 ارب روپے تھے، اس اضافے کی وجہ پیداوار میں اضافہ نہیں بلکہ قیاسی قرضوں اور گاڑیوں کی فنانسنگ میں اضافہ ہے؛(ii) بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ سیکٹر میں اس سال جولائی تا اکتوبر میں 4.7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 8.7 فیصد تھا؛ اگرچہ اس اضافے کا تاثر حالیہ فیکٹری بندشوں میں ظاہر نہیں ہوتا، مگر پیداوار کے کچھ ذیلی شعبوں کی طرف سے مزید بندشوں اور دہائیوں سے اس ملک میں کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نکل جانے کی دھمکی کے بعد جاری مذاکرات اس کو ظاہر کرتے ہیں؛(iii) گاڑیوں کی فنانسنگ اور فنڈ کی جانب سے سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دینے کی ہدایت، زیادہ تر غیر ملکی گاڑی ساز کمپنیوں کی بندش کا سبب بن سکتی ہے جو بنیادی طور پر اسمبلی میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی ریٹ میں کمی کو حکومتی مالیاتی اعداد و شمار کی حمایت حاصل نہیں ہے، جو کہ آئی ایم ایف کے اکتوبر 2024 کے دستاویزات کے مطابق اہم خامیوں کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے جاری تکنیکی معاونت کی مدت میں توسیع کی گئی ہے جو جون 2026 کے آخر تک مکمل ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور پچھلے ماہ بنیادی مہنگائی میں کمی کے پیش نظر 50 بیسز پوائنٹس کی کمی بہت کم ہے، جس سے یہ تاثر تقویت پاتا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ کمی آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کی بنیاد پر کی گئی، تاکہ سرمایہ کاری کے موافق ماحول کا اشارہ دیا جا سکے، اس ملک میں دہائیوں سے کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی حالیہ بندشوں کو روکا جا سکے، مختلف مینوفیکچرنگ ذیلی شعبوں کی جانب سے ٹیکس اقدامات کے خلاف جاری مزاحمت کو کم کیا جا سکے جو برآمدات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں، اور آخر میں، ڈسکاؤنٹ ریٹ اب بھی خطے میں سب سے زیادہ ہے، مقابلہ کرنے والے ممالک کے مقابلے میں دوگنا سے زیادہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلاصہ یہ کہ ایم پی سی کی مربوط اور محتاط مانیٹری و مالیاتی پالیسیوں کی ضرورت پر دوبارہ زور، جو زیادہ تر سکڑاؤ پر مبنی ہیں، امکان نہیں کہ ترقی کو بڑھائیں، سوائے اس کے کہ صارفین کے اخراجات (ریٹیل اور ہول سیل ٹریڈ) میں اضافہ ہو جو سستی درآمدات کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے (فنڈ کی تجارتی ریگولیشن میں نرمی پر زور، ایک موقف جو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے مخالف ہے اور اس کے نتیجے میں باہمی رویہ متاثر ہوتا ہے)، اور اس خطے میں ہمارے سرحدی علاقوں سے بڑھتے ہوئے اسمگلنگ کے ذریعے بھی یہ اثر ظاہر ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے کے لیے بیرونی قرضوں پر بھاری انحصار بھی جاری ہے، اور 8 فیصد بے روزگاری کے ساتھ ”اہم شعبوں میں مضبوط رفتار“ کے دعوے حقیقت سے کوسوں دور معلوم ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق  شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کردی گئی ہے جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ جولائی تا نومبر اوسطاً مہنگائی ہدف 5 سے 7 فیصد کے اندر رہی، اگرچہ بنیادی مہنگائی نسبتاً برقرار رہی جس کی وجہ عالمی سطح پر اشیائے خوردونوش کی نسبتاً مستحکم قیمتیں اور مہنگائی کی متوقع شرح کا مستحکم رہنا ہے۔</strong></p>
<p>حیرت انگیز طور پر مانیٹری پالیسی کمیٹی  نے صرف مہنگائی کے درمیانی مدت کے ہدف (5 سے 7 فیصد) کا حوالہ دیاجس کا ذکر وہ گزشتہ ایک سال سے اپنے بیانات میں کر رہی ہے لیکن نومبر میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں ہونے والی کمی کا ذکر نہیں کیا، جو اکتوبر کے 6.2 فیصد سے گر کر نومبر میں 6.1 فیصد پر آگئی تھی۔</p>
