<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے پھر برکس میں شمولیت کی خواہش ظاہر کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280584/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے برکس میں شمولیت کی خواہش ایک بار پھر ظاہر کردی ہے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان اس فورم میں تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو جاری بیان کے مطابق وزیرِ خزانہ نے آذربائیجان کی  خبر رساں ایجنسی رپورٹ  اور روس کی نمایاں خبر ایجنسی ریا نووستی  کو دیے گئے دو الگ الگ انٹرویوز میں پاکستان کی معاشی ترجیحات، سرمایہ کاری کے امکانات اور علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ معاشی استحکام، تجارت کے فروغ اور پائیدار سرمایہ کاری کی بنیاد پر ترقی پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریا نووستی کو انٹرویو میں محمد اورنگزیب نے برکس میں شمولیت کی پاکستان کی خواہش کو دہرایا اور کہا کہ پاکستان پہلے ہی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا فعال رکن ہے اور برکس کے فریم ورک میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سرحد پار ادائیگیوں کے متبادل نظاموں پر عالمی سطح پر جاری مباحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے برکس کے ساتھ پاکستان کی شمولیت آگے بڑھے گی ایسے ہی نظاموں کا جائزہ لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاری میں سہولت کے حوالے سے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد کرنسی کے استحکام، منافع کی وطن واپسی اور مجموعی معاشی یقین دہانی سے جڑا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج بہتری آ رہی ہے اور وہ تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہو رہے ہیں، جسے انہوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے بنیادی ضرورت قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ملک کے خطرات کو کم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی بنیاد پر خودمختار ضمانتوں اور ایکسپورٹ کریڈٹ ایجنسیوں کی معاونت پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسیوں کا جائزہ لے رہا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ بڑی تعداد میں پاکستانی کرپٹو کرنسی سے وابستہ سرگرمیوں میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد اس شعبے کو ایک منظم اور ریگولیٹڈ فریم ورک میں لانا ہے، جس کے لیے ورچوئل اثاثہ جات کے لیے ایک ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، تاہم سرمائے کے بہاؤ، قانونی تقاضوں اور منی لانڈرنگ سے متعلق خطرات کا محتاط جائزہ بھی لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی پاکستانی معیشت کے لیے انقلابی ثابت ہو سکتی ہے، بالخصوص زراعت، مالیات، صحت اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بڑے فری لانسر طبقے کو مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پیداوار اور آمدنی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عوامی مالیات اور بجٹ سازی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے روس کے تجربات سے سیکھنے میں پاکستان کی دلچسپی کا اظہار کیا، تاہم پالیسی سازی اور فیصلوں میں انسانی نگرانی کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی روابط پر بات چیت کرتے ہوئے محمد اورنگزیب  نے بین الاقوامی شمال۔جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور سمیت تجارتی راہداریوں کی ترقی کو اہم قرار دیا ،تاکہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے دوران مضبوط تجارتی روابط قائم رکھے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے توانائی، تیل و گیس، معدنیات، کان کنی اور صنعتی تعاون  بشمول ممکنہ اسٹیل مل کے قیام کو پاکستان اور روس کے درمیان تعاون کے اہم شعبے قرار دیا اور بتایا کہ ان معاملات پر وزارت کی  سطح پر بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ نیوز ایجنسی کو دیے گئے علیحدہ انٹرویو میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان طویل عرصے سے مضبوط سرکاری تعلقات اب عملی معاشی نتائج میں تبدیل ہو رہے ہیں، جہاں تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو بڑھتی ہوئی اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ آذربائیجان نے پاکستان میں تقریباً دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، جس کے لیے توانائی، تیل و گیس، معدنیات اور کان کنی کو ترجیحی شعبے قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ کے مطابق متعدد منصوبوں پر بات چیت جاری ہے، جن میں آذربائیجان کی سرکاری کمپنی سوکار   کی جانب سے ممکنہ آئل پائپ لائن میں سرمایہ کاری بھی شامل ہے اور یہ پیش رفت پاکستان میں سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آذربائیجان کی جانب سے کسی بھی مالی معاونت یا قرضے کو امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ سے مشروط کیا جائے گا، کیونکہ پاکستان پائیدار مالیاتی ماڈلز کو ترجیح دیتا ہے جو پیداواری معاشی سرگرمیوں سے منسلک ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ایسی فنانسنگ مختلف صورتوں میں ہو سکتی ہے، جن میں اسٹیٹ بینک کے ساتھ سرمایہ کاری یا منصوبہ بندی کی  بنیاد پر فنانسنگ شامل ہے، تاکہ آذربائیجانی سرمایہ کار پاکستان میں کاروبار کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل کے تعاون کے حوالے سے وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ عالمی تجارتی نظام کو درپیش دباؤ کے تناظر میں جنوبی۔جنوبی تعاون کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان، وسطی ایشیا اور آذربائیجان کے درمیان نئے تجارتی اور ٹرانسپورٹ کوریڈورز کی ترقی کے امکانات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دوطرفہ تجارتی حجم دونوں معیشتوں کی حقیقی صلاحیتوں کی عکاسی نہیں کرتاہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے برکس میں شمولیت کی خواہش ایک بار پھر ظاہر کردی ہے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان اس فورم میں تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔</strong></p>
