<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا اسٹیٹ بینک کی شرحِ سود میں کمی ’کاروبار پر دباؤ کم کرنے میں کچھ خاص نہیں کرے گی‘؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280549/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افراطِ زر میں مسلسل کمی اور معاشی سست روی کے واضح آثار کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مانیٹری پالیسی بدستور حد سے زیادہ سخت ہے، جو نجی شعبے کی سرگرمیوں کی بحالی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ تجزیہ کاروں اور صنعتکاروں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کر کے اسے 10.5 فیصد کرنے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل (پی آر اے سی) کے سربراہ تحقیق ڈاکٹر اسامہ احسن خان نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی جانب سے 16 دسمبر 2025 سے موثر 50 بیسس پوائنٹس کی کمی درست سمت میں قدم ہے، تاہم یہ موجودہ معاشی حالات اور معیشت کی فوری ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگست 2024 سے ہی ہیڈ لائن افراطِ زر سنگل ڈیجٹ میں ہے، جو قیمتوں کے دباؤ میں مسلسل کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے باوجود پالیسی ریٹ چار مسلسل ایم پی سی اجلاسوں تک ڈبل ڈیجٹ میں برقرار رہا، اور حالیہ معمولی کمی اس عدم توازن کو دور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مانیٹری پالیسی میں نرمی میں اس طویل تاخیر نے حقیقی معیشت پر نمایاں اخراجات مسلط کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر اسامہ احسن خان کے مطابق علاقائی موازنہ اس مسئلے کو مزید واضح کرتا ہے، جہاں پاکستان کی حقیقی شرحِ سود تقریباً 4.4 فیصد ہے، جو ہم پلہ معیشتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ چین میں حقیقی شرحِ سود تقریباً 2.8 فیصد، بنگلہ دیش میں 1.8 فیصد اور ویتنام میں محض 1.2 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حد سے زیادہ سخت مانیٹری حالات قرضوں کی نمو کو دباتے، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتے اور ان کمپنیوں کے لیے فنانسنگ لاگت بڑھاتے ہیں جو پہلے ہی کم طلب اور محدود منافع سے دوچار ہیں۔ اس تناظر میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی محدود ریلیف فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کم از کم 200 بیسس پوائنٹس کی زیادہ فیصلہ کن کمی موجودہ افراطِ زر کے رجحان سے زیادہ ہم آہنگ ہوتی اور علاقائی مانیٹری سیٹنگز کے قریب تر ہوتی، جبکہ قیمتوں کے استحکام کے تحفظ کے لیے مثبت حقیقی شرحِ سود بھی برقرار رہ سکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری (ایس اے آئی) کے صدر احمد عظیم علوی نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں صرف 50 بیسس پوائنٹس کمی کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مشکلات کا شکار صنعتی شعبے کے لیے کسی بھی بامعنی ریلیف کے لیے ناکافی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد عظیم علوی نے کہا کہ موجودہ معاشی چیلنجز کی شدت کے پیش نظر اس نوعیت کی معمولی کمی کاروبار پر دباؤ کم کرنے میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر حکومت مقامی صنعتوں کو سہارا دینا چاہتی ہے تو اسے ایک واضح اور مربوط حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ مقامی صنعتیں پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ درآمدات تقریباً ٹھپ ہو چکی ہیں۔ اسی دوران مسلسل بلند شرحِ سود نے کاروبار اور عوام دونوں کو افراطِ زر اور بے روزگاری کے ایک چکر میں جکڑ رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد ریحان حنیف سے بھی بات کی، جنہوں نے اسٹیٹ بینک کے فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی علامتی ایڈجسٹمنٹ پاکستان کی نازک معیشت کی بحالی اور کاروباری اعتماد کی واپسی کے لیے فوری طور پر درکار اقدامات سے کہیں کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد ریحان حنیف نے کہا کہ یہ معمولی کمی نہ تو موجودہ معاشی حقائق کی عکاسی کرتی ہے اور نہ ہی ان کاروباروں کو کوئی مؤثر ریلیف فراہم کرتی ہے جو پہلے ہی غیر معمولی بلند لاگتِ کاروبار کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ افراطِ زر میں واضح کمی کے باوجود پاکستان میں قرض لینے کی لاگت خطے میں بدستور بلند ترین سطحوں میں شامل ہے، جو صنعتی ترقی، برآمدات اور روزگار کے مواقع کی تخلیق کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایس گلوبل کے سربراہ تحقیق وقاص غنی نے کہا کہ معاشی سرگرمیاں بدستور سست ہونے کے باعث اسٹیٹ بینک بتدریج نمو کے فروغ کی ضرورت کا جواب دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق شرحِ سود میں کمی کا حجم محدود ہے، جو محتاط رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک لچک کا اشارہ دے رہا ہے، تاہم افراطِ زر کے خدشات اور بیرونی کھاتے کی کمزوریوں کو بھی مدنظر رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام ایکویٹیز کے لیے مثبت ہے اور منگل (16 دسمبر) کو اسٹاک مارکیٹ میں بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>افراطِ زر میں مسلسل کمی اور معاشی سست روی کے واضح آثار کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مانیٹری پالیسی بدستور حد سے زیادہ سخت ہے، جو نجی شعبے کی سرگرمیوں کی بحالی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔</strong></p>
