<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:26:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:26:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک نے توقعات کے برعکس شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کمی کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280516/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ توقعات کے برعکس پیر کو پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے 10.5 فیصد کردیا ۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کا خیال تھا کہ مرکزی بینک شرحِ سود کو برقرار رکھے گا تاہم اس کے برخلاف فیصلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 16 دسمبر 2025 سے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کرتے ہوئے اسے 10.5 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/StateBank_Pak/status/2000538365490520539?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2000538365490520539%7Ctwgr%5E6fd38db56b05b08b832bd7a2ce25bf030fbb789b%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40397268'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/2000538365490520539?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2000538365490520539%7Ctwgr%5E6fd38db56b05b08b832bd7a2ce25bf030fbb789b%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40397268"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حالیہ کمی کے بعد پالیسی ریٹ میں مجموعی کمی 1,150 بیسز پوائنٹس تک پہنچ گئی ہے جو اس وقت کے مقابلے میں ہے جب شرح سود 22 فیصد کی بلند سطح پر تھی۔ قبل ازیں پالیسی ریٹ چار مسلسل اجلاسوں میں برقرار رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پچھلی بار 5 مئی 2025 کے اجلاس میں شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹس کی کمی کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ کمی کے بعد پالیسی ریٹ میں مجموعی نرمی 22 فیصد کی بلند ترین سطح سے اب تک 1,150 بیسس پوائنٹس تک پہنچ گئی ہے۔ پیر کے فیصلے سے قبل پالیسی ریٹ مسلسل چار اجلاسوں تک برقرار رکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل 5 مئی 2025 کے اجلاس میں 100 بیسس پوائنٹس کی آخری کمی کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ مالی سال 26 کے جولائی سے نومبر کے دوران اوسط مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں رہی، تاہم بنیادی مہنگائی نسبتاً سخت ثابت ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ مجموعی طور پر مہنگائی کا منظرنامہ بڑی حد تک غیر تبدیل شدہ ہے، جس کی وجہ عالمی سطح پر اجناس کی نسبتاً معتدل قیمتیں اور مہنگائی سے متعلق توقعات کا مستحکم رہنا ہے، جبکہ محتاط مانیٹری پالیسی اپنائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ معاشی سرگرمی میں بہتری کا رجحان جاری ہے، جس کا ثبوت اہم ہائی فریکوئنسی اشاریوں میں مضبوط بہتری سے ملتا ہے، جن میں مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی میں بڑے پیمانے پر صنعتوں کی پیداوار میں توقعات سے زائد اضافہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کمیٹی نے نشاندہی کی کہ عالمی ماحول اب بھی خاص طور پر برآمدات کے لیے چیلنجنگ ہے، جس کے معاشی منظرنامے پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے ایم پی سی نے پائیدار معاشی نمو کی حمایت کے لیے پالیسی ریٹ میں کمی کی گنجائش موجود ہونے کا بھی نوٹس  لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;27 اکتوبر 2025 کو اپنے پچھلے اجلاس میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور کہا تھا کہ حالیہ سیلاب کا مجموعی معیشت پر اثر اندازے سے کم رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیصلہ مارکیٹ توقعات کے برعکس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ ماہرین کو توقع تھی کہ آج کے اجلاس میں شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کے مطابق پالیسی ریٹ میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں، کیونکہ استحکام برقرار رکھتے ہوئے محتاط حکمتِ عملی اپنائی جائے گی، خاص طور پر اس لیے کہ وہ بنیادی اثر (بیس ایفیکٹ) جو ہیڈ لائن مہنگائی کو کم سطح پر رکھے ہوئے تھا، اب بتدریج ختم ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا معمولی سا بڑھنا اور اندرونی معاشی بحالی کا ابتدائی مرحلہ مرکزی بینک کی طرف سے ایک محتاط، انتظار کرو اور دیکھو کا طریقہ کار اختیار کرنے کی مزید حمایت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح رائٹرز کے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ مرکزی بینک سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ کلیدی شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا، کیونکہ آئی ایم ایف کی جانب سے مہنگائی کے خطرات برقرار رہنے اور پالیسی کو مناسب حد تک سخت رکھنے کی وارننگ کے بعد تجزیہ کاروں نے شرحِ سود میں کمی کی پیش گوئیاں 2026 کے آخر تک مؤخر کردی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے میں شامل تمام 12 تجزیہ کاروں نے توقع ظاہر کی تھی کہ شرحِ سود میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق زیادہ تر شرکاء کا یہ ماننا تھا کہ اسٹیٹ بینک مالی سال 26 کے اختتامی مہینوں سے پہلے نرمی کا عمل شروع نہیں کرے گا جب کہ بعض تجزیہ کاروں نے شرحِ سود میں کمی کی پیش گوئی کو مالی سال 2027 تک مؤخر کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مانیٹری پالیسی کمیٹی کا گزشتہ اجلاس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر کے اجلاس میں مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھا۔ یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے اس وقت نوٹ کیا کہ ستمبر میں ہیڈ لائن مہنگائی نمایاں طور پر بڑھ کر 5.6 فیصد ہو گئی جبکہ کور مہنگائی 7.3 فیصد پر برقرار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے مطابق اس کے علاوہ معاشی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئی جس کی عکاسی اعلیٰ فریکوئنسی معاشی اشاریوں میں مضبوط نمو سے ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران کمیٹی نے اس منظرنامے کے حوالے سے بعض غیر یقینی عوامل کی نشاندہی بھی کی جن میں عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بدلتی ہوئی ٹیرف صورتحال کے باعث برآمدات کے مشکل امکانات اور ملک کے اندر غذائی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹیں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس کے بعد سے متعدد اہم معاشی پیش رفت سامنے آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روپے کی قدر میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ پٹرول کی قیمتیں مجموعی طور پر تقریباً بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں گزشتہ ایم پی سی اجلاس کے بعد سے 6 فیصد سے زائد کم ہوئی ہیں اور اس وقت تقریباً 57 ڈالر فی بیرل کے آس پاس منڈلا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق، نومبر 2025 میں پاکستان کی ہیڈ لائن مہنگائی سالانہ بنیاد پر 6.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کے مطابق اکتوبر 2025 میں پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں 112 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خسارہ ستمبر 2025 میں ریکارڈ کیے گئے 83 ملین ڈالر کے سرپلس اور اکتوبر 2024 میں 296 ملین ڈالر کے سرپلس کے بعد سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کے مطابق 5 دسمبر 2025 تک اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 14.58 ارب ڈالر ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص غیر ملکی ذخائر 5.03 ارب ڈالر رہے جس کے نتیجے میں ملک کے مجموعی مائع غیر ملکی ذخائر 19.61 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ توقعات کے برعکس پیر کو پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے 10.5 فیصد کردیا ۔</strong></p>
<p>مارکیٹ کا خیال تھا کہ مرکزی بینک شرحِ سود کو برقرار رکھے گا تاہم اس کے برخلاف فیصلہ کیا گیا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 16 دسمبر 2025 سے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کرتے ہوئے اسے 10.5 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/StateBank_Pak/status/2000538365490520539?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2000538365490520539%7Ctwgr%5E6fd38db56b05b08b832bd7a2ce25bf030fbb789b%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40397268'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/2000538365490520539?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2000538365490520539%7Ctwgr%5E6fd38db56b05b08b832bd7a2ce25bf030fbb789b%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40397268"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>حالیہ کمی کے بعد پالیسی ریٹ میں مجموعی کمی 1,150 بیسز پوائنٹس تک پہنچ گئی ہے جو اس وقت کے مقابلے میں ہے جب شرح سود 22 فیصد کی بلند سطح پر تھی۔ قبل ازیں پالیسی ریٹ چار مسلسل اجلاسوں میں برقرار رہا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ پچھلی بار 5 مئی 2025 کے اجلاس میں شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹس کی کمی کی گئی تھی۔</p>
<p>تازہ کمی کے بعد پالیسی ریٹ میں مجموعی نرمی 22 فیصد کی بلند ترین سطح سے اب تک 1,150 بیسس پوائنٹس تک پہنچ گئی ہے۔ پیر کے فیصلے سے قبل پالیسی ریٹ مسلسل چار اجلاسوں تک برقرار رکھا گیا تھا۔</p>
<p>اس سے قبل 5 مئی 2025 کے اجلاس میں 100 بیسس پوائنٹس کی آخری کمی کی گئی تھی۔</p>
<p>پیر کے روز ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ مالی سال 26 کے جولائی سے نومبر کے دوران اوسط مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں رہی، تاہم بنیادی مہنگائی نسبتاً سخت ثابت ہو رہی ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ مجموعی طور پر مہنگائی کا منظرنامہ بڑی حد تک غیر تبدیل شدہ ہے، جس کی وجہ عالمی سطح پر اجناس کی نسبتاً معتدل قیمتیں اور مہنگائی سے متعلق توقعات کا مستحکم رہنا ہے، جبکہ محتاط مانیٹری پالیسی اپنائی گئی ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ معاشی سرگرمی میں بہتری کا رجحان جاری ہے، جس کا ثبوت اہم ہائی فریکوئنسی اشاریوں میں مضبوط بہتری سے ملتا ہے، جن میں مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی میں بڑے پیمانے پر صنعتوں کی پیداوار میں توقعات سے زائد اضافہ شامل ہے۔</p>
