<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 2025-26 کے لیے آئی ایم ایف کی پیش گوئیاں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280581/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی ایم ایف پروگرام کے دوسرے جائزے کی ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری کے بعد جاری کیے گئے آئی ایم ایف کے اسٹاف رپورٹ میں پاکستان کے لیے 2025-26 کے حوالے سے میکرو اکنامک تخمینوں کا ایک مجموعہ شامل ہے۔ اس مضمون کا مقصد ان تخمینوں کو اجاگر کرنا اور ان کا تجزیہ کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جی ڈی پی کی شرحِ نمو:&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;2025-26 کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے جی ڈی پی کی شرحِ نمو 3.2 فیصد متوقع کی گئی ہے۔ تاہم، یہ تخمینہ 2025-26 کے ابتدائی مہینوں میں آنے والے سیلاب کے بڑے منفی اثرات کی عکاسی نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022-23 کے آخری سیلاب کے باعث جی ڈی پی کی شرحِ نمو منفی 0.2 فیصد تک گر گئی تھی۔ اس کی بڑی وجہ فصلوں کی تباہی تھی، جس کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں 1.2 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس سال بھی اسی نوعیت کے اثرات کا امکان ہے۔ پہلے ہی کپاس کی پیداوار میں پانچ فیصد سے زائد کمی کا تخمینہ لگایا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مینوفیکچرنگ کے شعبے میں معمولی بحالی متوقع ہے، جہاں شرحِ نمو بڑھ کر تین فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ خدمات کے شعبے میں شرحِ نمو دو سے 2.5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ مجموعی طور پر 2025-26 میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو زیادہ امکان ہے کہ دو سے 2.5 فیصد کے درمیان رہے، جو کہ آئی ایم ایف کے 3.2 فیصد کے تخمینے سے کچھ کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بے روزگاری کی شرح:&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;یہ آئی ایم ایف کی جانب سے ایک تکنیکی طور پر قابلِ سوال تخمینہ ہے۔ اس میں سطح اور رجحان کے حوالے سے دو مسائل موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بے روزگاری کی شرح 2024-25 میں آٹھ فیصد ظاہر کی گئی ہے، جو 2025-26 میں کم ہو کر 7.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ تاہم، 2023 کی مردم شماری کے مطابق بے روزگاری کی شرح 22 فیصد تک ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس کے برعکس، حالیہ 2024-25 کے لیبر فورس سروے میں اسے 7.1 فیصد بتایا گیا ہے۔ اس طرح پاکستان میں بے روزگاری کی شرح کے اندازوں میں واضح فرق موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ 2024-25 میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو تین فیصد ہونا، جیسا کہ آئی ایم ایف نے اندازہ لگایا ہے، بے روزگاری کی شرح میں کمی کا باعث بننا انتہائی غیر ممکن دکھائی دیتا ہے۔ بے روزگاری کی شرح میں کسی حد تک کمی کے لیے کم از کم پانچ فیصد جی ڈی پی نمو ضروری ہوتی ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ 2025-26 میں بے روزگاری کی شرح دو عددی سطح پر رہے گی، جس کی ایک وجہ معیشت کے استحکام کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز کردہ پالیسی اقدامات بھی ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مہنگائی کی شرح:&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;یہاں بھی آئی ایم ایف کا تخمینہ محتاط نوعیت کا ہے۔ 