<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:17:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 09:17:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر اعظم نے شفافیت اور بہتر کارکردگی پر سی ای او ڈریپ ڈاکٹر عبیداللہ ملک کو ریفارم چیمپئن ایوارڈ سے نواز دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280586/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے ریگولیٹری اصلاحات، شفافیت،کارکردگی میں بہتری اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کے اعتراف میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبیداللہ ملک کو  ریفارم چیمپئن ایوارڈ سے نوازا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوارڈ ملنے پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے ڈاکٹر عبیداللہ ملک نے ایک پیغام میں کہا کہ یہ اعزاز کسی ایک فرد نہیں بلکہ پوری تنظیم کی کامیابی ہے اور ڈریپ کی پوری ٹیم کے عزم، پیشہ ورانہ صلاحیت اور مشترکہ کاوشوں کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اصلاحات ریگولیٹری نظام کی جدید کاری، شفافیت، کارکردگی اور عوامی صحت کے تحفظ پر مرکوز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ ایوارڈ ایک مضبوط، سائنسی بنیادوں پر استوار اور عالمی معیار سے ہم آہنگ ریگولیٹری نظام کی تعمیر کے عزم کو مزید تقویت دیتا ہے، جس کا مقصد پاکستان کے عوام کو محفوظ، مؤثر اور معیاری علاج معالجے کی مصنوعات فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے بھی وزیراعظم کی جانب سے ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو کو ’’ریفارم چیمپئن‘‘ ایوارڈ دیے جانے پر مبارکباد دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی ایم اے نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اعزاز ایسے ریگولیٹری اقدامات کا عکاس ہے جو اس کے اراکین کی معاونت اور پاکستان کے فارماسیوٹیکل شعبے کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے پی پی ایم اے کے سینئر وائس چیئرمین اور اے جی پی لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر و چیف ایگزیکٹو کامران ناصر نے کہا کہ ڈریپ نے ایک صنعت دوست اور سہولت فراہم کرنے والے ریگولیٹری ماحول کے قیام پر نئے سرے سے توجہ دے کر خصوصی پذیرائی حاصل کی ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ریگولیٹری نگرانی کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے زمینی حقائق سے ہم آہنگی اور اس مشترکہ ہدف پر واضح توجہ ضروری ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں پاکستان کو ایک نمایاں فارماسیوٹیکل برآمدی مرکز کے طور پر قائم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق جعلی ادویات کے خاتمے،قواعد وضوابط کے تحفظ اور مجموعی تعمیل میں بہتری اس مقصد کے اہم ستون ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامران ناصر کا کہنا تھا کہ فارماسیوٹیکل صنعت کو ڈریپ کی جانب سے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات سے باخبر رکھنا اور انہیں اس عمل میں شامل رکھنا ایک مثبت اور ضروری پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ڈاکٹر عبیداللہ ملک اور ان کی ٹیم کی قیادت اور نمایاں پیش رفت پر خراجِ تحسین پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈریپ نے فروری 2024 میں پی پی ایم اے کی معاونت سے غیر ضروری ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے میں کردار ادا کیا، جس کے تحت فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو پیداواری لاگت کے مطابق اپنی ادویات کی قیمتیں خود مقرر کرنے کی اجازت دی گئی، تاہم ڈریپ نے ضروری اور جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کے تعین کا اختیار اپنے پاس برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ڈی ریگولیشن کے نتیجے میں فارما انڈسٹری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا، جس سے مریضوں کو معیاری اور اصل ادویات کی دستیابی میں اضافہ ہوا، جعلی ادویات کی مارکیٹ کا خاتمہ ممکن ہوا اور مہنگے داموں بلیک مارکیٹنگ پر قابو پایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ادویات تیار کرنے اور فروخت کرنے والی کمپنیوں نے درجنوں ضروری ادویات کی پیداوار دوبارہ شروع کی، جب ڈریپ نے ہارڈشپ کیسز کے تحت کمپنیوں کو لاگت کے مطابق قیمتوں میں ردوبدل کی اجازت دی، جس سے ادویات کی قیمتیں پیداواری لاگت سے کم رہنے کی شرط ختم ہوئی۔ اس سے قبل کئی کمپنیاں اس لیے ادویات بنانا بند کر چکی تھیں کہ پیداواری لاگت خوردہ قیمت سے بڑھ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان کی فارماسیوٹیکل برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا اور 30 جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال میں یہ شرح دو دہائیوں کی بلند ترین سطح 34 فیصد تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025 میں مقامی طور پر تیار کردہ ادویات کی بیرونِ ملک فروخت 457 ملین ڈالر تک جا پہنچی، جس کے ساتھ یہ شعبہ ملک کی تیز ترین بڑھتی ہوئی برآمدی کیٹیگریز میں پانچویں نمبر پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر اعظم شہباز شریف نے ریگولیٹری اصلاحات، شفافیت،کارکردگی میں بہتری اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کے اعتراف میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبیداللہ ملک کو  ریفارم چیمپئن ایوارڈ سے نوازا ہے۔</strong></p>
