<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Technology</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 04:26:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 04:26:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کرپٹو ایکسچینجز بیرونی سرمایہ کاری بڑھا اور سرمایہ کا انخلا روک سکتی ہیں، ماہرین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280587/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالیاتی ماہرین پاکستان میں کرپٹو ایکسچینجز کے مستقبل کے کردار کے حوالے سے پرامید ہیں، جو سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے، سرمایہ کی پرواز کو روکنے اور ٹیکس محصولات کے ذریعے معیشت میں حصہ ڈالنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں بڑی ورچوئل کرنسی ٹریڈنگ پلیٹ فارمز کی دلچسپی ایک مثبت علامت ہے، جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے اور غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی ) کو متوجہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کئی کثیر القومی کمپنیاں ملک میں اپنی سرگرمیاں کم یا بند کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی ( پی وی اے آر اے) نے بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو اسناد عدم اعتراض ( این او سیز ) جاری کیے ہیں، جس سے دونوں عالمی کرپٹو پلیٹ فارمز پاکستان میں رسمی رجسٹریشن اور سرگرمیوں کا آغاز کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کرپٹو ایکسچینجز مقامی ذیلی کمپنیوں کے قیام کے لیے ریگولیٹرز کے ساتھ رجسٹریشن کریں گی اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے سرکاری بانڈز، ٹی بلز اور کموڈیٹی ریزرو میں تقریباً 2 ارب ڈالر کی ٹوکنائزیشن کے امکانات کا جائزہ لیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ٹریڈ سیکیورٹیز کے چیئرمین اور مالیاتی ماہر علی فرید خواجہ کے مطابق، ”بائنانس اور ایچ ٹی ایکس مشہور ڈیجیٹل ایکسچینج کمپنیاں ہیں، جن کی ویلیو کئی بینکوں، کثیر القومی کمپنیوں اور کیپیٹل مارکیٹ فرموں سے کہیں زیادہ ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی فرید خواجہ نے مزید کہا کہ دونوں کمپنیوں [بائنانس اور ایچ ٹی ایکس] کو پاکستان میں کام شروع کرنے میں دلچسپی ہے اور وہ مقامی قوانین اور ضوابط کی پابندی کے لیے تیار ہیں۔ ان کے بقول، یہ پاکستان کے لیے مثبت پیش رفت ہے، اس کے برعکس عالمی ٹیک کمپنیوں جیسے گوگل، فیس بک اور ٹک ٹاک، جو پاکستان میں مقامی آپریشن قائم کرنے میں ہچکچا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ان کرپٹو ایکسچینجز کے قیام سے سرمایہ کی پرواز کو پلٹنے، سرمایہ کاروں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے اور صحت مند ٹیکس محصولات پیدا کرنے کا راستہ ہموار ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی فرید خواجہ نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں افراد نے کرپٹو کرنسی میں بھاری سرمایہ کاری کی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک سے بڑے پیمانے پر سرمایہ باہر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”جب یہ ایکسچینجز فعال ہو جائیں گی، تو نہ صرف سرمایہ کی پرواز پلٹے گی بلکہ پاکستان میں نئی غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان دنیا میں کرپٹو اپنانے والے ممالک میں سرفہرست ہے اور یہاں تقریباً 30 سے 40 ملین صارفین موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیٹا والٹ کی سی ای او مہوش سلمان علی کے مطابق پاکستان کے ورچوئل ایسٹس ایکو سسٹم میں ہونے والی پیش رفت ملک کی مستقبل کی ٹیک سرمایہ کاری، بشمول بلاک چین اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی)، کے لیے مثبت تصویر پیش کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ حکومت نے پہلے ہی کم استعمال شدہ توانائی کو ایک مضبوط ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بتایا ہے، جس سے اربوں ڈالر کے اقتصادی مواقع کھل سکتے ہیں، اعلیٰ ہنر مند ملازمتیں پیدا ہوں گی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس ایکو سسٹم کی رسمی شکل، اے آئی اور کلاؤڈ سروسز کے امتزاج کے ساتھ، قومی جی ڈی پی میں اضافہ، برآمدات کی آمدنی میں وسعت اور ٹیکنالوجی میں خودمختاری مضبوط کر سکتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں متحدہ عرب امارات ( یو اے ای )، جاپان اور یورپی یونین کے کچھ علاقوں  نے عالمی سطح پر کرپٹو ایکسچینجز کے لیے رسمی لائسنسنگ قواعد کو بڑھایا ہے، جس کا مقصد سخت ہوتی ہوئی عالمی ریگولیٹری پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیل سنز ایسوسی ایٹس کے چیئرمین اور مالیاتی ماہر ابراہیم امین نے کہا کہ بائنانس اور  ایچ ٹی ایکس کو این او سیز جاری کرنا ورچوئل ایسٹس کے شعبے میں ریگولیٹری مصروفیت کی طرف ایک مثبت قدم ہے، ”کیونکہ ابتدائی مرحلے میں بھی ریگولیٹری وضاحت غیر یقینی صورتحال سے بہتر ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، انہوں نے زور دیا کہ واضح طور پر سمجھا جانا چاہیے کہ این او سیز آپریٹنگ لائسنس نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابراہیم امین نے کہا کہ اصل چیلنج یہ ہے کہ پاکستان اپنا حتمی ریگولیٹری فریم ورک کس طرح ڈیزائن کرتا ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جیسے کہ تعمیل، صارفین کے تحفظ اور زرمبادلہ کے بہاؤ کی نگرانی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اگر ورچوئل ایسٹس کے پلیٹ فارمز کو فعال کیا جاتا ہے تو غیر ملکی زرمبادلہ کے بہاؤ کی جانچ، نگرانی اور کنٹرول کے لیے ایک واضح اور نافذ العمل میکانزم موجود ہونا چاہیے، کیونکہ پاکستان کے لیے غیر منظم سرمایہ کی حرکت کو “انوویشن” کے بہانے برداشت کرنا ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابراہیم امین نے کہا کہ عالمی پلیٹ فارمز کو مقامی کمپنی کے طور پر کام کرنا چاہیے، سخت اینٹی منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی مالیاتی کنٹرولز کے ساتھ، اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی )، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی ) اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسی وقت، ریگولیٹرز کو صنعت کے اداروں، فری لانسرز اور ٹیکنالوجی کے پیشہ ور افراد کے ساتھ فعال مشاورت کرنی چاہیے جب قواعد کو حتمی شکل دی جا رہی ہو۔ اگر یہ صحیح طریقے سے کیا گیا تو پاکستان ایک ذمہ دار ڈیجیٹل معیشت کے طور پر خود کو پیش کر سکتا ہے، جو عالمی پلیٹ فارمز کو راغب کرنے کے ساتھ مقامی ٹیلنٹ کو مضبوط کرے اور برآمدات کو فروغ دے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مالیاتی ماہرین پاکستان میں کرپٹو ایکسچینجز کے مستقبل کے کردار کے حوالے سے پرامید ہیں، جو سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے، سرمایہ کی پرواز کو روکنے اور ٹیکس محصولات کے ذریعے معیشت میں حصہ ڈالنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔</strong></p>
<p>ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں بڑی ورچوئل کرنسی ٹریڈنگ پلیٹ فارمز کی دلچسپی ایک مثبت علامت ہے، جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے اور غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی ) کو متوجہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کئی کثیر القومی کمپنیاں ملک میں اپنی سرگرمیاں کم یا بند کر رہی ہیں۔</p>
<p>حال ہی میں پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی ( پی وی اے آر اے) نے بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو اسناد عدم اعتراض ( این او سیز ) جاری کیے ہیں، جس سے دونوں عالمی کرپٹو پلیٹ فارمز پاکستان میں رسمی رجسٹریشن اور سرگرمیوں کا آغاز کر سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ کرپٹو ایکسچینجز مقامی ذیلی کمپنیوں کے قیام کے لیے ریگولیٹرز کے ساتھ رجسٹریشن کریں گی اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے سرکاری بانڈز، ٹی بلز اور کموڈیٹی ریزرو میں تقریباً 2 ارب ڈالر کی ٹوکنائزیشن کے امکانات کا جائزہ لیں گی۔</p>
<p>کے ٹریڈ سیکیورٹیز کے چیئرمین اور مالیاتی ماہر علی فرید خواجہ کے مطابق، ”بائنانس اور ایچ ٹی ایکس مشہور ڈیجیٹل ایکسچینج کمپنیاں ہیں، جن کی ویلیو کئی بینکوں، کثیر القومی کمپنیوں اور کیپیٹل مارکیٹ فرموں سے کہیں زیادہ ہے۔“</p>
