<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لڑاکا طیارے اور گاڑیاں، سیٹلائٹ تصاویر نے طالبان کے دکھاوے کو بے نقاب کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280513/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے بگرام ائر بیس پر فوجی اثاثے تیار کرنے کے دعوے محض پروپیگنڈا ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حقیقت میں طالبان لڑاکا طیارے یا بکتر بند گاڑیاں تیار نہیں کر رہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت، پرانے طیارے اور گاڑیاں دوبارہ رنگ کر کے رن وے پر رکھ دی گئی ہیں تاکہ فوجی تیاری کا تاثر دیا جا سکے۔ طالبان کی سوشل میڈیا پوسٹس نے بھی اس گمراہ کن بیانیے کو بڑھاوا دیا، جن میں منظم شدہ فوجی مشقیں، طیاروں کی دیکھ بھال اور پریڈز دکھائی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بات بھی اجاگر کی گئی کہ امریکہ میں کچھ تحقیقاتی اور دلچسپی رکھنے والے گروپس بگرام میں سرگرمیوں پر خاص طور پر توجہ دے رہے ہیں، خاص طور پر اسلحہ اور فوجی ساز و سامان پر جو امریکی فوج کے انخلا کے دوران افغانستان میں چھوڑا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے بگرام ائر بیس پر دوبارہ واپسی کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ افغان تعمیر نو کے لیے امریکی خصوصی انسپکٹر جنرل نے نوٹ کیا کہ انخلا کے دوران تقریباً 7.1 ارب ڈالر کے امریکی ہتھیار اور فوجی ساز و سامان افغانستان میں چھوڑے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر، خاص طور پر امریکہ میں، طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی نمو ایک بڑا مسئلہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اپنی سکیورٹی کے لیے غیر رسمی گروپس پر انحصار کرتے ہیں اور ریاستی پالیسی کے تحت دہشت گردی کو سہارا دیتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نتائج پاکستان کے موقف کو بھی تقویت دیتے ہیں کہ طالبان حکومت کی دہشت گردانہ خواہشات نہ صرف خطے میں استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ہیں۔ اس رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ طالبان کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ صرف عالمی اور داخلی سطح پر اثر ڈالنے کی کوشش ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے بگرام ائر بیس پر فوجی اثاثے تیار کرنے کے دعوے محض پروپیگنڈا ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حقیقت میں طالبان لڑاکا طیارے یا بکتر بند گاڑیاں تیار نہیں کر رہے۔</strong></p>
<p>درحقیقت، پرانے طیارے اور گاڑیاں دوبارہ رنگ کر کے رن وے پر رکھ دی گئی ہیں تاکہ فوجی تیاری کا تاثر دیا جا سکے۔ طالبان کی سوشل میڈیا پوسٹس نے بھی اس گمراہ کن بیانیے کو بڑھاوا دیا، جن میں منظم شدہ فوجی مشقیں، طیاروں کی دیکھ بھال اور پریڈز دکھائی گئی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بات بھی اجاگر کی گئی کہ امریکہ میں کچھ تحقیقاتی اور دلچسپی رکھنے والے گروپس بگرام میں سرگرمیوں پر خاص طور پر توجہ دے رہے ہیں، خاص طور پر اسلحہ اور فوجی ساز و سامان پر جو امریکی فوج کے انخلا کے دوران افغانستان میں چھوڑا گیا تھا۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے بگرام ائر بیس پر دوبارہ واپسی کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ افغان تعمیر نو کے لیے امریکی خصوصی انسپکٹر جنرل نے نوٹ کیا کہ انخلا کے دوران تقریباً 7.1 ارب ڈالر کے امریکی ہتھیار اور فوجی ساز و سامان افغانستان میں چھوڑے گئے۔</p>
<p>عالمی سطح پر، خاص طور پر امریکہ میں، طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی نمو ایک بڑا مسئلہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اپنی سکیورٹی کے لیے غیر رسمی گروپس پر انحصار کرتے ہیں اور ریاستی پالیسی کے تحت دہشت گردی کو سہارا دیتے رہتے ہیں۔</p>
<p>یہ نتائج پاکستان کے موقف کو بھی تقویت دیتے ہیں کہ طالبان حکومت کی دہشت گردانہ خواہشات نہ صرف خطے میں استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ہیں۔ اس رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ طالبان کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ صرف عالمی اور داخلی سطح پر اثر ڈالنے کی کوشش ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280513</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Dec 2025 10:32:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (این این آئی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/1510311128bed7f.webp" type="image/webp" medium="image" height="337" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/1510311128bed7f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
