<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کے اثرات زائل، 100 انڈیکس تقریباً 300 پوائنٹس گرگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280559/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو ابتدائی تیزی کے اثرات زائل ہوگئے جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں منفی زون میں بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں ٹریڈنگ مثبت آغاز کے ساتھ شروع ہوئی، سرمایہ کار پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کے فیصلے پر خوشی دکھائی دیے جس کے نتیجے میں ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 171,922.60 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ٹریڈنگ کے آخری اوقات میں پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان غالب آگیا جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 170,191.98 پوائنٹس پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 294.05 پوائنٹس (-0.17 فیصد) کی کمی سے 170,447.29 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پیر کو ایک غیر متوقع اقدام کرتے ہوئے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کی تاکہ معیشت کی پائیدار نمو کو سہارا دیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مثبت کاروباری سیشن دیکھنے میں آیا جہاں سرمایہ کاروں کے مسلسل اعتماد اور مارکیٹ کے بہتر ہوتے ہوئے منظرنامے کے باعث بینچ مارک انڈیکس نئی تاریخ کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 876.82 پوائنٹس یا 0.52 فیصد اضافے سے 170,741.35 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی اسٹاکس میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی جب کہ امریکی ڈالر 2 ماہ کی کم ترین سطح کے قریب رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سرمایہ کاروں نے محتاط حکمتِ عملی اختیار کی کیونکہ وہ امریکا سے آنے والے اہم معاشی اعدادوشمار جن میں ملازمتوں کی رپورٹ بھی شامل ہے، کے منتظر تھے جو آئندہ سال فیڈرل ریزرو کی پالیسی کے رخ کا اندازہ لگانے میں مدد دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاعی حکمتِ عملی کے باعث رسک اثاثے دباؤ میں رہے، جن میں بٹ کوائن بھی شامل ہے، جو گزشتہ سیشن میں دو ہفتوں کی کم ترین سطح تک گر گیا تھا اور 86,407.53 ڈالر پر مستحکم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے سونے نے آٹھ ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب کاروبار کیا اور اس کی قیمت 4,307.69 ڈالر فی اونس رہی، جو دن کے دوران 0.15 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو بعد میں جاری ہونے والی اکتوبر اور نومبر کی امریکی ملازمتوں سے متعلق مشترکہ رپورٹس کے علاوہ، سرمایہ کار جمعرات کو آنے والی مہنگائی کی رپورٹ پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم، تاریخ کے طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث ڈیٹا اکٹھا نہ ہو سکنے کی وجہ سے اس رپورٹ میں کئی اہم تفصیلات شامل نہیں ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکویٹی مارکیٹس میں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک شیئرز پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 1 فیصد کم ہو گیا۔ ٹوکیو کا نِکّی انڈیکس اور جنوبی کوریا کا بینچ مارک انڈیکس دونوں میں ایک فیصد سے زیادہ کی کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح، نیسڈیک فیوچرز اور یورپی فیوچرز میں 0.5 فیصد کمی ہوئی، جو مارکیٹ کے آغاز پر اتار چڑھاؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں  پاکستانی روپیہ قدر میں معمولی بہتری کے ساتھ بند ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.30 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس پر حجم 1,176.64 ملین شیئرز تک بڑھ گیا، جو پچھلے بند ہونے والے سیشن میں 905.68 ملین شیئرز تھا۔ حصص کی مجموعی قدر 53.47 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو پچھلے سیشن میں  47.72 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان انٹرنیشنل بلک حجم میں سب سے آگے رہا جس نے 101.81 ملین شیئرز کا حجم ریکارڈ کیا، اس کے بعد بینک آف پنجاب کے 88.66 ملین شیئرز اور ٹی پی ایل پراپرٹیز کے 80.37 ملین شیئرز آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو 482 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 161 کے شیئرز میں اضافہ، 290 میں کمی اور 31 کمپنیوں کے شیئرز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/1619503325bfe14.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/1619503325bfe14.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو ابتدائی تیزی کے اثرات زائل ہوگئے جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں منفی زون میں بند ہوا۔</strong></p>