2025-26 میں مہنگائی کی اوسط ماہانہ شرح 6.3 فیصد ظاہر کی گئی ہے، جو جون 2025 میں 3.2 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 8.9 فیصد تک جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025-26 کے پہلے نصف میں گندم کے آٹے، چینی اور سبزیوں جیسی غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے شواہد پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں، جس کی ایک وجہ سیلاب بھی ہے۔ نتیجتاً مہنگائی کی اوسط حقیقی شرح بڑھ کر پانچ فیصد تک پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال کے دوسرے نصف میں مہنگائی کی شرح کا انحصار روپے کی قدر میں تبدیلی، زرِی توسیع کی رفتار اور بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافے کی حد پر ہوگا۔ آئندہ گندم اور دیگر فصلوں کی پیداوار کا حجم غذائی اشیا کی قیمتوں میں مہنگائی کی شرح کا تعین کرے گا۔ مجموعی طور پر اس بات کا امکان موجود ہے کہ جون 2026 تک مہنگائی کی شرح دو عددی سطح تک پہنچ جائے۔ اس طرح 2025-26 میں مہنگائی کی اوسط شرح سات فیصد ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہم 2025-26 میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی بجٹ خسارے اور ادائیگیوں کے توازن کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عوامی مالیات:&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ عوامی مالیات میں بہتری کا رجحان 2024-25 کے بعد بھی جاری رہے گا۔ مجموعی بجٹ خسارہ 2023-24 میں جی ڈی پی کے 6.8 فیصد سے کم ہو کر 2024-25 میں 5.4 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025-26 میں خسارے کا تخمینہ جی ڈی پی کے چار فیصد کے برابر لگایا گیا ہے، جو حکومتی ہدف کے قریب ہے۔ یہ ہدف جی ڈی پی کے تناسب سے محصولات میں 0.4 فیصد اضافے اور اخراجات میں ایک فیصد کمی کے ذریعے حاصل کیا جانا ہے۔ خاص طور پر قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں جی ڈی پی کے 1.3 فیصد کے نمایاں کمی کی توقع کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق 2025-26 میں محصولات کی شرحِ نمو تقریباً 13 فیصد بنتی ہے، جبکہ پہلے سہ ماہی میں حقیقی نمو صرف 6.3 فیصد رہی ہے۔ پہلے سہ ماہی میں ہی تقریباً 500 ارب روپے کی کمی سامنے آ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخراجات کے حوالے سے آئی ایم ایف نے 2025-26 میں صرف 4.8 فیصد شرحِ نمو کا تصور پیش کیا ہے، جس میں قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 3.5 فیصد کمی کی توقع بھی شامل ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا دارومدار شرحِ سود کے رجحان پر ہوگا۔ پہلے پانچ ماہ میں اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ قرضوں کی ادائیگی کے علاوہ دیگر اخراجات کی شرحِ نمو 2025-26 میں 10 فیصد سے کم رہنے کا تخمینہ ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں یہ اضافہ صرف تین فیصد تک محدود رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا آئی ایم ایف کی جانب سے مقرر کردہ بجٹ خسارے کے چار فیصد ہدف کے حصول کے لیے محصولات کی شرحِ نمو میں کچھ تیزی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے اخراجات پر پہلے سہ ماہی میں دکھائے گئے کنٹرول کا تسلسل ضروری ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف عوامی قرضے میں اضافے پر قابو پانے کے حوالے سے بھی پرامید ہے۔ تخمینے کے مطابق عوامی قرضہ 2024-25 میں جی ڈی پی کے 76.6 فیصد سے کم ہو کر 2025-26 میں 76.0 فیصد رہ جائے گا۔ اس کے مطابق عوامی قرضے کی سطح میں شرحِ نمو نو فیصد بنتی ہے، جو بجٹ خسارے کے ہدف کے حصول کی صورت میں ممکن ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ادائیگیوں کا توازن:&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;2025-26 کے لیے پاکستان کے بیلنس آف پیمنٹس کے تخمینے شاید سب سے زیادہ اہم ہیں۔ یہ تخمینے 2025-26 میں برائے نام جی ڈی پی کی قدر تقریباً 405 ارب ڈالر اور جون 2026 کے اختتام تک روپے کی قدر 311 روپے فی ڈالر تک گرنے کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا تخمینہ کرنٹ اکاؤنٹ سے متعلق ہے۔ حقیقت پسندانہ طور پر آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ 2024-25 میں تقریباً دو ارب ڈالر کے سرپلس سے 2025-26 میں قریباً 2.5 ارب ڈالر کے خسارے میں تبدیلی آئے گی۔ پہلے چار ماہ میں 0.7 ارب ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔ اگر یہی سطح برقرار رہی تو سال کے لیے آئی ایم ایف کا ہدف حاصل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ ادائیگیوں کے توازن میں خالص آمدن اور آئی ایم ایف سے خالص رقوم کے نتیجے میں متوقع سرپلس کے حجم سے متعلق ہے۔ آئی ایم ایف کے تخمینوں کے مطابق 2025-26 میں یہ سرپلس 3.3 ارب ڈالر بنتا ہے، جبکہ 2024-25 میں یہ 5.2 ارب ڈالر تھا۔ اس اعتبار سے یہ ایک قابلِ حصول ہدف دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، پہلے چار ماہ کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے حوالے سے تقریباً صفر خالص آمدن دیکھی گئی ہے۔ درحقیقت، خالص رقوم کی آمد اور آئی ایم ایف کو خالص ادائیگی کے نتیجے میں صورتحال نہایت معمولی رہی ہے۔ لہٰذا، جب تک رقوم کی آمد میں اضافہ نہیں ہوتا، 2024-25 کے اختتام پر 14.5 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2025-26 کے اختتام تک 17.8 ارب ڈالر تک زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ فی الحال آئی ایم ایف کا ایک پُرامید تخمینہ ہی محسوس ہوتا ہے۔ اگر تاہم ایسا ہو جاتا ہے تو اس سے 2.7 ماہ کی محفوظ درآمدی کوریج میسر آئے گی اور جاری آئی ایم ایف پروگرام کو پاکستان کی بیرونی کمزوری کم کرنے کے حوالے سے ایک کامیاب پروگرام تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے ادائیگیوں کے توازن کے تحت 2025-26 میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی متوقع سطح بھی الگ سے 2 ارب ڈالر بتائی ہے۔ پہلے چار ماہ میں 640 ملین ڈالر کی آمد ہو چکی ہے۔ اس رفتار سے ایف ڈی آئی کا حجم دو ارب ڈالر کے ہدف کے قریب پہنچ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں پاکستان میں غربت کی شرح کے حوالے سے تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے 2019 میں غربت کی شرح صرف 21.9 فیصد ظاہر کی ہے، جو کہ پاکستان بیورو آف شماریات کے 2018-19 کے آخری گھریلو مربوط معاشی سروے (ایچ آئی ای ایس ) سے ماخوذ ہے، جس کی بنیاد پر غربت کا تخمینہ لگانا ممکن تھا۔ تاہم، عالمی بینک نے حالیہ برسوں میں غربت کی شرح کا اندازہ تقریباً 45 فیصد لگایا ہے۔ غالباً آئی ایم ایف اس تاثر سے بچنا چاہتا ہے کہ اس کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی اصلاحات کے نفاذ کا تقاضا کرتی ہے، جو کسی ملک میں غربت کی صورتحال کو مزید خراب کرتی ہیں۔ یہ ایک عام الزام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر آئی ایم ایف کے تخمینے ملک میں شرحِ نمو کے عمل میں معمولی بہتری، افراطِ زر کی شرح کے ایک عددی سطح پر برقرار رہنے، بے روزگاری میں کمی، عوامی مالیات کی صورتحال میں نمایاں بہتری اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں مثبت نتائج کی توقع ظاہر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر کے ذریعے درآمدات کی کوریج بڑھ کر تقریباً محفوظ سطح تک پہنچ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئی ایم ایف پروگرام کے دوسرے جائزے کی ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری کے بعد جاری کیے گئے آئی ایم ایف کے اسٹاف رپورٹ میں پاکستان کے لیے 2025-26 کے حوالے سے میکرو اکنامک تخمینوں کا ایک مجموعہ شامل ہے۔ اس مضمون کا مقصد ان تخمینوں کو اجاگر کرنا اور ان کا تجزیہ کرنا ہے۔</strong></p>
<p><strong>جی ڈی پی کی شرحِ نمو:</strong><br>2025-26 کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے جی ڈی پی کی شرحِ نمو 3.2 فیصد متوقع کی گئی ہے۔ تاہم، یہ تخمینہ 2025-26 کے ابتدائی مہینوں میں آنے والے سیلاب کے بڑے منفی اثرات کی عکاسی نہیں کرتا۔</p>
<p>2022-23 کے آخری سیلاب کے باعث جی ڈی پی کی شرحِ نمو منفی 0.2 فیصد تک گر گئی تھی۔ اس کی بڑی وجہ فصلوں کی تباہی تھی، جس کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں 1.2 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس سال بھی اسی نوعیت کے اثرات کا امکان ہے۔ پہلے ہی کپاس کی پیداوار میں پانچ فیصد سے زائد کمی کا تخمینہ لگایا جا چکا ہے۔</p>
<p>مینوفیکچرنگ کے شعبے میں معمولی بحالی متوقع ہے، جہاں شرحِ نمو بڑھ کر تین فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ خدمات کے شعبے میں شرحِ نمو دو سے 2.5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ مجموعی طور پر 2025-26 میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو زیادہ امکان ہے کہ دو سے 2.5 فیصد کے درمیان رہے، جو کہ آئی ایم ایف کے 3.2 فیصد کے تخمینے سے کچھ کم ہے۔</p>
<p><strong>بے روزگاری کی شرح:</strong><br>یہ آئی ایم ایف کی جانب سے ایک تکنیکی طور پر قابلِ سوال تخمینہ ہے۔ اس میں سطح اور رجحان کے حوالے سے دو مسائل موجود ہیں۔</p>
<p>بے روزگاری کی شرح 2024-25 میں آٹھ فیصد ظاہر کی گئی ہے، جو 2025-26 میں کم ہو کر 7.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ تاہم، 2023 کی مردم شماری کے مطابق بے روزگاری کی شرح 22 فیصد تک ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس کے برعکس، حالیہ 2024-25 کے لیبر فورس سروے میں اسے 7.1 فیصد بتایا گیا ہے۔ اس طرح پاکستان میں بے روزگاری کی شرح کے اندازوں میں واضح فرق موجود ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ 2024-25 میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو تین فیصد ہونا، جیسا کہ آئی ایم ایف نے اندازہ لگایا ہے، بے روزگاری کی شرح میں کمی کا باعث بننا انتہائی غیر ممکن دکھائی دیتا ہے۔ بے روزگاری کی شرح میں کسی حد تک کمی کے لیے کم از کم پانچ فیصد جی ڈی پی نمو ضروری ہوتی ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ 2025-26 میں بے روزگاری کی شرح دو عددی سطح پر رہے گی، جس کی ایک وجہ معیشت کے استحکام کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز کردہ پالیسی اقدامات بھی ہوں گے۔</p>
<p><strong>مہنگائی کی شرح:</strong><br>یہاں بھی آئی ایم ایف کا تخمینہ محتاط نوعیت کا ہے۔ 2025-26 میں مہنگائی کی اوسط ماہانہ شرح 6.3 فیصد ظاہر کی گئی ہے، جو جون 2025 میں 3.2 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 8.9 فیصد تک جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>2025-26 کے پہلے نصف میں گندم کے آٹے، چینی اور سبزیوں جیسی غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے شواہد پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں، جس کی ایک وجہ سیلاب بھی ہے۔ نتیجتاً مہنگائی کی اوسط حقیقی شرح بڑھ کر پانچ فیصد تک پہنچ چکی ہے۔</p>
