<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:32:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:32:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپٹما کو کسی ریلیف کی امید نہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280507/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما)  اپنے اراکین کو درپیش دیرینہ مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ سطح پر مشاورت میں مصروف ہے، تاہم اس بات کی کوئی توقع نہیں کہ فوری ریلیف مل سکے گا، کیونکہ ملک اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد نے وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کو لکھے گئے خط میں ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش اہم چیلنجز کی نشاندہی کی اور تفصیلی ملاقات کے لیے مناسب وقت دینے کی درخواست کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس سے متعلق امور پر اپٹما نے کم از کم ٹرن اوور ٹیکس، برآمدکنندگان پر ڈبل ایڈوانس ٹیکس اور متعدد ٹیکسز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، جن کے باعث اس شعبے کی مسابقت متاثر ہو رہی ہے۔ اس ضمن میں بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کے ورکنگ گروپ، جس کی سربراہی شہزاد سلیم کر رہے ہیں، ان معاملات کا جامع جائزہ لے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپننگ ملز میں کیمروں کی تنصیب کے حوالے سے حکومت نے وضاحت کی کہ مقررہ لاگت حتمی قیمت نہیں بلکہ ایک حد ہے، جس کے اندر رہتے ہوئے ملز سپلائرز سے خود مذاکرات کر سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان اخراجات پر ٹیکس کریڈٹ یا ریبیٹ دینے پر بھی غور جاری ہے۔ اپٹما کے مطابق ایف بی آر کے ساتھ تفصیلی بات چیت ہو چکی ہے اور مشترکہ کمیٹی قائم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کے نرخوں پر پاور ڈویژن نے تسلیم کیا کہ موجودہ ٹیرف بلند ہیں اور صنعت کے غیر مسابقتی لاگت ڈھانچے میں بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔ حکام نے مالی مشکلات کے باعث فوری ریلیف کی محدود گنجائش کی نشاندہی کی اور نیپرا کے منظور کردہ انکریمنٹل ٹیرف پیکیج کو دستیاب ریلیف قرار دیا۔ اپٹما کو نیپرا کنزیومر سروس مینوئل میں مجوزہ ترامیم پر کام کرنے کا مشورہ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ہی مقام پر متعدد بجلی کنکشنز کے مسئلے پر اپٹما نے 7.5 میگاواٹ سے زائد لوڈ رکھنے والی صنعتوں کے لیے سہولت کا مطالبہ کیا۔ پاور منسٹر نے اصولی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے تحریری تجویز طلب کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپٹو پاور لیوی سے متعلق بتایا گیا کہ آئی ایم ایف شرائط کے تحت اس میں واپسی ممکن نہیں، تاہم جن یونٹس کو گرڈ تک رسائی حاصل نہیں، ان کے لیے آئندہ آئی ایم ایف جائزے میں استثنا پر غور کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز، ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم اور لیسبیلا انڈسٹریل اسٹیٹ میں بجلی کی عدم دستیابی جیسے امور پر بھی حکومتی سطح پر تعاون اور فالو اپ کی یقین دہانی کرائی گئی، جبکہ ای ایف ایس میں کسی فوری تبدیلی کی تردید کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما)  اپنے اراکین کو درپیش دیرینہ مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ سطح پر مشاورت میں مصروف ہے، تاہم اس بات کی کوئی توقع نہیں کہ فوری ریلیف مل سکے گا، کیونکہ ملک اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت ہے۔</strong></p>
<p>اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد نے وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کو لکھے گئے خط میں ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش اہم چیلنجز کی نشاندہی کی اور تفصیلی ملاقات کے لیے مناسب وقت دینے کی درخواست کی۔</p>
<p>ٹیکس سے متعلق امور پر اپٹما نے کم از کم ٹرن اوور ٹیکس، برآمدکنندگان پر ڈبل ایڈوانس ٹیکس اور متعدد ٹیکسز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، جن کے باعث اس شعبے کی مسابقت متاثر ہو رہی ہے۔ اس ضمن میں بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کے ورکنگ گروپ، جس کی سربراہی شہزاد سلیم کر رہے ہیں، ان معاملات کا جامع جائزہ لے رہا ہے۔</p>
<p>اسپننگ ملز میں کیمروں کی تنصیب کے حوالے سے حکومت نے وضاحت کی کہ مقررہ لاگت حتمی قیمت نہیں بلکہ ایک حد ہے، جس کے اندر رہتے ہوئے ملز سپلائرز سے خود مذاکرات کر سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان اخراجات پر ٹیکس کریڈٹ یا ریبیٹ دینے پر بھی غور جاری ہے۔ اپٹما کے مطابق ایف بی آر کے ساتھ تفصیلی بات چیت ہو چکی ہے اور مشترکہ کمیٹی قائم کی جا رہی ہے۔</p>
<p>بجلی کے نرخوں پر پاور ڈویژن نے تسلیم کیا کہ موجودہ ٹیرف بلند ہیں اور صنعت کے غیر مسابقتی لاگت ڈھانچے میں بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔ حکام نے مالی مشکلات کے باعث فوری ریلیف کی محدود گنجائش کی نشاندہی کی اور نیپرا کے منظور کردہ انکریمنٹل ٹیرف پیکیج کو دستیاب ریلیف قرار دیا۔ اپٹما کو نیپرا کنزیومر سروس مینوئل میں مجوزہ ترامیم پر کام کرنے کا مشورہ دیا گیا۔</p>
<p>ایک ہی مقام پر متعدد بجلی کنکشنز کے مسئلے پر اپٹما نے 7.5 میگاواٹ سے زائد لوڈ رکھنے والی صنعتوں کے لیے سہولت کا مطالبہ کیا۔ پاور منسٹر نے اصولی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے تحریری تجویز طلب کی۔</p>
<p>کیپٹو پاور لیوی سے متعلق بتایا گیا کہ آئی ایم ایف شرائط کے تحت اس میں واپسی ممکن نہیں، تاہم جن یونٹس کو گرڈ تک رسائی حاصل نہیں، ان کے لیے آئندہ آئی ایم ایف جائزے میں استثنا پر غور کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز، ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم اور لیسبیلا انڈسٹریل اسٹیٹ میں بجلی کی عدم دستیابی جیسے امور پر بھی حکومتی سطح پر تعاون اور فالو اپ کی یقین دہانی کرائی گئی، جبکہ ای ایف ایس میں کسی فوری تبدیلی کی تردید کی گئی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280507</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Dec 2025 09:06:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/150904334d32708.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/150904334d32708.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