<p>مارکیٹ میں ٹریڈنگ مثبت آغاز کے ساتھ شروع ہوئی، سرمایہ کار پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کے فیصلے پر خوشی دکھائی دیے جس کے نتیجے میں ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 171,922.60 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر جاپہنچا۔</p>
<p>بعد ازاں ٹریڈنگ کے آخری اوقات میں پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان غالب آگیا جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 170,191.98 پوائنٹس پر آگیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 294.05 پوائنٹس (-0.17 فیصد) کی کمی سے 170,447.29 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پیر کو ایک غیر متوقع اقدام کرتے ہوئے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کی تاکہ معیشت کی پائیدار نمو کو سہارا دیا جاسکے۔</p>
<p>یاد رہے کہ پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مثبت کاروباری سیشن دیکھنے میں آیا جہاں سرمایہ کاروں کے مسلسل اعتماد اور مارکیٹ کے بہتر ہوتے ہوئے منظرنامے کے باعث بینچ مارک انڈیکس نئی تاریخ کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 876.82 پوائنٹس یا 0.52 فیصد اضافے سے 170,741.35 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی اسٹاکس میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی جب کہ امریکی ڈالر 2 ماہ کی کم ترین سطح کے قریب رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سرمایہ کاروں نے محتاط حکمتِ عملی اختیار کی کیونکہ وہ امریکا سے آنے والے اہم معاشی اعدادوشمار جن میں ملازمتوں کی رپورٹ بھی شامل ہے، کے منتظر تھے جو آئندہ سال فیڈرل ریزرو کی پالیسی کے رخ کا اندازہ لگانے میں مدد دے سکتے ہیں۔</p>
<p>دفاعی حکمتِ عملی کے باعث رسک اثاثے دباؤ میں رہے، جن میں بٹ کوائن بھی شامل ہے، جو گزشتہ سیشن میں دو ہفتوں کی کم ترین سطح تک گر گیا تھا اور 86,407.53 ڈالر پر مستحکم رہا۔</p>
<p>محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے سونے نے آٹھ ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب کاروبار کیا اور اس کی قیمت 4,307.69 ڈالر فی اونس رہی، جو دن کے دوران 0.15 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>منگل کو بعد میں جاری ہونے والی اکتوبر اور نومبر کی امریکی ملازمتوں سے متعلق مشترکہ رپورٹس کے علاوہ، سرمایہ کار جمعرات کو آنے والی مہنگائی کی رپورٹ پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم، تاریخ کے طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث ڈیٹا اکٹھا نہ ہو سکنے کی وجہ سے اس رپورٹ میں کئی اہم تفصیلات شامل نہیں ہوں گی۔</p>
<p>ایکویٹی مارکیٹس میں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک شیئرز پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 1 فیصد کم ہو گیا۔ ٹوکیو کا نِکّی انڈیکس اور جنوبی کوریا کا بینچ مارک انڈیکس دونوں میں ایک فیصد سے زیادہ کی کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح، نیسڈیک فیوچرز اور یورپی فیوچرز میں 0.5 فیصد کمی ہوئی، جو مارکیٹ کے آغاز پر اتار چڑھاؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
<p>دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں  پاکستانی روپیہ قدر میں معمولی بہتری کے ساتھ بند ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.30 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کا اضافہ ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس پر حجم 1,176.64 ملین شیئرز تک بڑھ گیا، جو پچھلے بند ہونے والے سیشن میں 905.68 ملین شیئرز تھا۔ حصص کی مجموعی قدر 53.47 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو پچھلے سیشن میں  47.72 ارب روپے تھی۔</p>
<p>پاکستان انٹرنیشنل بلک حجم میں سب سے آگے رہا جس نے 101.81 ملین شیئرز کا حجم ریکارڈ کیا، اس کے بعد بینک آف پنجاب کے 88.66 ملین شیئرز اور ٹی پی ایل پراپرٹیز کے 80.37 ملین شیئرز آئے۔</p>
<p>منگل کو 482 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 161 کے شیئرز میں اضافہ، 290 میں کمی اور 31 کمپنیوں کے شیئرز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/1619503325bfe14.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/1619503325bfe14.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280559</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 20:07:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/16104227abfa97a.webp" type="image/webp" medium="image" height="395" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/16104227abfa97a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