<p>تاہم کمیٹی نے نشاندہی کی کہ عالمی ماحول اب بھی خاص طور پر برآمدات کے لیے چیلنجنگ ہے، جس کے معاشی منظرنامے پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے ایم پی سی نے پائیدار معاشی نمو کی حمایت کے لیے پالیسی ریٹ میں کمی کی گنجائش موجود ہونے کا بھی نوٹس  لیا۔</p>
<p>27 اکتوبر 2025 کو اپنے پچھلے اجلاس میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور کہا تھا کہ حالیہ سیلاب کا مجموعی معیشت پر اثر اندازے سے کم رہا ہے۔</p>
<p><strong>فیصلہ مارکیٹ توقعات کے برعکس</strong></p>
<p>مارکیٹ ماہرین کو توقع تھی کہ آج کے اجلاس میں شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کے مطابق پالیسی ریٹ میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں، کیونکہ استحکام برقرار رکھتے ہوئے محتاط حکمتِ عملی اپنائی جائے گی، خاص طور پر اس لیے کہ وہ بنیادی اثر (بیس ایفیکٹ) جو ہیڈ لائن مہنگائی کو کم سطح پر رکھے ہوئے تھا، اب بتدریج ختم ہو رہا ہے۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا معمولی سا بڑھنا اور اندرونی معاشی بحالی کا ابتدائی مرحلہ مرکزی بینک کی طرف سے ایک محتاط، انتظار کرو اور دیکھو کا طریقہ کار اختیار کرنے کی مزید حمایت کرتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح رائٹرز کے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ مرکزی بینک سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ کلیدی شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا، کیونکہ آئی ایم ایف کی جانب سے مہنگائی کے خطرات برقرار رہنے اور پالیسی کو مناسب حد تک سخت رکھنے کی وارننگ کے بعد تجزیہ کاروں نے شرحِ سود میں کمی کی پیش گوئیاں 2026 کے آخر تک مؤخر کردی ہیں۔</p>
<p>سروے میں شامل تمام 12 تجزیہ کاروں نے توقع ظاہر کی تھی کہ شرحِ سود میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق زیادہ تر شرکاء کا یہ ماننا تھا کہ اسٹیٹ بینک مالی سال 26 کے اختتامی مہینوں سے پہلے نرمی کا عمل شروع نہیں کرے گا جب کہ بعض تجزیہ کاروں نے شرحِ سود میں کمی کی پیش گوئی کو مالی سال 2027 تک مؤخر کر دیا ہے۔</p>
<p><strong>مانیٹری پالیسی کمیٹی کا گزشتہ اجلاس</strong></p>
<p>اکتوبر کے اجلاس میں مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھا۔ یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق تھا۔</p>
<p>کمیٹی نے اس وقت نوٹ کیا کہ ستمبر میں ہیڈ لائن مہنگائی نمایاں طور پر بڑھ کر 5.6 فیصد ہو گئی جبکہ کور مہنگائی 7.3 فیصد پر برقرار رہی۔</p>
<p>کمیٹی کے مطابق اس کے علاوہ معاشی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئی جس کی عکاسی اعلیٰ فریکوئنسی معاشی اشاریوں میں مضبوط نمو سے ہوتی ہے۔</p>
<p>اسی دوران کمیٹی نے اس منظرنامے کے حوالے سے بعض غیر یقینی عوامل کی نشاندہی بھی کی جن میں عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بدلتی ہوئی ٹیرف صورتحال کے باعث برآمدات کے مشکل امکانات اور ملک کے اندر غذائی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹیں شامل ہیں۔</p>
<p>گزشتہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس کے بعد سے متعدد اہم معاشی پیش رفت سامنے آئی ہیں۔</p>
<p>روپے کی قدر میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ پٹرول کی قیمتیں مجموعی طور پر تقریباً بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رہی ہیں۔</p>
<p>عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں گزشتہ ایم پی سی اجلاس کے بعد سے 6 فیصد سے زائد کم ہوئی ہیں اور اس وقت تقریباً 57 ڈالر فی بیرل کے آس پاس منڈلا رہی ہیں۔</p>
<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق، نومبر 2025 میں پاکستان کی ہیڈ لائن مہنگائی سالانہ بنیاد پر 6.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کے مطابق اکتوبر 2025 میں پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں 112 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>یہ خسارہ ستمبر 2025 میں ریکارڈ کیے گئے 83 ملین ڈالر کے سرپلس اور اکتوبر 2024 میں 296 ملین ڈالر کے سرپلس کے بعد سامنے آیا ہے۔</p>
<p>مرکزی بینک کے مطابق 5 دسمبر 2025 تک اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 14.58 ارب ڈالر ہو گئے۔</p>
<p>کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص غیر ملکی ذخائر 5.03 ارب ڈالر رہے جس کے نتیجے میں ملک کے مجموعی مائع غیر ملکی ذخائر 19.61 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280516</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 10:28:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/15145718a6d392f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/15145718a6d392f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
