<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 14:05:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 14:05:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آخرکار، لاجسٹک بحران کا خاتمہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280463/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سب سے پہلے یہ بات خوش آئند ہے کہ پنجاب کے ٹرانسپورٹرز اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی کل کامیاب مذاکرات کے بعد ختم ہو گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں کیں، جن میں تمام اہم مسائل زیر بحث آئے اور ان کے حل کے لیے ایک روڈ میپ طے پایا۔ ملاقات کے بعد ٹرانسپورٹرز نے باضابطہ طور پر ہڑتال ختم کی اور مفاہمتی دستاویز پر دستخط کیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارگو ٹرانسپورٹرز اور پنجاب و سندھ حکومتوں کے درمیان تصادم تیزی سے ملک گیر لاجسٹکس بحران میں تبدیل ہو رہا تھا۔ 8 دسمبر سے، جب ٹرانسپورٹرز نے پرانے ٹرکوں اور ٹریلروں پر دونوں صوبائی حکومتوں کی پابندیوں، بھاری ٹریفک جرمانوں، گاڑیوں کی ضبطگی اور مبینہ ہراسانی کے خلاف غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کیا، تب سے ہزاروں اندرون و بیرون ملک مال بردار شپمنٹس ملک بھر میں رک گئی تھیں جس سے تجارتی اور سپلائی نیٹ ورک جام ہو گئے تھے۔ ٹرانسپورٹ فیڈریشن کے رہنماؤں نے خبردار کیا تھا کہ 19 دسمبر سے یہ تعطل صرف فریٹ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ تمام صوبوں میں شہر سے شہر اور مقامی ٹرانسپورٹ بھی رک جائے گی، جس کے نتیجے میں بازار، تجارتی سرگرمیاں، صنعتی آپریشنز، پٹرول پمپس، سرکاری دفاتر، ہول سیل ہب اور ملک کے سپلائی نیٹ ورک متاثر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ہڑتال نے مینوفیکچرنگ اور برآمدات کو پہلے ہی بڑا نقصان پہنچا دیا تھا۔ لاجسٹکس میں خلل کی وجہ سے، پیداواری لائنیں رک گئی تھیں، شپمنٹس میں تاخیر ہوئی اور برآمد پر مبنی صنعتوں کی سپلائی چینز متاثر ہوئی تھیں، نتیجتاً ڈیمریج کے اخراجات بڑھ گئے تھے اور بحری جہازوں کی روانگی میں رکاوٹیں آئیں جس سے بین الاقوامی آرڈرز کے منسوخ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ، خرم مختار نے اندازہ لگایا کہ صرف ٹیکسٹائل کے شعبے کو تقریباً 250 ملین امریکی ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ خام مال کی نقل و حرکت، صنعتی سرگرمی اور بندرگاہوں کے آپریشنز میں رکاوٹ کے پیش نظر، مجموعی اقتصادی نقصان بلاشبہ کہیں زیادہ تھا اور اس نے کئی شعبوں کو متاثر کیا۔اگرچہ غیر محفوظ ٹرانسپورٹر طریقوں کو روکنا ضروری ہے، لیکن حکام کو ردعمل کی توقع رکھنی چاہیے تھی کیونکہ یہ انداز پہلے بھی سامنے آ چکا ہے۔ صرف طاقت کے استعمال  سے پائیدار تعمیل  کبھی بھی حاصل نہیں کی جاسکتی تھی۔ضرورت اس بات کی تھی کہ ایک متوازن طریقہ کار اپنایا جاتا، جس میں حفاظتی معیارات کو حقیقت پسندانہ ٹائم لائنز، اسٹیک ہولڈرز کے مشورے، اور تعمیل کی حوصلہ افزائی کے لیے قابل اعتماد ترغیبات کے ساتھ جوڑا جاتا۔ اس کے برعکس، ہمیں کئی اطلاعات ملیں کہ پرانے گاڑیوں کے ڈرائیور گرفتار کیے گئےجبکہ بعض مبینہ طور پر رشوت دے کر جرمانے سے بچ گئے اور ان فٹ گاڑیوں کو حکام سے مسلسل کلیئرنس ملتی رہی۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ حکومت کے محکموں میں سخت نفاذ اور بدعنوانی کا یہ امتزاج اعتبار کو کمزور کرتا ہے، ناراضگی پیدا کرتا ہے اور مؤثر نگرانی کو متاثر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اچھی طرح دیکھ بھال کی گئی پرانی گاڑی اکثر کم دیکھ بھال شدہ نئی گاڑی کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد ہو سکتی ہے، ایک پہلو جو بظاہر نظر انداز کیا گیا ہے۔ ایسے ممالک میں جہاں مضبوط ضابطہ کاری کے ڈھانچے موجود ہیں، ٹرانسپورٹرز کو عام طور پر پرانی گاڑیاں ختم کرنے کے لیے عبوری مدت دی جاتی ہے، اکثر ایک سال کی، اور بعض اوقات اس کے ساتھ مالی مراعات بھی دی جاتی ہیں، جیسے کہ صاف اور ایندھن کی بچت کرنے والی گاڑیوں کے لیے ٹیکس میں چھوٹ یا سبسڈیز۔ سندھ میں بعض اصلاحات نافذ کرنے کے لیے چھ ماہ کی مدت دی گئی تھی جن میں گاڑیوں کے معائنے کے عمل کو مؤثر بنانے کے اقدامات شامل تھے تاکہ فٹنس سرٹیفکیٹس جاری کرنے میں تاخیر سے بچا جا سکے، لیکن مختصر مدت اور مشکل معاشی حالات کی وجہ سے مکمل تعمیل ممکن نہیں تھی۔ نیز، بھاری جرمانے اور گاڑیوں کی ضبطی کو مثالی طور پر صرف اسی وقت نافذ کیا جانا چاہیے جب مناسب معاونت فراہم کرنے والے اقدامات ناکام ہو جائیں اور تعمیل یقینی نہ ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ تعمیری مشاورت کی ضرورت ہے تاکہ ایک منصفانہ اور قابل عمل درمیانی راستہ قائم کیا جا سکے جو تعاون کے ذریعے تعمیل کو فروغ دے اور ساتھ ہی سرکاری محکموں میں بدعنوانی کا تدارک کرے۔ اسی وقت یہ بھی تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ماضی میں گاڑیوں کی فٹنس اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کی کوششیں اکثر بلاجواز اور ضرورت سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کرتی رہی ہیں، اس لیے ہڑتال کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے کسی بھی غیر معقول دباؤ کا مقابلہ کیا جانا چاہیے۔ چیلنج اس میں ہے کہ معقول مطالبات کو پورا کیا جائے بغیر اصولوں سے سمجھوتہ کیے، تاکہ روڈ سیفٹی  جو طویل عرصے تک عوام کی بھلائی کے نقصان پر نظر انداز کی گئی کو اولین ترجیح دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سب سے پہلے یہ بات خوش آئند ہے کہ پنجاب کے ٹرانسپورٹرز اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی کل کامیاب مذاکرات کے بعد ختم ہو گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں کیں، جن میں تمام اہم مسائل زیر بحث آئے اور ان کے حل کے لیے ایک روڈ میپ طے پایا۔ ملاقات کے بعد ٹرانسپورٹرز نے باضابطہ طور پر ہڑتال ختم کی اور مفاہمتی دستاویز پر دستخط کیے۔</strong></p>
<p>کارگو ٹرانسپورٹرز اور پنجاب و سندھ حکومتوں کے درمیان تصادم تیزی سے ملک گیر لاجسٹکس بحران میں تبدیل ہو رہا تھا۔ 8 دسمبر سے، جب ٹرانسپورٹرز نے پرانے ٹرکوں اور ٹریلروں پر دونوں صوبائی حکومتوں کی پابندیوں، بھاری ٹریفک جرمانوں، گاڑیوں کی ضبطگی اور مبینہ ہراسانی کے خلاف غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کیا، تب سے ہزاروں اندرون و بیرون ملک مال بردار شپمنٹس ملک بھر میں رک گئی تھیں جس سے تجارتی اور سپلائی نیٹ ورک جام ہو گئے تھے۔ ٹرانسپورٹ فیڈریشن کے رہنماؤں نے خبردار کیا تھا کہ 19 دسمبر سے یہ تعطل صرف فریٹ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ تمام صوبوں میں شہر سے شہر اور مقامی ٹرانسپورٹ بھی رک جائے گی، جس کے نتیجے میں بازار، تجارتی سرگرمیاں، صنعتی آپریشنز، پٹرول پمپس، سرکاری دفاتر، ہول سیل ہب اور ملک کے سپلائی نیٹ ورک متاثر ہوں گے۔</p>
