<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 100 سے زائد پوائنٹس مزید گرگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280601/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو بھی ابتدائی تیزی کے اثرات زائل ہوگئے اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس منفی زون میں بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا۔ بعدازاں منافع خوری کا رجحان غالب آگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ایک موقع پر دن کی کم ترین سطح 169,230.49 پوائنٹس پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 133 پوائنٹس یا 0.08 فیصد کی کمی سے 170,313.85 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ یوبی ایل، این بی پی،ایچ بی ایل،اے کے بی ایل اور پی آئی او سی کے شیئرز میں اضافے سے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس 771 پوائنٹس بڑھ گیا تاہم، دوسری جانب لک، او جی ڈی سی اور اینگرو ہولڈنگ کے حصص میں کمی کی وجہ سے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس 290 پوائنٹس گرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ نومبر 2025 میں 100 ملین ڈالر سرپلس ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سرپلس درآمدی بل میں نمایاں کمی کی وجہ سے سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ میں گزشتہ روز کا کاروبار منفی زون میں اختتام پذیر ہوا، جہاں پرافٹ ٹیکنگ نے ابتدائی مثبت رجحان کو زائل کر دیا۔ بہتر لیکویڈیٹی اور اہم شعبوں میں بڑھتی ہوئی سرگرمی کے باوجود سرمایہ کار محتاط دکھائی دیے۔منگل کو کے ایس ای 100 انڈیکس 294.05 پوائنٹس یا 0.17 فیصد کمی سے 170,447.30 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر بدھ کو عالمی اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا جہاں امریکا میں ملازمتوں سے متعلق مخلوط اعداد و شمار شرحِ سود کے حوالے سے توقعات پر کوئی واضح اثر نہ ڈال سکے۔ اس صورتحال میں سرمایہ کار آئندہ حکمتِ عملی کے لیے نئے اشاروں کے منتظر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر مارکیٹ میں حصص کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے منگل کو جاری ہونے والی امریکا کی طویل عرصے سے متوقع نان فارم پے رولز رپورٹ کو بڑی حد تک نظر انداز کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ نومبر میں روزگار کے مواقع میں توقعات سے زیادہ اضافہ ہوا اور اکتوبر میں تقریباً پانچ سال کی سب سے بڑی کمی کے بعد بحالی دیکھی گئی، تاہم بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 4.6 فیصد ہو گئی، جو چار سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار میں خاصی بے ترتیبی موجود ہے، جس کی ایک بڑی وجہ حکومت کی ریکارڈ 43 روزہ شٹ ڈاؤن رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک حصص پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس 0.24 فیصد بڑھا جس میں چینی مارکیٹس کا اہم کردار رہا جبکہ جاپان کا نِکئی انڈیکس 0.35 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وال اسٹریٹ میں کیش سیشن کے ملا جلا رہنے کے بعد نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز تقریباً مستحکم رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈ فنڈز فیوچرز کے مطابق مارکیٹس اب بھی آئندہ سال امریکا میں تقریباً دو مرتبہ شرحِ سود میں کمی کی قیمت لگائے ہوئے ہیں اور تازہ لیبر مارکیٹ کے اعداد و شمار نے ان توقعات میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں کے لیے اگلا اہم ڈیٹا پوائنٹ جمعرات کو امریکا کی نومبر کی مہنگائی سے متعلق رپورٹ کا اجرا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء بدھ کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں بہتری ریکارڈ کی گئی جو 0.01 فیصد مضبوط ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.27 پر بند ہوئی، یعنی امریکی ڈالر کے مقابلے میں تین پیسے کا اضافہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام شیئرز انڈیکس پر حجم کم ہو کر 1,068.51 ملین رہ گیا، جو پچھلے سیشن میں 1,176.64 ملین ریکارڈ کیا گیا تھا۔ شیئرز کی قدر بھی کم ہو کر 51.80 ارب روپے رہ گئی، جبکہ پچھلے سیشن میں یہ 53.47 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک آف پنجاب حجم میں پہلے نمبر پر رہا جس کے 90.62 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد ہیسکول پیٹرول کے 83.92 ملین اور ٹی پی ایل پراپرٹیز کے 53.15 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو کل 483 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 178 میں اضافہ، 255 میں کمی اور 50 کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/17230618baa64be.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/17230618baa64be.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو بھی ابتدائی تیزی کے اثرات زائل ہوگئے اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس منفی زون میں بند ہوا۔</strong></p>
