<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین کے کمزور معاشی اعداد و شمار، خام تیل کی قیمتیں گرگئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280553/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ابتدائی کاروبار کے دوران منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھی گئی، جو گزشتہ سیشن میں ہونے والے نقصانات کا تسلسل ہے۔ اس کمی کی بڑی وجہ روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے امکانات میں اضافہ بتایا جا رہا ہے، جس سے روس پر عائد پابندیوں میں نرمی کی توقعات پیدا ہو گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز 24 سینٹ یا 0.40 فیصد کمی کے بعد 60.32 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ( ڈبلیو ٹی آئی) 22 سینٹ یا 0.39 فیصد کمی کے ساتھ 56.60 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ مارکیٹ میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ اگر روس۔یوکرین تنازع کے حل کی جانب پیش رفت ہوتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو قیمتوں پر دباؤ ڈالے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کے مطابق امریکا نے برلن میں یوکرین کے صدر کے ساتھ مذاکرات کے دوران یوکرین کو نیٹو طرز کی سکیورٹی گارنٹیز فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ یہ ایک غیر معمولی قدم ہے جس نے بعض یورپی دارالحکومتوں میں اس امید کو تقویت دی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے باضابطہ مذاکرات قریب آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، چین سے آنے والے کمزور معاشی اعداد و شمار نے بھی تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا۔ آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق، رات گئے جاری ہونے والا کمزور چینی معاشی ڈیٹا اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ عالمی طلب حالیہ سپلائی میں اضافے کو جذب کرنے کے لیے کافی مضبوط نہیں ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین کی فیکٹری پیداوار کی شرح نمو 15 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ ریٹیل سیلز میں اضافہ بھی دسمبر 2022 کے بعد سب سے سست رفتار رہا، جو کووڈ۔19 وبا کے دور سے مشابہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اعداد و شمار سے یہ خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ کمزور  طلب کی تلافی کے لیے برآمدات پر انحصار کرنے کی چین کی حکمت عملی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ چین کی معیشت میں سست روی عالمی سطح پر تیل کی طلب کو مزید متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب الیکٹرک وہیکلز کے بڑھتے استعمال سے پہلے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت کم ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام عوامل امریکا کی جانب سے گزشتہ ہفتے وینزویلا کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر کی ضبطی سے پیدا ہونے والے سپلائی خدشات پر غالب رہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق فلوٹنگ اسٹوریج میں اضافے اور ممکنہ پابندیوں سے قبل چین کی جانب سے وینزویلا سے تیل کی خریداری میں تیزی نے بھی اس اقدام کے مارکیٹ پر اثرات کو محدود رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ابتدائی کاروبار کے دوران منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھی گئی، جو گزشتہ سیشن میں ہونے والے نقصانات کا تسلسل ہے۔ اس کمی کی بڑی وجہ روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے امکانات میں اضافہ بتایا جا رہا ہے، جس سے روس پر عائد پابندیوں میں نرمی کی توقعات پیدا ہو گئی ہیں۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز 24 سینٹ یا 0.40 فیصد کمی کے بعد 60.32 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ( ڈبلیو ٹی آئی) 22 سینٹ یا 0.39 فیصد کمی کے ساتھ 56.60 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ مارکیٹ میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ اگر روس۔یوکرین تنازع کے حل کی جانب پیش رفت ہوتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو قیمتوں پر دباؤ ڈالے گا۔</p>
<p>امریکی حکام کے مطابق امریکا نے برلن میں یوکرین کے صدر کے ساتھ مذاکرات کے دوران یوکرین کو نیٹو طرز کی سکیورٹی گارنٹیز فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ یہ ایک غیر معمولی قدم ہے جس نے بعض یورپی دارالحکومتوں میں اس امید کو تقویت دی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے باضابطہ مذاکرات قریب آ رہے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب، چین سے آنے والے کمزور معاشی اعداد و شمار نے بھی تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا۔ آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق، رات گئے جاری ہونے والا کمزور چینی معاشی ڈیٹا اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ عالمی طلب حالیہ سپلائی میں اضافے کو جذب کرنے کے لیے کافی مضبوط نہیں ہو گی۔</p>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین کی فیکٹری پیداوار کی شرح نمو 15 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ ریٹیل سیلز میں اضافہ بھی دسمبر 2022 کے بعد سب سے سست رفتار رہا، جو کووڈ۔19 وبا کے دور سے مشابہ ہے۔</p>
<p>ان اعداد و شمار سے یہ خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ کمزور  طلب کی تلافی کے لیے برآمدات پر انحصار کرنے کی چین کی حکمت عملی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ چین کی معیشت میں سست روی عالمی سطح پر تیل کی طلب کو مزید متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب الیکٹرک وہیکلز کے بڑھتے استعمال سے پہلے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت کم ہو رہی ہے۔</p>
<p>یہ تمام عوامل امریکا کی جانب سے گزشتہ ہفتے وینزویلا کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر کی ضبطی سے پیدا ہونے والے سپلائی خدشات پر غالب رہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق فلوٹنگ اسٹوریج میں اضافے اور ممکنہ پابندیوں سے قبل چین کی جانب سے وینزویلا سے تیل کی خریداری میں تیزی نے بھی اس اقدام کے مارکیٹ پر اثرات کو محدود رکھا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280553</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 09:27:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/16092541011dbd5.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/16092541011dbd5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