<p>سال کے دوسرے نصف میں مہنگائی کی شرح کا انحصار روپے کی قدر میں تبدیلی، زرِی توسیع کی رفتار اور بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافے کی حد پر ہوگا۔ آئندہ گندم اور دیگر فصلوں کی پیداوار کا حجم غذائی اشیا کی قیمتوں میں مہنگائی کی شرح کا تعین کرے گا۔ مجموعی طور پر اس بات کا امکان موجود ہے کہ جون 2026 تک مہنگائی کی شرح دو عددی سطح تک پہنچ جائے۔ اس طرح 2025-26 میں مہنگائی کی اوسط شرح سات فیصد ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اب ہم 2025-26 میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی بجٹ خسارے اور ادائیگیوں کے توازن کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لیتے ہیں۔</p>
<p><strong>عوامی مالیات:</strong><br>آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ عوامی مالیات میں بہتری کا رجحان 2024-25 کے بعد بھی جاری رہے گا۔ مجموعی بجٹ خسارہ 2023-24 میں جی ڈی پی کے 6.8 فیصد سے کم ہو کر 2024-25 میں 5.4 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>2025-26 میں خسارے کا تخمینہ جی ڈی پی کے چار فیصد کے برابر لگایا گیا ہے، جو حکومتی ہدف کے قریب ہے۔ یہ ہدف جی ڈی پی کے تناسب سے محصولات میں 0.4 فیصد اضافے اور اخراجات میں ایک فیصد کمی کے ذریعے حاصل کیا جانا ہے۔ خاص طور پر قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں جی ڈی پی کے 1.3 فیصد کے نمایاں کمی کی توقع کی گئی ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق 2025-26 میں محصولات کی شرحِ نمو تقریباً 13 فیصد بنتی ہے، جبکہ پہلے سہ ماہی میں حقیقی نمو صرف 6.3 فیصد رہی ہے۔ پہلے سہ ماہی میں ہی تقریباً 500 ارب روپے کی کمی سامنے آ چکی ہے۔</p>
<p>اخراجات کے حوالے سے آئی ایم ایف نے 2025-26 میں صرف 4.8 فیصد شرحِ نمو کا تصور پیش کیا ہے، جس میں قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 3.5 فیصد کمی کی توقع بھی شامل ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا دارومدار شرحِ سود کے رجحان پر ہوگا۔ پہلے پانچ ماہ میں اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ قرضوں کی ادائیگی کے علاوہ دیگر اخراجات کی شرحِ نمو 2025-26 میں 10 فیصد سے کم رہنے کا تخمینہ ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں یہ اضافہ صرف تین فیصد تک محدود رہا ہے۔</p>
<p>لہٰذا آئی ایم ایف کی جانب سے مقرر کردہ بجٹ خسارے کے چار فیصد ہدف کے حصول کے لیے محصولات کی شرحِ نمو میں کچھ تیزی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے اخراجات پر پہلے سہ ماہی میں دکھائے گئے کنٹرول کا تسلسل ضروری ہوگا۔</p>
<p>آئی ایم ایف عوامی قرضے میں اضافے پر قابو پانے کے حوالے سے بھی پرامید ہے۔ تخمینے کے مطابق عوامی قرضہ 2024-25 میں جی ڈی پی کے 76.6 فیصد سے کم ہو کر 2025-26 میں 76.0 فیصد رہ جائے گا۔ اس کے مطابق عوامی قرضے کی سطح میں شرحِ نمو نو فیصد بنتی ہے، جو بجٹ خسارے کے ہدف کے حصول کی صورت میں ممکن ہو سکے گی۔</p>
<p><strong>ادائیگیوں کا توازن:</strong><br>2025-26 کے لیے پاکستان کے بیلنس آف پیمنٹس کے تخمینے شاید سب سے زیادہ اہم ہیں۔ یہ تخمینے 2025-26 میں برائے نام جی ڈی پی کی قدر تقریباً 405 ارب ڈالر اور جون 2026 کے اختتام تک روپے کی قدر 311 روپے فی ڈالر تک گرنے کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔</p>