<p>مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا۔ بعدازاں منافع خوری کا رجحان غالب آگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ایک موقع پر دن کی کم ترین سطح 169,230.49 پوائنٹس پر آگیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 133 پوائنٹس یا 0.08 فیصد کی کمی سے 170,313.85 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ یوبی ایل، این بی پی،ایچ بی ایل،اے کے بی ایل اور پی آئی او سی کے شیئرز میں اضافے سے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس 771 پوائنٹس بڑھ گیا تاہم، دوسری جانب لک، او جی ڈی سی اور اینگرو ہولڈنگ کے حصص میں کمی کی وجہ سے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس 290 پوائنٹس گرگیا۔</p>
<p>علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ نومبر 2025 میں 100 ملین ڈالر سرپلس ہوگیا۔</p>
<p>یہ سرپلس درآمدی بل میں نمایاں کمی کی وجہ سے سامنے آیا۔</p>
<p>پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ میں گزشتہ روز کا کاروبار منفی زون میں اختتام پذیر ہوا، جہاں پرافٹ ٹیکنگ نے ابتدائی مثبت رجحان کو زائل کر دیا۔ بہتر لیکویڈیٹی اور اہم شعبوں میں بڑھتی ہوئی سرگرمی کے باوجود سرمایہ کار محتاط دکھائی دیے۔منگل کو کے ایس ای 100 انڈیکس 294.05 پوائنٹس یا 0.17 فیصد کمی سے 170,447.30 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر بدھ کو عالمی اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا جہاں امریکا میں ملازمتوں سے متعلق مخلوط اعداد و شمار شرحِ سود کے حوالے سے توقعات پر کوئی واضح اثر نہ ڈال سکے۔ اس صورتحال میں سرمایہ کار آئندہ حکمتِ عملی کے لیے نئے اشاروں کے منتظر رہے۔</p>
<p>وسیع تر مارکیٹ میں حصص کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے منگل کو جاری ہونے والی امریکا کی طویل عرصے سے متوقع نان فارم پے رولز رپورٹ کو بڑی حد تک نظر انداز کر دیا۔</p>
<p>اگرچہ نومبر میں روزگار کے مواقع میں توقعات سے زیادہ اضافہ ہوا اور اکتوبر میں تقریباً پانچ سال کی سب سے بڑی کمی کے بعد بحالی دیکھی گئی، تاہم بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 4.6 فیصد ہو گئی، جو چار سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار میں خاصی بے ترتیبی موجود ہے، جس کی ایک بڑی وجہ حکومت کی ریکارڈ 43 روزہ شٹ ڈاؤن رہی۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک حصص پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس 0.24 فیصد بڑھا جس میں چینی مارکیٹس کا اہم کردار رہا جبکہ جاپان کا نِکئی انڈیکس 0.35 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔</p>
<p>وال اسٹریٹ میں کیش سیشن کے ملا جلا رہنے کے بعد نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز تقریباً مستحکم رہے۔</p>
<p>فیڈ فنڈز فیوچرز کے مطابق مارکیٹس اب بھی آئندہ سال امریکا میں تقریباً دو مرتبہ شرحِ سود میں کمی کی قیمت لگائے ہوئے ہیں اور تازہ لیبر مارکیٹ کے اعداد و شمار نے ان توقعات میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی۔</p>
<p>سرمایہ کاروں کے لیے اگلا اہم ڈیٹا پوائنٹ جمعرات کو امریکا کی نومبر کی مہنگائی سے متعلق رپورٹ کا اجرا ہوگا۔</p>
<p>دریں اثناء بدھ کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں بہتری ریکارڈ کی گئی جو 0.01 فیصد مضبوط ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.27 پر بند ہوئی، یعنی امریکی ڈالر کے مقابلے میں تین پیسے کا اضافہ۔</p>
<p>تمام شیئرز انڈیکس پر حجم کم ہو کر 1,068.51 ملین رہ گیا، جو پچھلے سیشن میں 1,176.64 ملین ریکارڈ کیا گیا تھا۔ شیئرز کی قدر بھی کم ہو کر 51.80 ارب روپے رہ گئی، جبکہ پچھلے سیشن میں یہ 53.47 ارب روپے تھی۔</p>
<p>بینک آف پنجاب حجم میں پہلے نمبر پر رہا جس کے 90.62 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد ہیسکول پیٹرول کے 83.92 ملین اور ٹی پی ایل پراپرٹیز کے 53.15 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔</p>
<p>بدھ کو کل 483 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 178 میں اضافہ، 255 میں کمی اور 50 کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/17230618baa64be.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/17230618baa64be.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280601</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Dec 2025 23:10:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/171054024c5c299.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/171054024c5c299.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