<p>ایوارڈ ملنے پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے ڈاکٹر عبیداللہ ملک نے ایک پیغام میں کہا کہ یہ اعزاز کسی ایک فرد نہیں بلکہ پوری تنظیم کی کامیابی ہے اور ڈریپ کی پوری ٹیم کے عزم، پیشہ ورانہ صلاحیت اور مشترکہ کاوشوں کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اصلاحات ریگولیٹری نظام کی جدید کاری، شفافیت، کارکردگی اور عوامی صحت کے تحفظ پر مرکوز ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ ایوارڈ ایک مضبوط، سائنسی بنیادوں پر استوار اور عالمی معیار سے ہم آہنگ ریگولیٹری نظام کی تعمیر کے عزم کو مزید تقویت دیتا ہے، جس کا مقصد پاکستان کے عوام کو محفوظ، مؤثر اور معیاری علاج معالجے کی مصنوعات فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے بھی وزیراعظم کی جانب سے ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو کو ’’ریفارم چیمپئن‘‘ ایوارڈ دیے جانے پر مبارکباد دی ہے۔</p>
<p>پی پی ایم اے نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اعزاز ایسے ریگولیٹری اقدامات کا عکاس ہے جو اس کے اراکین کی معاونت اور پاکستان کے فارماسیوٹیکل شعبے کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے پی پی ایم اے کے سینئر وائس چیئرمین اور اے جی پی لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر و چیف ایگزیکٹو کامران ناصر نے کہا کہ ڈریپ نے ایک صنعت دوست اور سہولت فراہم کرنے والے ریگولیٹری ماحول کے قیام پر نئے سرے سے توجہ دے کر خصوصی پذیرائی حاصل کی ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ریگولیٹری نگرانی کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے زمینی حقائق سے ہم آہنگی اور اس مشترکہ ہدف پر واضح توجہ ضروری ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں پاکستان کو ایک نمایاں فارماسیوٹیکل برآمدی مرکز کے طور پر قائم کیا جائے۔</p>
<p>ان کے مطابق جعلی ادویات کے خاتمے،قواعد وضوابط کے تحفظ اور مجموعی تعمیل میں بہتری اس مقصد کے اہم ستون ہوں گے۔</p>
<p>کامران ناصر کا کہنا تھا کہ فارماسیوٹیکل صنعت کو ڈریپ کی جانب سے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات سے باخبر رکھنا اور انہیں اس عمل میں شامل رکھنا ایک مثبت اور ضروری پیش رفت ہے۔</p>
<p>انہوں نے ڈاکٹر عبیداللہ ملک اور ان کی ٹیم کی قیادت اور نمایاں پیش رفت پر خراجِ تحسین پیش کیا۔</p>
<p>ڈریپ نے فروری 2024 میں پی پی ایم اے کی معاونت سے غیر ضروری ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے میں کردار ادا کیا، جس کے تحت فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو پیداواری لاگت کے مطابق اپنی ادویات کی قیمتیں خود مقرر کرنے کی اجازت دی گئی، تاہم ڈریپ نے ضروری اور جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کے تعین کا اختیار اپنے پاس برقرار رکھا۔</p>
<p>اس ڈی ریگولیشن کے نتیجے میں فارما انڈسٹری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا، جس سے مریضوں کو معیاری اور اصل ادویات کی دستیابی میں اضافہ ہوا، جعلی ادویات کی مارکیٹ کا خاتمہ ممکن ہوا اور مہنگے داموں بلیک مارکیٹنگ پر قابو پایا گیا۔</p>
<p>اس کے علاوہ ادویات تیار کرنے اور فروخت کرنے والی کمپنیوں نے درجنوں ضروری ادویات کی پیداوار دوبارہ شروع کی، جب ڈریپ نے ہارڈشپ کیسز کے تحت کمپنیوں کو لاگت کے مطابق قیمتوں میں ردوبدل کی اجازت دی، جس سے ادویات کی قیمتیں پیداواری لاگت سے کم رہنے کی شرط ختم ہوئی۔ اس سے قبل کئی کمپنیاں اس لیے ادویات بنانا بند کر چکی تھیں کہ پیداواری لاگت خوردہ قیمت سے بڑھ گئی تھی۔</p>
<p>ان اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان کی فارماسیوٹیکل برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا اور 30 جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال میں یہ شرح دو دہائیوں کی بلند ترین سطح 34 فیصد تک پہنچ گئی۔</p>
<p>مالی سال 2025 میں مقامی طور پر تیار کردہ ادویات کی بیرونِ ملک فروخت 457 ملین ڈالر تک جا پہنچی، جس کے ساتھ یہ شعبہ ملک کی تیز ترین بڑھتی ہوئی برآمدی کیٹیگریز میں پانچویں نمبر پر آ گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280586</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 18:34:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/161811099344dfd.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/161811099344dfd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