<p>پہلا تخمینہ کرنٹ اکاؤنٹ سے متعلق ہے۔ حقیقت پسندانہ طور پر آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ 2024-25 میں تقریباً دو ارب ڈالر کے سرپلس سے 2025-26 میں قریباً 2.5 ارب ڈالر کے خسارے میں تبدیلی آئے گی۔ پہلے چار ماہ میں 0.7 ارب ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔ اگر یہی سطح برقرار رہی تو سال کے لیے آئی ایم ایف کا ہدف حاصل ہو جائے گا۔</p>
<p>اصل مسئلہ ادائیگیوں کے توازن میں خالص آمدن اور آئی ایم ایف سے خالص رقوم کے نتیجے میں متوقع سرپلس کے حجم سے متعلق ہے۔ آئی ایم ایف کے تخمینوں کے مطابق 2025-26 میں یہ سرپلس 3.3 ارب ڈالر بنتا ہے، جبکہ 2024-25 میں یہ 5.2 ارب ڈالر تھا۔ اس اعتبار سے یہ ایک قابلِ حصول ہدف دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>تاہم، پہلے چار ماہ کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے حوالے سے تقریباً صفر خالص آمدن دیکھی گئی ہے۔ درحقیقت، خالص رقوم کی آمد اور آئی ایم ایف کو خالص ادائیگی کے نتیجے میں صورتحال نہایت معمولی رہی ہے۔ لہٰذا، جب تک رقوم کی آمد میں اضافہ نہیں ہوتا، 2024-25 کے اختتام پر 14.5 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2025-26 کے اختتام تک 17.8 ارب ڈالر تک زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ فی الحال آئی ایم ایف کا ایک پُرامید تخمینہ ہی محسوس ہوتا ہے۔ اگر تاہم ایسا ہو جاتا ہے تو اس سے 2.7 ماہ کی محفوظ درآمدی کوریج میسر آئے گی اور جاری آئی ایم ایف پروگرام کو پاکستان کی بیرونی کمزوری کم کرنے کے حوالے سے ایک کامیاب پروگرام تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے ادائیگیوں کے توازن کے تحت 2025-26 میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی متوقع سطح بھی الگ سے 2 ارب ڈالر بتائی ہے۔ پہلے چار ماہ میں 640 ملین ڈالر کی آمد ہو چکی ہے۔ اس رفتار سے ایف ڈی آئی کا حجم دو ارب ڈالر کے ہدف کے قریب پہنچ جائے گا۔</p>
<p>آخر میں پاکستان میں غربت کی شرح کے حوالے سے تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے 2019 میں غربت کی شرح صرف 21.9 فیصد ظاہر کی ہے، جو کہ پاکستان بیورو آف شماریات کے 2018-19 کے آخری گھریلو مربوط معاشی سروے (ایچ آئی ای ایس ) سے ماخوذ ہے، جس کی بنیاد پر غربت کا تخمینہ لگانا ممکن تھا۔ تاہم، عالمی بینک نے حالیہ برسوں میں غربت کی شرح کا اندازہ تقریباً 45 فیصد لگایا ہے۔ غالباً آئی ایم ایف اس تاثر سے بچنا چاہتا ہے کہ اس کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی اصلاحات کے نفاذ کا تقاضا کرتی ہے، جو کسی ملک میں غربت کی صورتحال کو مزید خراب کرتی ہیں۔ یہ ایک عام الزام ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>مجموعی طور پر آئی ایم ایف کے تخمینے ملک میں شرحِ نمو کے عمل میں معمولی بہتری، افراطِ زر کی شرح کے ایک عددی سطح پر برقرار رہنے، بے روزگاری میں کمی، عوامی مالیات کی صورتحال میں نمایاں بہتری اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں مثبت نتائج کی توقع ظاہر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر کے ذریعے درآمدات کی کوریج بڑھ کر تقریباً محفوظ سطح تک پہنچ جائے گی۔</p>
</blockquote>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280581</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 16:05:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/1615341072b4f5c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/1615341072b4f5c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