<p>علی فرید خواجہ نے مزید کہا کہ دونوں کمپنیوں [بائنانس اور ایچ ٹی ایکس] کو پاکستان میں کام شروع کرنے میں دلچسپی ہے اور وہ مقامی قوانین اور ضوابط کی پابندی کے لیے تیار ہیں۔ ان کے بقول، یہ پاکستان کے لیے مثبت پیش رفت ہے، اس کے برعکس عالمی ٹیک کمپنیوں جیسے گوگل، فیس بک اور ٹک ٹاک، جو پاکستان میں مقامی آپریشن قائم کرنے میں ہچکچا رہی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ان کرپٹو ایکسچینجز کے قیام سے سرمایہ کی پرواز کو پلٹنے، سرمایہ کاروں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے اور صحت مند ٹیکس محصولات پیدا کرنے کا راستہ ہموار ہوگا۔</p>
<p>علی فرید خواجہ نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں افراد نے کرپٹو کرنسی میں بھاری سرمایہ کاری کی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک سے بڑے پیمانے پر سرمایہ باہر گیا۔</p>
<p>”جب یہ ایکسچینجز فعال ہو جائیں گی، تو نہ صرف سرمایہ کی پرواز پلٹے گی بلکہ پاکستان میں نئی غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔“</p>
<p>پاکستان دنیا میں کرپٹو اپنانے والے ممالک میں سرفہرست ہے اور یہاں تقریباً 30 سے 40 ملین صارفین موجود ہیں۔</p>
<p>ڈیٹا والٹ کی سی ای او مہوش سلمان علی کے مطابق پاکستان کے ورچوئل ایسٹس ایکو سسٹم میں ہونے والی پیش رفت ملک کی مستقبل کی ٹیک سرمایہ کاری، بشمول بلاک چین اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی)، کے لیے مثبت تصویر پیش کرے گی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ حکومت نے پہلے ہی کم استعمال شدہ توانائی کو ایک مضبوط ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بتایا ہے، جس سے اربوں ڈالر کے اقتصادی مواقع کھل سکتے ہیں، اعلیٰ ہنر مند ملازمتیں پیدا ہوں گی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس ایکو سسٹم کی رسمی شکل، اے آئی اور کلاؤڈ سروسز کے امتزاج کے ساتھ، قومی جی ڈی پی میں اضافہ، برآمدات کی آمدنی میں وسعت اور ٹیکنالوجی میں خودمختاری مضبوط کر سکتی ہے۔“</p>
<p>حالیہ برسوں میں متحدہ عرب امارات ( یو اے ای )، جاپان اور یورپی یونین کے کچھ علاقوں  نے عالمی سطح پر کرپٹو ایکسچینجز کے لیے رسمی لائسنسنگ قواعد کو بڑھایا ہے، جس کا مقصد سخت ہوتی ہوئی عالمی ریگولیٹری پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہے۔</p>
<p>ڈیل سنز ایسوسی ایٹس کے چیئرمین اور مالیاتی ماہر ابراہیم امین نے کہا کہ بائنانس اور  ایچ ٹی ایکس کو این او سیز جاری کرنا ورچوئل ایسٹس کے شعبے میں ریگولیٹری مصروفیت کی طرف ایک مثبت قدم ہے، ”کیونکہ ابتدائی مرحلے میں بھی ریگولیٹری وضاحت غیر یقینی صورتحال سے بہتر ہے۔“</p>
<p>تاہم، انہوں نے زور دیا کہ واضح طور پر سمجھا جانا چاہیے کہ این او سیز آپریٹنگ لائسنس نہیں ہیں۔</p>
<p>ابراہیم امین نے کہا کہ اصل چیلنج یہ ہے کہ پاکستان اپنا حتمی ریگولیٹری فریم ورک کس طرح ڈیزائن کرتا ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جیسے کہ تعمیل، صارفین کے تحفظ اور زرمبادلہ کے بہاؤ کی نگرانی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اگر ورچوئل ایسٹس کے پلیٹ فارمز کو فعال کیا جاتا ہے تو غیر ملکی زرمبادلہ کے بہاؤ کی جانچ، نگرانی اور کنٹرول کے لیے ایک واضح اور نافذ العمل میکانزم موجود ہونا چاہیے، کیونکہ پاکستان کے لیے غیر منظم سرمایہ کی حرکت کو “انوویشن” کے بہانے برداشت کرنا ممکن نہیں۔</p>
<p>ابراہیم امین نے کہا کہ عالمی پلیٹ فارمز کو مقامی کمپنی کے طور پر کام کرنا چاہیے، سخت اینٹی منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی مالیاتی کنٹرولز کے ساتھ، اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی )، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی ) اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اسی وقت، ریگولیٹرز کو صنعت کے اداروں، فری لانسرز اور ٹیکنالوجی کے پیشہ ور افراد کے ساتھ فعال مشاورت کرنی چاہیے جب قواعد کو حتمی شکل دی جا رہی ہو۔ اگر یہ صحیح طریقے سے کیا گیا تو پاکستان ایک ذمہ دار ڈیجیٹل معیشت کے طور پر خود کو پیش کر سکتا ہے، جو عالمی پلیٹ فارمز کو راغب کرنے کے ساتھ مقامی ٹیلنٹ کو مضبوط کرے اور برآمدات کو فروغ دے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280587</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Dec 2025 11:52:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/161842371fd55fe.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/161842371fd55fe.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