<p>منگل کو جاری بیان کے مطابق وزیرِ خزانہ نے آذربائیجان کی  خبر رساں ایجنسی رپورٹ  اور روس کی نمایاں خبر ایجنسی ریا نووستی  کو دیے گئے دو الگ الگ انٹرویوز میں پاکستان کی معاشی ترجیحات، سرمایہ کاری کے امکانات اور علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ معاشی استحکام، تجارت کے فروغ اور پائیدار سرمایہ کاری کی بنیاد پر ترقی پر مرکوز ہے۔</p>
<p>ریا نووستی کو انٹرویو میں محمد اورنگزیب نے برکس میں شمولیت کی پاکستان کی خواہش کو دہرایا اور کہا کہ پاکستان پہلے ہی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا فعال رکن ہے اور برکس کے فریم ورک میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے سرحد پار ادائیگیوں کے متبادل نظاموں پر عالمی سطح پر جاری مباحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے برکس کے ساتھ پاکستان کی شمولیت آگے بڑھے گی ایسے ہی نظاموں کا جائزہ لیا جائے گا۔</p>
<p>سرمایہ کاری میں سہولت کے حوالے سے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد کرنسی کے استحکام، منافع کی وطن واپسی اور مجموعی معاشی یقین دہانی سے جڑا ہوتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج بہتری آ رہی ہے اور وہ تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہو رہے ہیں، جسے انہوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے بنیادی ضرورت قرار دیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ملک کے خطرات کو کم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی بنیاد پر خودمختار ضمانتوں اور ایکسپورٹ کریڈٹ ایجنسیوں کی معاونت پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسیوں کا جائزہ لے رہا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ بڑی تعداد میں پاکستانی کرپٹو کرنسی سے وابستہ سرگرمیوں میں شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد اس شعبے کو ایک منظم اور ریگولیٹڈ فریم ورک میں لانا ہے، جس کے لیے ورچوئل اثاثہ جات کے لیے ایک ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، تاہم سرمائے کے بہاؤ، قانونی تقاضوں اور منی لانڈرنگ سے متعلق خطرات کا محتاط جائزہ بھی لیا جائے گا۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی پاکستانی معیشت کے لیے انقلابی ثابت ہو سکتی ہے، بالخصوص زراعت، مالیات، صحت اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بڑے فری لانسر طبقے کو مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پیداوار اور آمدنی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے عوامی مالیات اور بجٹ سازی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے روس کے تجربات سے سیکھنے میں پاکستان کی دلچسپی کا اظہار کیا، تاہم پالیسی سازی اور فیصلوں میں انسانی نگرانی کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا۔</p>
<p>علاقائی روابط پر بات چیت کرتے ہوئے محمد اورنگزیب  نے بین الاقوامی شمال۔جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور سمیت تجارتی راہداریوں کی ترقی کو اہم قرار دیا ،تاکہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے دوران مضبوط تجارتی روابط قائم رکھے جا سکیں۔</p>
<p>انہوں نے توانائی، تیل و گیس، معدنیات، کان کنی اور صنعتی تعاون  بشمول ممکنہ اسٹیل مل کے قیام کو پاکستان اور روس کے درمیان تعاون کے اہم شعبے قرار دیا اور بتایا کہ ان معاملات پر وزارت کی  سطح پر بات چیت جاری ہے۔</p>
<p>رپورٹ نیوز ایجنسی کو دیے گئے علیحدہ انٹرویو میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان طویل عرصے سے مضبوط سرکاری تعلقات اب عملی معاشی نتائج میں تبدیل ہو رہے ہیں، جہاں تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو بڑھتی ہوئی اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ آذربائیجان نے پاکستان میں تقریباً دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، جس کے لیے توانائی، تیل و گیس، معدنیات اور کان کنی کو ترجیحی شعبے قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ کے مطابق متعدد منصوبوں پر بات چیت جاری ہے، جن میں آذربائیجان کی سرکاری کمپنی سوکار   کی جانب سے ممکنہ آئل پائپ لائن میں سرمایہ کاری بھی شامل ہے اور یہ پیش رفت پاکستان میں سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آذربائیجان کی جانب سے کسی بھی مالی معاونت یا قرضے کو امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ سے مشروط کیا جائے گا، کیونکہ پاکستان پائیدار مالیاتی ماڈلز کو ترجیح دیتا ہے جو پیداواری معاشی سرگرمیوں سے منسلک ہوں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ایسی فنانسنگ مختلف صورتوں میں ہو سکتی ہے، جن میں اسٹیٹ بینک کے ساتھ سرمایہ کاری یا منصوبہ بندی کی  بنیاد پر فنانسنگ شامل ہے، تاکہ آذربائیجانی سرمایہ کار پاکستان میں کاروبار کر سکیں۔</p>
<p>مستقبل کے تعاون کے حوالے سے وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ عالمی تجارتی نظام کو درپیش دباؤ کے تناظر میں جنوبی۔جنوبی تعاون کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان، وسطی ایشیا اور آذربائیجان کے درمیان نئے تجارتی اور ٹرانسپورٹ کوریڈورز کی ترقی کے امکانات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دوطرفہ تجارتی حجم دونوں معیشتوں کی حقیقی صلاحیتوں کی عکاسی نہیں کرتاہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280584</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 17:02:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/16164313640d2c8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/16164313640d2c8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