<p>اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ستمبر 2025 میں سی پی آئی  5.6 فیصد تھی، جس کا مطلب یہ تھا کہ اکتوبر میں مہنگائی میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا، لیکن اس اضافے کے باوجود 27 اکتوبر 2025 کے اجلاس میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے ڈسکاؤنٹ ریٹ (شرحِ سود) میں کوئی اضافہ نہیں کیا تھا۔ دوسری جانب نومبر میں ’کور انفلیشن‘ (بنیادی مہنگائی) برقرار نہیں رہی بلکہ اس میں واضح کمی دیکھی گئی؛ اکتوبر 2025 کے 7.5 فیصد کے مقابلے میں نومبر میں یہ 6.6 فیصد رہیم یعنی گزشتہ ماہ اس میں 0.9 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>ایم پی سی کا حالیہ بیان 11 دسمبر کی صبح ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئی ان دستاویزات کی بازگشت معلوم ہوتا ہے جو اکتوبر 2025 تک کے اعداد و شمار پر مبنی تھیں: سیلاب کے بعد، اکتوبر میں سالانہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 6.2 فیصد ہو گئی، جس کی بنیادی وجہ گندم اور جلد خراب ہونے والی اشیاء (سبزیوں وغیرہ) کی قیمتیں تھیں، تاہم 7.8 فیصد پر ’کور انفلیشن‘ معتدل رہی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نومبر میں یہ اعداد و شمار بدل چکے تھے لہٰذا ایم پی سی کا بیان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ان ہدایات پر پورا نہیں اترتا جو اس نے 12 دسمبر 2025 کو اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئی دستاویزات بعنوان پاکستان کا ای ایف ایف کے تحت دوسرا جائزہ اور آر ایس ایف کے تحت پہلا جائزہ میں دی تھیں۔ آئی ایم ایف نے زور دیا تھا کہ پاکستان اپنی مانیٹری پالیسی  فریم ورک کے تجزیاتی ستونوں اور مواصلاتی نظام  کو مضبوط بنائے، جس میں ایم پی سی کے جوابی عمل  کی وضاحت شامل ہو، تاکہ شدید غیر یقینی صورتحال کے باوجود طویل مدتی توقعات کو مستحکم کرنے کے لیے پالیسی کے مؤقف کا واضح تخمینہ فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p>مزید برآں حکومت نے آئی ایم ایف سے یہ وعدہ کیا ہے کہ دو بنیادی اشیاءگندم اور چینی کے حوالے سے پالیسیاں بالترتیب مئی کے آخر اور جون کے آخر تک مرتب اور مشتہر کر دی جائیں گی۔ ان پالیسیوں میں درج ذیل پابندیوں کے خاتمے کا تصور دیا گیا ہے: ضوابط کا خاتمہ: گنا اگانے کیلئے مخصوص علاقوں کی پابندی، گنے کے استعمال و فروخت اور نئی شوگر ملوں کے لیے لائسنسنگ کی شرط ختم کرنا (یہ ضوابط طاقتور شوگر لابی کی جوڑ توڑ کو کم کرنے کے لیے بنائے گئے تھے، حالانکہ انہیں ختم کرنے سے کم از کم قلیل مدت میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں)۔تجارت کی آزادی: درآمدی ڈیوٹی میں کمی اور برآمدات کو آزاد کرنا (جس سے طاقتور برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کی ایسوسی ایشنز مصنوعی قلت پیدا کر سکتی ہیں)۔قیمتوں پر کنٹرول کا خاتمہ: سرکاری سطح پر قیمتیں مقرر کرنے کا نظام ختم کرنا (جو براہِ راست صارفین کے لیے قیمتوں پر منفی اثر ڈالے گا)۔ ان پالیسیوں کی کامیابی کا دارومدار کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی اس صلاحیت پر ہوگا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ مارکیٹ میں کوئی ملی بھگت نہ ہو، یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جسے سی سی پی طویل عرصے سے نافذ کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کی عکاسی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ہوتی ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے دستاویزات میں مزید کہا گیا کہ ایم پی سی نے اپنی پچھلی چار میٹنگز میں پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رکھا، اس کی وجوہات میں خوراک اور توانائی کی مہنگائی میں فیور ایبل بیس ایفیکٹس کے بتدریج ختم ہونے کی توقع، شرحِ سود میں پچھلی کٹوتیوں کے تاخیری اثرات اور حالیہ سیلاب کے اثرات سمیت بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال شامل تھی۔</p>
