<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 14:24:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 14:24:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا نے برطانیہ کے ساتھ ٹیکنالوجی معاہدہ معطل کر دیا، فنانشل ٹائمز کی رپورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280573/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا نے برطانیہ کے ساتھ رواں سال کے آغاز میں طے پانے والے ایک اہم ٹیکنالوجی معاہدے کو معطل کر دیا ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور سول نیوکلیئر انرجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا تھا۔ یہ بات فنانشل ٹائمز نے پیر کے روز رپورٹ کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق برطانوی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے گزشتہ ہفتے اس معاہدے کو معطل کردیا۔ فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ برطانیہ پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ٹیکنالوجی شراکت داری سے ہٹ کر دیگر تجارتی شعبوں میں بھی رعایتیں دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام برطانیہ کی جانب سے نام نہاد نان ٹیرف رکاوٹوں پر پیش رفت نہ ہونے پر بڑھتی ہوئی مایوسی کا شکار ہیں۔ ان رکاوٹوں میں خوراک اور صنعتی مصنوعات سے متعلق قواعد و ضوابط، ریگولیٹری شرائط اور دیگر ایسے قوانین شامل ہیں جنہیں امریکا آزاد تجارت کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ برطانیہ ان معاملات میں زیادہ لچک دکھائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا، جبکہ وائٹ ہاؤس اور برطانوی حکومت نے بھی خبر شائع ہونے تک تبصرے کی درخواستوں پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ ستمبر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ برطانیہ کے دوران دونوں ممالک نے ایک مجوزہ ٹیک پراسپرٹی ڈیل پر اتفاق کیا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور سول نیوکلیئر توانائی جیسے جدید شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانا تھا، تاکہ دوطرفہ معاشی تعلقات کو وسعت دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اس وقت برطانیہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ امریکی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں پہلے ہی برطانیہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں۔ ان سرمایہ کاریوں کو برطانوی معیشت، روزگار اور جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے اہم قرار دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس معاہدے کی معطلی نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں ممکنہ کشیدگی کے خدشات کو جنم دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک صنعتوں میں مسابقت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اختلافات حل نہ کیے گئے تو اس کا اثر مستقبل کے دوطرفہ تعاون پر بھی پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا نے برطانیہ کے ساتھ رواں سال کے آغاز میں طے پانے والے ایک اہم ٹیکنالوجی معاہدے کو معطل کر دیا ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور سول نیوکلیئر انرجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا تھا۔ یہ بات فنانشل ٹائمز نے پیر کے روز رپورٹ کی۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق برطانوی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے گزشتہ ہفتے اس معاہدے کو معطل کردیا۔ فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ برطانیہ پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ٹیکنالوجی شراکت داری سے ہٹ کر دیگر تجارتی شعبوں میں بھی رعایتیں دے۔</p>
<p>امریکی حکام برطانیہ کی جانب سے نام نہاد نان ٹیرف رکاوٹوں پر پیش رفت نہ ہونے پر بڑھتی ہوئی مایوسی کا شکار ہیں۔ ان رکاوٹوں میں خوراک اور صنعتی مصنوعات سے متعلق قواعد و ضوابط، ریگولیٹری شرائط اور دیگر ایسے قوانین شامل ہیں جنہیں امریکا آزاد تجارت کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ برطانیہ ان معاملات میں زیادہ لچک دکھائے۔</p>
<p>رائٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا، جبکہ وائٹ ہاؤس اور برطانوی حکومت نے بھی خبر شائع ہونے تک تبصرے کی درخواستوں پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ ستمبر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ برطانیہ کے دوران دونوں ممالک نے ایک مجوزہ ٹیک پراسپرٹی ڈیل پر اتفاق کیا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور سول نیوکلیئر توانائی جیسے جدید شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانا تھا، تاکہ دوطرفہ معاشی تعلقات کو وسعت دی جا سکے۔</p>
<p>امریکا اس وقت برطانیہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ امریکی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں پہلے ہی برطانیہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں۔ ان سرمایہ کاریوں کو برطانوی معیشت، روزگار اور جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے اہم قرار دیا جاتا ہے۔</p>
<p>تاہم اس معاہدے کی معطلی نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں ممکنہ کشیدگی کے خدشات کو جنم دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک صنعتوں میں مسابقت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اختلافات حل نہ کیے گئے تو اس کا اثر مستقبل کے دوطرفہ تعاون پر بھی پڑ سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280573</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 14:22:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/16141927ba3ed43.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/16141927ba3ed43.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
