<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تقریر کی ایڈیٹنگ، ٹرمپ نے بی بی سی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280567/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو بی بی سی کے خلاف ہتک عزت (ڈیفیمیشن) کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ مقدمہ ان ایڈیٹ شدہ کلپس پر مبنی ہے جن میں یہ ظاہر کیا گیا کہ انہوں نے اپنے حامیوں کو امریکی کیپٹل پر حملہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ یہ اقدام ٹرمپ کی میڈیا کے خلاف قانونی لڑائی میں ایک بین الاقوامی رخ کھولتا ہے، جسے وہ غیر درست یا غیر منصفانہ سمجھتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے الزام لگایا کہ برطانوی عوامی نشریاتی ادارے نے 6 جنوری 2021 کے ایک خطاب کے حصے کو تبدیل  کرکے  دکھایا، جس میں انہوں نے حامیوں کو کیپٹل کی طرف مارچ کرنے اور جنگ کی طرح لڑو کہنے کا ذکر کیا، جبکہ وہ پرامن احتجاج کی اپیل کرنے والے حصے کو حذف کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کا مقدمہ بی بی سی کے خلاف ڈیفیمیشن اور فلوریڈا کے اس قانون کی خلاف ورزی پر مبنی ہے جو دھوکہ دہی اور غیر منصفانہ تجارتی عمل کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ وہ ہر دعویٰ کے لیے 5 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں یعنی 10ارب ڈالر کا دعوی کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی نے ٹرمپ سے معافی مانگی، اپنی غلطی تسلیم کی اور اعتراف کیا کہ ایڈیٹنگ سے غلط تاثر پیدا ہوا کہ ٹرمپ نے براہِ راست پرتشدد کارروائی کی ہدایت دی۔ تاہم، بی بی سی نے کہا کہ قانونی طور پر مقدمہ قابل قبول نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمہ میامی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا، جس میں ٹرمپ نے کہا کہ بی بی سی نے اپنی غلطی پر کوئی حقیقی افسوس ظاہر نہیں کیا اور مستقبل میں صحافتی زیادتیوں سے بچنے کے لیے کوئی اہم ادارہ جاتی تبدیلی نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کی 103 سالہ تاریخ میں یہ ایک بڑا بحران تھا جس نے اس کے دو اعلیٰ عہدیداروں کی استعفوں کا باعث بھی بنا۔ کلپ پر تنازعہ بی بی سی کے پینوراما دستاویزی شو میں 2024 کے صدارتی انتخابات سے پہلے سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے وکلا کا کہنا ہے کہ بی بی سی نے ان کی شہرت اور مالی حیثیت کو شدید نقصان پہنچایا۔ قانونی ماہرین کے مطابق، بی بی سی یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ دستاویزی فلم زیادہ تر درست تھی اور ایڈیٹنگ نے غلط تاثر نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے دیگر امریکی میڈیا اداروں کے خلاف بھی مقدمات دائر کیے ہیں، جبکہ کچھ اداروں نے مقدمات نمٹا لیے ہیں۔ 6 جنوری 2021 کو امریکی کیپٹل پر حملہ جو بائیڈن کی 2020 کے انتخابات میں فتح کو بلاک کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو بی بی سی کے خلاف ہتک عزت (ڈیفیمیشن) کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ مقدمہ ان ایڈیٹ شدہ کلپس پر مبنی ہے جن میں یہ ظاہر کیا گیا کہ انہوں نے اپنے حامیوں کو امریکی کیپٹل پر حملہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ یہ اقدام ٹرمپ کی میڈیا کے خلاف قانونی لڑائی میں ایک بین الاقوامی رخ کھولتا ہے، جسے وہ غیر درست یا غیر منصفانہ سمجھتے ہیں۔</strong></p>
<p>ٹرمپ نے الزام لگایا کہ برطانوی عوامی نشریاتی ادارے نے 6 جنوری 2021 کے ایک خطاب کے حصے کو تبدیل  کرکے  دکھایا، جس میں انہوں نے حامیوں کو کیپٹل کی طرف مارچ کرنے اور جنگ کی طرح لڑو کہنے کا ذکر کیا، جبکہ وہ پرامن احتجاج کی اپیل کرنے والے حصے کو حذف کر دیا گیا۔</p>
<p>ٹرمپ کا مقدمہ بی بی سی کے خلاف ڈیفیمیشن اور فلوریڈا کے اس قانون کی خلاف ورزی پر مبنی ہے جو دھوکہ دہی اور غیر منصفانہ تجارتی عمل کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ وہ ہر دعویٰ کے لیے 5 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں یعنی 10ارب ڈالر کا دعوی کیا گیا۔</p>
<p>بی بی سی نے ٹرمپ سے معافی مانگی، اپنی غلطی تسلیم کی اور اعتراف کیا کہ ایڈیٹنگ سے غلط تاثر پیدا ہوا کہ ٹرمپ نے براہِ راست پرتشدد کارروائی کی ہدایت دی۔ تاہم، بی بی سی نے کہا کہ قانونی طور پر مقدمہ قابل قبول نہیں ہے۔</p>
<p>مقدمہ میامی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا، جس میں ٹرمپ نے کہا کہ بی بی سی نے اپنی غلطی پر کوئی حقیقی افسوس ظاہر نہیں کیا اور مستقبل میں صحافتی زیادتیوں سے بچنے کے لیے کوئی اہم ادارہ جاتی تبدیلی نہیں کی۔</p>
<p>بی بی سی کی 103 سالہ تاریخ میں یہ ایک بڑا بحران تھا جس نے اس کے دو اعلیٰ عہدیداروں کی استعفوں کا باعث بھی بنا۔ کلپ پر تنازعہ بی بی سی کے پینوراما دستاویزی شو میں 2024 کے صدارتی انتخابات سے پہلے سامنے آیا۔</p>
<p>ٹرمپ کے وکلا کا کہنا ہے کہ بی بی سی نے ان کی شہرت اور مالی حیثیت کو شدید نقصان پہنچایا۔ قانونی ماہرین کے مطابق، بی بی سی یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ دستاویزی فلم زیادہ تر درست تھی اور ایڈیٹنگ نے غلط تاثر نہیں دیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے دیگر امریکی میڈیا اداروں کے خلاف بھی مقدمات دائر کیے ہیں، جبکہ کچھ اداروں نے مقدمات نمٹا لیے ہیں۔ 6 جنوری 2021 کو امریکی کیپٹل پر حملہ جو بائیڈن کی 2020 کے انتخابات میں فتح کو بلاک کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280567</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 12:45:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/161242260db9f82.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/161242260db9f82.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