<p>ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ہڑتال نے مینوفیکچرنگ اور برآمدات کو پہلے ہی بڑا نقصان پہنچا دیا تھا۔ لاجسٹکس میں خلل کی وجہ سے، پیداواری لائنیں رک گئی تھیں، شپمنٹس میں تاخیر ہوئی اور برآمد پر مبنی صنعتوں کی سپلائی چینز متاثر ہوئی تھیں، نتیجتاً ڈیمریج کے اخراجات بڑھ گئے تھے اور بحری جہازوں کی روانگی میں رکاوٹیں آئیں جس سے بین الاقوامی آرڈرز کے منسوخ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ، خرم مختار نے اندازہ لگایا کہ صرف ٹیکسٹائل کے شعبے کو تقریباً 250 ملین امریکی ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ خام مال کی نقل و حرکت، صنعتی سرگرمی اور بندرگاہوں کے آپریشنز میں رکاوٹ کے پیش نظر، مجموعی اقتصادی نقصان بلاشبہ کہیں زیادہ تھا اور اس نے کئی شعبوں کو متاثر کیا۔اگرچہ غیر محفوظ ٹرانسپورٹر طریقوں کو روکنا ضروری ہے، لیکن حکام کو ردعمل کی توقع رکھنی چاہیے تھی کیونکہ یہ انداز پہلے بھی سامنے آ چکا ہے۔ صرف طاقت کے استعمال  سے پائیدار تعمیل  کبھی بھی حاصل نہیں کی جاسکتی تھی۔ضرورت اس بات کی تھی کہ ایک متوازن طریقہ کار اپنایا جاتا، جس میں حفاظتی معیارات کو حقیقت پسندانہ ٹائم لائنز، اسٹیک ہولڈرز کے مشورے، اور تعمیل کی حوصلہ افزائی کے لیے قابل اعتماد ترغیبات کے ساتھ جوڑا جاتا۔ اس کے برعکس، ہمیں کئی اطلاعات ملیں کہ پرانے گاڑیوں کے ڈرائیور گرفتار کیے گئےجبکہ بعض مبینہ طور پر رشوت دے کر جرمانے سے بچ گئے اور ان فٹ گاڑیوں کو حکام سے مسلسل کلیئرنس ملتی رہی۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ حکومت کے محکموں میں سخت نفاذ اور بدعنوانی کا یہ امتزاج اعتبار کو کمزور کرتا ہے، ناراضگی پیدا کرتا ہے اور مؤثر نگرانی کو متاثر کرتا ہے۔</p>
<p>یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اچھی طرح دیکھ بھال کی گئی پرانی گاڑی اکثر کم دیکھ بھال شدہ نئی گاڑی کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد ہو سکتی ہے، ایک پہلو جو بظاہر نظر انداز کیا گیا ہے۔ ایسے ممالک میں جہاں مضبوط ضابطہ کاری کے ڈھانچے موجود ہیں، ٹرانسپورٹرز کو عام طور پر پرانی گاڑیاں ختم کرنے کے لیے عبوری مدت دی جاتی ہے، اکثر ایک سال کی، اور بعض اوقات اس کے ساتھ مالی مراعات بھی دی جاتی ہیں، جیسے کہ صاف اور ایندھن کی بچت کرنے والی گاڑیوں کے لیے ٹیکس میں چھوٹ یا سبسڈیز۔ سندھ میں بعض اصلاحات نافذ کرنے کے لیے چھ ماہ کی مدت دی گئی تھی جن میں گاڑیوں کے معائنے کے عمل کو مؤثر بنانے کے اقدامات شامل تھے تاکہ فٹنس سرٹیفکیٹس جاری کرنے میں تاخیر سے بچا جا سکے، لیکن مختصر مدت اور مشکل معاشی حالات کی وجہ سے مکمل تعمیل ممکن نہیں تھی۔ نیز، بھاری جرمانے اور گاڑیوں کی ضبطی کو مثالی طور پر صرف اسی وقت نافذ کیا جانا چاہیے جب مناسب معاونت فراہم کرنے والے اقدامات ناکام ہو جائیں اور تعمیل یقینی نہ ہو سکے۔</p>
<p>حکام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ تعمیری مشاورت کی ضرورت ہے تاکہ ایک منصفانہ اور قابل عمل درمیانی راستہ قائم کیا جا سکے جو تعاون کے ذریعے تعمیل کو فروغ دے اور ساتھ ہی سرکاری محکموں میں بدعنوانی کا تدارک کرے۔ اسی وقت یہ بھی تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ماضی میں گاڑیوں کی فٹنس اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کی کوششیں اکثر بلاجواز اور ضرورت سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کرتی رہی ہیں، اس لیے ہڑتال کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے کسی بھی غیر معقول دباؤ کا مقابلہ کیا جانا چاہیے۔ چیلنج اس میں ہے کہ معقول مطالبات کو پورا کیا جائے بغیر اصولوں سے سمجھوتہ کیے، تاکہ روڈ سیفٹی  جو طویل عرصے تک عوام کی بھلائی کے نقصان پر نظر انداز کی گئی کو اولین ترجیح دی جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280463</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Dec 2025 15:01:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/131446039b0b1cf.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/131446039b0b1cf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