<p>نسبتاً زیادہ حقیقی شرحِ سود کے باوجود ستمبر میں نجی شعبے کے قرضوں میں (سالانہ بنیادوں پر) 13.7 فیصد اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر مینوفیکچرنگ کے شعبے اور کار فنانسنگ کے لیے، اگرچہ یہ اضافہ ایک بہت ہی کم بنیاد  سے شروع ہوا تھا۔“ تاہم، یہ معلومات فنانس ڈویژن کی جانب سے نومبر کے لیے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ درج ذیل ڈیٹا سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں:(i) نجی شعبے کو دیے گئے قرضے (فلو) ئکم جولائی تا 7 نومبر 2025 میں منفی 54.9 ارب روپے رہے جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یکم جولائی تا 8 نومبر 2024 میں یہ مثبت 878.7 ارب روپے تھے، اس اضافے کی وجہ پیداوار میں اضافہ نہیں بلکہ قیاسی قرضوں اور گاڑیوں کی فنانسنگ میں اضافہ ہے؛(ii) بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ سیکٹر میں اس سال جولائی تا اکتوبر میں 4.7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 8.7 فیصد تھا؛ اگرچہ اس اضافے کا تاثر حالیہ فیکٹری بندشوں میں ظاہر نہیں ہوتا، مگر پیداوار کے کچھ ذیلی شعبوں کی طرف سے مزید بندشوں اور دہائیوں سے اس ملک میں کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نکل جانے کی دھمکی کے بعد جاری مذاکرات اس کو ظاہر کرتے ہیں؛(iii) گاڑیوں کی فنانسنگ اور فنڈ کی جانب سے سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دینے کی ہدایت، زیادہ تر غیر ملکی گاڑی ساز کمپنیوں کی بندش کا سبب بن سکتی ہے جو بنیادی طور پر اسمبلی میں مصروف ہیں۔</p>
<p>پالیسی ریٹ میں کمی کو حکومتی مالیاتی اعداد و شمار کی حمایت حاصل نہیں ہے، جو کہ آئی ایم ایف کے اکتوبر 2024 کے دستاویزات کے مطابق اہم خامیوں کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے جاری تکنیکی معاونت کی مدت میں توسیع کی گئی ہے جو جون 2026 کے آخر تک مکمل ہو جائے گی۔</p>
<p>اور پچھلے ماہ بنیادی مہنگائی میں کمی کے پیش نظر 50 بیسز پوائنٹس کی کمی بہت کم ہے، جس سے یہ تاثر تقویت پاتا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ کمی آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کی بنیاد پر کی گئی، تاکہ سرمایہ کاری کے موافق ماحول کا اشارہ دیا جا سکے، اس ملک میں دہائیوں سے کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی حالیہ بندشوں کو روکا جا سکے، مختلف مینوفیکچرنگ ذیلی شعبوں کی جانب سے ٹیکس اقدامات کے خلاف جاری مزاحمت کو کم کیا جا سکے جو برآمدات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں، اور آخر میں، ڈسکاؤنٹ ریٹ اب بھی خطے میں سب سے زیادہ ہے، مقابلہ کرنے والے ممالک کے مقابلے میں دوگنا سے زیادہ۔</p>
<p>خلاصہ یہ کہ ایم پی سی کی مربوط اور محتاط مانیٹری و مالیاتی پالیسیوں کی ضرورت پر دوبارہ زور، جو زیادہ تر سکڑاؤ پر مبنی ہیں، امکان نہیں کہ ترقی کو بڑھائیں، سوائے اس کے کہ صارفین کے اخراجات (ریٹیل اور ہول سیل ٹریڈ) میں اضافہ ہو جو سستی درآمدات کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے (فنڈ کی تجارتی ریگولیشن میں نرمی پر زور، ایک موقف جو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے مخالف ہے اور اس کے نتیجے میں باہمی رویہ متاثر ہوتا ہے)، اور اس خطے میں ہمارے سرحدی علاقوں سے بڑھتے ہوئے اسمگلنگ کے ذریعے بھی یہ اثر ظاہر ہو سکتا ہے۔</p>
<p>غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے کے لیے بیرونی قرضوں پر بھاری انحصار بھی جاری ہے، اور 8 فیصد بے روزگاری کے ساتھ ”اہم شعبوں میں مضبوط رفتار“ کے دعوے حقیقت سے کوسوں دور معلوم ہوتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280623</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Dec 2025 14:28:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/1713133709b1d17.webp" type="image/webp" medium="image" height="998" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/1713133709b1d17.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