<p>کچھ تجزیہ کاروں اور صنعتکاروں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کر کے اسے 10.5 فیصد کرنے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل (پی آر اے سی) کے سربراہ تحقیق ڈاکٹر اسامہ احسن خان نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی جانب سے 16 دسمبر 2025 سے موثر 50 بیسس پوائنٹس کی کمی درست سمت میں قدم ہے، تاہم یہ موجودہ معاشی حالات اور معیشت کی فوری ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگست 2024 سے ہی ہیڈ لائن افراطِ زر سنگل ڈیجٹ میں ہے، جو قیمتوں کے دباؤ میں مسلسل کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے باوجود پالیسی ریٹ چار مسلسل ایم پی سی اجلاسوں تک ڈبل ڈیجٹ میں برقرار رہا، اور حالیہ معمولی کمی اس عدم توازن کو دور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مانیٹری پالیسی میں نرمی میں اس طویل تاخیر نے حقیقی معیشت پر نمایاں اخراجات مسلط کیے ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر اسامہ احسن خان کے مطابق علاقائی موازنہ اس مسئلے کو مزید واضح کرتا ہے، جہاں پاکستان کی حقیقی شرحِ سود تقریباً 4.4 فیصد ہے، جو ہم پلہ معیشتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ چین میں حقیقی شرحِ سود تقریباً 2.8 فیصد، بنگلہ دیش میں 1.8 فیصد اور ویتنام میں محض 1.2 فیصد ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حد سے زیادہ سخت مانیٹری حالات قرضوں کی نمو کو دباتے، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتے اور ان کمپنیوں کے لیے فنانسنگ لاگت بڑھاتے ہیں جو پہلے ہی کم طلب اور محدود منافع سے دوچار ہیں۔ اس تناظر میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی محدود ریلیف فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کم از کم 200 بیسس پوائنٹس کی زیادہ فیصلہ کن کمی موجودہ افراطِ زر کے رجحان سے زیادہ ہم آہنگ ہوتی اور علاقائی مانیٹری سیٹنگز کے قریب تر ہوتی، جبکہ قیمتوں کے استحکام کے تحفظ کے لیے مثبت حقیقی شرحِ سود بھی برقرار رہ سکتی تھی۔</p>
<p>دریں اثنا، سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری (ایس اے آئی) کے صدر احمد عظیم علوی نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں صرف 50 بیسس پوائنٹس کمی کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مشکلات کا شکار صنعتی شعبے کے لیے کسی بھی بامعنی ریلیف کے لیے ناکافی قرار دیا۔</p>
<p>احمد عظیم علوی نے کہا کہ موجودہ معاشی چیلنجز کی شدت کے پیش نظر اس نوعیت کی معمولی کمی کاروبار پر دباؤ کم کرنے میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر حکومت مقامی صنعتوں کو سہارا دینا چاہتی ہے تو اسے ایک واضح اور مربوط حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ مقامی صنعتیں پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ درآمدات تقریباً ٹھپ ہو چکی ہیں۔ اسی دوران مسلسل بلند شرحِ سود نے کاروبار اور عوام دونوں کو افراطِ زر اور بے روزگاری کے ایک چکر میں جکڑ رکھا ہے۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد ریحان حنیف سے بھی بات کی، جنہوں نے اسٹیٹ بینک کے فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی علامتی ایڈجسٹمنٹ پاکستان کی نازک معیشت کی بحالی اور کاروباری اعتماد کی واپسی کے لیے فوری طور پر درکار اقدامات سے کہیں کم ہے۔</p>
<p>محمد ریحان حنیف نے کہا کہ یہ معمولی کمی نہ تو موجودہ معاشی حقائق کی عکاسی کرتی ہے اور نہ ہی ان کاروباروں کو کوئی مؤثر ریلیف فراہم کرتی ہے جو پہلے ہی غیر معمولی بلند لاگتِ کاروبار کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ افراطِ زر میں واضح کمی کے باوجود پاکستان میں قرض لینے کی لاگت خطے میں بدستور بلند ترین سطحوں میں شامل ہے، جو صنعتی ترقی، برآمدات اور روزگار کے مواقع کی تخلیق کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔</p>
<p>جے ایس گلوبل کے سربراہ تحقیق وقاص غنی نے کہا کہ معاشی سرگرمیاں بدستور سست ہونے کے باعث اسٹیٹ بینک بتدریج نمو کے فروغ کی ضرورت کا جواب دے رہا ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق شرحِ سود میں کمی کا حجم محدود ہے، جو محتاط رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک لچک کا اشارہ دے رہا ہے، تاہم افراطِ زر کے خدشات اور بیرونی کھاتے کی کمزوریوں کو بھی مدنظر رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام ایکویٹیز کے لیے مثبت ہے اور منگل (16 دسمبر) کو اسٹاک مارکیٹ میں بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280549</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Dec 2025 23:05:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمادالدین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/15225142671be1c.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="400">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/15225142671be1c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
