<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی بی ٹی کو ریکوڈک سے منسلک کاپر اور سونے کی برآمدات کی منظوری مل گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280520/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل لمیٹڈ (پی آئی بی ٹی) نے ریکوڈک مائننگ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ساتھ اس کے کارگو کنسنٹریٹ کی ہینڈلنگ کے لیے معاہدہ کیا ہے جبکہ معدنی برآمدات کو منظم کرنے کے لیے پورٹ قاسم اتھارٹی سے اضافی مراعات بھی حاصل کرلی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی بی ٹی نے یہ پیش رفت پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جاری کردہ نوٹس میں ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے پورٹ قاسم اتھارٹی کے ساتھ اضافی نفاذی معاہدہ کیا ہے جو اسے کاپر-گولڈ کموڈیٹیز  بشمول معدنیات، دھاتیں اور دیگر قدرتی زمینی اجزاء کو نان ایکسلوزو بنیادوں پر ہینڈل، ذخیرہ اور برآمد کرنے کے حقوق، مراعات اور لائسنس فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی کمپنی نے ریکوڈک مائننگ کمپنی کے کارگو کنسنٹریٹ کے ہینڈلنگ کے لیے بھی الگ معاہدہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکوڈک بلوچستان میں واقع ایک وسیع، غیر ترقی یافتہ کاپر اور سونے کا ذخیرہ ہے، جسے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔ اس منصوبے میں 50 فیصد حصہ بریک کے پاس ہے، 25 فیصد 3 وفاقی سرکاری اداروں کے پاس اور 25 فیصد بلوچستان حکومت کے پاس ہے، جس میں 15 فیصد مکمل مالی تعاون اور 10 فیصد مفت کیریڈ بنیاد پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کا مقصد 2028 میں پیداوار کا آغاز کرنا ہے،توقع کی جا رہی ہے کہ یہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں حصہ ڈالتے ہوئے عالمی معیار کی کاپر اور سونے کی کان بن جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی بی ٹی کا یہ معاہدہ ٹرمینل کو ریکوڈک منصوبے سے منسلک لاجسٹک ضروریات کی تکمیل کے لیے تیار کرتا ہے جو پاکستان کے سب سے بڑے منصوبہ بند کان کنی ترقیاتی منصوبوں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل 2010 میں ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے طور پر قائم ہوئی تھی، اسی سال کمپنی نے پورٹ قاسم اتھارٹی کے ساتھ بلڈ-آپریٹ-ٹرانسفر (بی او ٹی) معاہدہ کیا جس کے تحت پورٹ کے کوئلہ اور کلنکر ٹرمینل کی تعمیر، ترقی، آپریشن اور انتظام کے لیے 30 سال کا معاہدہ طے پایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل لمیٹڈ (پی آئی بی ٹی) نے ریکوڈک مائننگ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ساتھ اس کے کارگو کنسنٹریٹ کی ہینڈلنگ کے لیے معاہدہ کیا ہے جبکہ معدنی برآمدات کو منظم کرنے کے لیے پورٹ قاسم اتھارٹی سے اضافی مراعات بھی حاصل کرلی ہیں۔</strong></p>
<p>پی آئی بی ٹی نے یہ پیش رفت پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جاری کردہ نوٹس میں ظاہر کی۔</p>
<p>کمپنی نے پورٹ قاسم اتھارٹی کے ساتھ اضافی نفاذی معاہدہ کیا ہے جو اسے کاپر-گولڈ کموڈیٹیز  بشمول معدنیات، دھاتیں اور دیگر قدرتی زمینی اجزاء کو نان ایکسلوزو بنیادوں پر ہینڈل، ذخیرہ اور برآمد کرنے کے حقوق، مراعات اور لائسنس فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی کمپنی نے ریکوڈک مائننگ کمپنی کے کارگو کنسنٹریٹ کے ہینڈلنگ کے لیے بھی الگ معاہدہ کیا ہے۔</p>
<p>ریکوڈک بلوچستان میں واقع ایک وسیع، غیر ترقی یافتہ کاپر اور سونے کا ذخیرہ ہے، جسے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔ اس منصوبے میں 50 فیصد حصہ بریک کے پاس ہے، 25 فیصد 3 وفاقی سرکاری اداروں کے پاس اور 25 فیصد بلوچستان حکومت کے پاس ہے، جس میں 15 فیصد مکمل مالی تعاون اور 10 فیصد مفت کیریڈ بنیاد پر ہے۔</p>
<p>منصوبے کا مقصد 2028 میں پیداوار کا آغاز کرنا ہے،توقع کی جا رہی ہے کہ یہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں حصہ ڈالتے ہوئے عالمی معیار کی کاپر اور سونے کی کان بن جائے گا۔</p>
<p>پی آئی بی ٹی کا یہ معاہدہ ٹرمینل کو ریکوڈک منصوبے سے منسلک لاجسٹک ضروریات کی تکمیل کے لیے تیار کرتا ہے جو پاکستان کے سب سے بڑے منصوبہ بند کان کنی ترقیاتی منصوبوں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل 2010 میں ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے طور پر قائم ہوئی تھی، اسی سال کمپنی نے پورٹ قاسم اتھارٹی کے ساتھ بلڈ-آپریٹ-ٹرانسفر (بی او ٹی) معاہدہ کیا جس کے تحت پورٹ کے کوئلہ اور کلنکر ٹرمینل کی تعمیر، ترقی، آپریشن اور انتظام کے لیے 30 سال کا معاہدہ طے پایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280520</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Dec 2025 12:06:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/15113701bade34b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/15113701bade34b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
