<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے ایران کے راستے کینو اور آلو برآمد کرنے کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280572/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومتِ پاکستان نے مالیاتی آلات (فنانشل انسٹرومنٹس) سے ایک بار کے استثنیٰ  کے بعد ایران کے زمینی راستے کے ذریعے کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ اسٹیٹس (سی آئی ایس) ممالک کو کینو اور آلو برآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کو دی گئی بریفنگ  کے مطابق  5 دسمبر 2025 سے زمینی راستے کے ذریعے سی آئی ایس ممالک کو کینو اور آلو کی برآمدات کا آغاز ہو چکا ہے۔ 8 دسمبر 2025 تک کینو سے لدے 139 ٹرک اور آلو کے 32 ٹرک تفتان بارڈر عبور کر چکے ہیں، جو آگے سی آئی ایس ممالک کی جانب روانہ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک  نے 5 دسمبر 2025 کو وزارتِ تجارت کو لکھے گئے خط میں کہا کہ وفاقی حکومت کینو اور آلو کی ایران کے راستے سی آئی ایس ممالک کو برآمد کے لیے فنانشل انسٹرومنٹس کی شرط سے ایک بار استثنیٰ  دے سکتی ہے، تاہم اس کے لیے چند شرائط ہوں گی۔ ان میں یہ کہ استثنیٰ  صرف موجودہ کینو اور آلو کے برآمدی سیزن تک محدود ہوگا اور آئندہ کے لیے مثال نہیں بنے گا،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متن کے مطابق برآمدی زرِ مبادلہ کی وطن واپسی کو فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 کے تحت یقینی بنانے کے لیے مؤثر نظام وضع کیا جائے گا اور ایران کے ذریعے لین دین کے دوران بین الاقوامی پابندیوں سے متعلق مناسب حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک  کے جواب کے بعد وزارتِ تجارت نے ایف بی آر کو آگاہ کیا کہ وزیرِ تجارت نے ایک بار استثنیٰ کی بنیاد پر ایکسپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کے پیرا 3 سے استثنیٰ منظور کر لیا ہے، جس کے تحت موجودہ سیزن میں ایران کے زمینی راستے سے سی آئی ایس ممالک کو کینو اور آلو کی برآمد کے لیے فنانشل انسٹرومنٹ جمع کرانے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ برآمدی رقوم کی واپسی کے کنٹرول کا طریقۂ کار بعد میں جاری کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ تجارت کے مطابق 4 دسمبر 2025 کو اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں تمام متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومتِ پاکستان نے مالیاتی آلات (فنانشل انسٹرومنٹس) سے ایک بار کے استثنیٰ  کے بعد ایران کے زمینی راستے کے ذریعے کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ اسٹیٹس (سی آئی ایس) ممالک کو کینو اور آلو برآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔</strong></p>
<p>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کو دی گئی بریفنگ  کے مطابق  5 دسمبر 2025 سے زمینی راستے کے ذریعے سی آئی ایس ممالک کو کینو اور آلو کی برآمدات کا آغاز ہو چکا ہے۔ 8 دسمبر 2025 تک کینو سے لدے 139 ٹرک اور آلو کے 32 ٹرک تفتان بارڈر عبور کر چکے ہیں، جو آگے سی آئی ایس ممالک کی جانب روانہ ہوئے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک  نے 5 دسمبر 2025 کو وزارتِ تجارت کو لکھے گئے خط میں کہا کہ وفاقی حکومت کینو اور آلو کی ایران کے راستے سی آئی ایس ممالک کو برآمد کے لیے فنانشل انسٹرومنٹس کی شرط سے ایک بار استثنیٰ  دے سکتی ہے، تاہم اس کے لیے چند شرائط ہوں گی۔ ان میں یہ کہ استثنیٰ  صرف موجودہ کینو اور آلو کے برآمدی سیزن تک محدود ہوگا اور آئندہ کے لیے مثال نہیں بنے گا،</p>
<p>متن کے مطابق برآمدی زرِ مبادلہ کی وطن واپسی کو فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 کے تحت یقینی بنانے کے لیے مؤثر نظام وضع کیا جائے گا اور ایران کے ذریعے لین دین کے دوران بین الاقوامی پابندیوں سے متعلق مناسب حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک  کے جواب کے بعد وزارتِ تجارت نے ایف بی آر کو آگاہ کیا کہ وزیرِ تجارت نے ایک بار استثنیٰ کی بنیاد پر ایکسپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کے پیرا 3 سے استثنیٰ منظور کر لیا ہے، جس کے تحت موجودہ سیزن میں ایران کے زمینی راستے سے سی آئی ایس ممالک کو کینو اور آلو کی برآمد کے لیے فنانشل انسٹرومنٹ جمع کرانے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ برآمدی رقوم کی واپسی کے کنٹرول کا طریقۂ کار بعد میں جاری کیا جائے گا۔</p>
<p>وزارتِ تجارت کے مطابق 4 دسمبر 2025 کو اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں تمام متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280572</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 13:38:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/16132822137c301.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/16132822137c301.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
