<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 06:32:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 06:32:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور جی سی سی ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ جلد ہوگا، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280537/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے مذاکرات ایڈوانسڈ مراحل میں ہیں جس سے ملک میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این بزنس عربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہم مجموعی طور پر جی سی سی کے ساتھ ایف ٹی اے کے سلسلے میں آگے بڑھ رہے ہیں اور وقت کے لحاظ سے بہت قریب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے بتایا کہ تجارتی امور کے لیے ان کے ساتھی قیادت کر رہے ہیں لیکن مجموعی پیش رفت مثبت اور قریبی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اسٹریٹجک تبدیلی پاکستان کے نئے سرے سے پیدا ہونے والے معاشی اعتماد اور اصلاحاتی رفتار کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے جی سی سی ممالک بشمول سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی طویل المدتی حمایت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ تعلقات مزید تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب مرکوز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر اب بھی کرنٹ اکاؤنٹ کی معاونت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جو گزشتہ سال تقریباً 38 ارب ڈالر تک پہنچیں اور اس سال 41 سے 42 ارب ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے، جس کا نصف سے زیادہ حصہ جی سی سی ممالک سے آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اب توانائی، تیل و گیس، معدنیات اور کان کنی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، فارما اور زراعت جیسے شعبوں میں جی سی سی شراکت داروں کے ساتھ سرمایہ کاری اور تجارت بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرویو کے دوران  انہوں نے کہا کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران پاکستان جامع معاشی استحکام پروگرام پر رہا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ مہنگائی سنگل ہندسوں میں ہے، مالیاتی شعبے میں بنیادی سرپلس موجود ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کنٹرول میں ہے۔ زر مبادلہ کی شرح مستحکم اور غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر 2.5 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اس سال تینوں بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی اور آؤٹ لک اپ گریڈ کی، اور آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کے تحت دوسرا جائزہ مکمل ہو چکا ہے جس کی منظوری آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اصلاحات کلیدی شعبوں میں نافذ کی جا رہی ہیں، جن میں ٹیکسیشن، توانائی، سرکاری ادارے، عوامی مالیاتی انتظام اور نجکاری شامل ہیں، تاکہ استحکام کو مستحکم کیا جا سکے اور پائیدار ترقی کی بنیاد رکھی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسیشن کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے تناسب میں بہتری آئی ہے، جو اصلاحاتی پروگرام کے آغاز میں 8.8 فیصد تھی، گزشتہ مالی سال 10.3 فیصد تک پہنچ گئی اور ہم 11 فیصد کی جانب بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت کا مقصد ٹیکس وصولیوں کی وہ سطح حاصل کرنا ہے جو درمیانے سے طویل مدتی میں مالیاتی استحکام کو یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی شعبے میں بہتر حکمرانی، نجی شعبے کی شراکت، نجکاری اور سرکلر ڈیٹ کم کرنے پر زور دیا گیا ہے جبکہ ٹیرف نظام کو معقول بنانا صنعتی مسابقت اور اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی اسٹریٹجک سمت کو دہراتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل امداد پر انحصار کرنے کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کے شراکت داریوں کو فروغ دینے میں ہے۔ ہم اب امداد کے بہاؤ کی تلاش میں نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے مذاکرات ایڈوانسڈ مراحل میں ہیں جس سے ملک میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔</strong></p>
<p>سی این این بزنس عربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہم مجموعی طور پر جی سی سی کے ساتھ ایف ٹی اے کے سلسلے میں آگے بڑھ رہے ہیں اور وقت کے لحاظ سے بہت قریب ہیں۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے بتایا کہ تجارتی امور کے لیے ان کے ساتھی قیادت کر رہے ہیں لیکن مجموعی پیش رفت مثبت اور قریبی ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اسٹریٹجک تبدیلی پاکستان کے نئے سرے سے پیدا ہونے والے معاشی اعتماد اور اصلاحاتی رفتار کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے جی سی سی ممالک بشمول سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی طویل المدتی حمایت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ تعلقات مزید تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب مرکوز ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر اب بھی کرنٹ اکاؤنٹ کی معاونت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جو گزشتہ سال تقریباً 38 ارب ڈالر تک پہنچیں اور اس سال 41 سے 42 ارب ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے، جس کا نصف سے زیادہ حصہ جی سی سی ممالک سے آتا ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اب توانائی، تیل و گیس، معدنیات اور کان کنی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، فارما اور زراعت جیسے شعبوں میں جی سی سی شراکت داروں کے ساتھ سرمایہ کاری اور تجارت بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔</p>
<p>انٹرویو کے دوران  انہوں نے کہا کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران پاکستان جامع معاشی استحکام پروگرام پر رہا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ مہنگائی سنگل ہندسوں میں ہے، مالیاتی شعبے میں بنیادی سرپلس موجود ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کنٹرول میں ہے۔ زر مبادلہ کی شرح مستحکم اور غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر 2.5 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اس سال تینوں بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی اور آؤٹ لک اپ گریڈ کی، اور آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کے تحت دوسرا جائزہ مکمل ہو چکا ہے جس کی منظوری آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے دی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اصلاحات کلیدی شعبوں میں نافذ کی جا رہی ہیں، جن میں ٹیکسیشن، توانائی، سرکاری ادارے، عوامی مالیاتی انتظام اور نجکاری شامل ہیں، تاکہ استحکام کو مستحکم کیا جا سکے اور پائیدار ترقی کی بنیاد رکھی جا سکے۔</p>
<p>ٹیکسیشن کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے تناسب میں بہتری آئی ہے، جو اصلاحاتی پروگرام کے آغاز میں 8.8 فیصد تھی، گزشتہ مالی سال 10.3 فیصد تک پہنچ گئی اور ہم 11 فیصد کی جانب بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت کا مقصد ٹیکس وصولیوں کی وہ سطح حاصل کرنا ہے جو درمیانے سے طویل مدتی میں مالیاتی استحکام کو یقینی بنائے۔</p>
<p>توانائی شعبے میں بہتر حکمرانی، نجی شعبے کی شراکت، نجکاری اور سرکلر ڈیٹ کم کرنے پر زور دیا گیا ہے جبکہ ٹیرف نظام کو معقول بنانا صنعتی مسابقت اور اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ہے۔</p>
<p>حکومت کی اسٹریٹجک سمت کو دہراتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل امداد پر انحصار کرنے کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کے شراکت داریوں کو فروغ دینے میں ہے۔ ہم اب امداد کے بہاؤ کی تلاش میں نہیں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280537</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Dec 2025 15:33:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/15143940e6a5e07.webp" type="image/webp" medium="image" height="590" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/15143940e6a5e07.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
