<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کا شعبۂ بجلی کا گردشی قرضہ کم کرنے پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280454/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اسلام آباد پر زور دیا ہے کہ وہ پاور سیکٹر میں گردشی قرضے (سی ڈی) میں کمی کے لیے گہرے اور پائیدار ساختی اصلاحات کو ترجیح دے، اور محض وقتی بہاؤ کو روکنے کی حکمتِ عملیوں سے آگے بڑھتے ہوئے بنیادی مالیاتی بگاڑ کو دور کرے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت توسیعی انتظام کے دوسرے جائزے سے متعلق اپنی اسٹاف رپورٹ میں آئی ایم ایف نے بتایا کہ بجلی کے شعبے کے 1,225 ارب روپے کے قرض کی تنظیمِ نو سے لیکویڈیٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، سماجی اخراجات کے لیے مالی گنجائش پیدا ہوئی ہے اور طویل عرصے سے زیرِ التوا مالی ذمہ داریوں کا حل نکالا گیا ہے اور یہ سب کچھ صارفین پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر ممکن ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق کابینہ نے صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے تین سالہ انکریمنٹل قیمتوں کے پیکیج کی منظوری دی ہے جس کا مقصد قومی گرڈ کی طلب میں اضافہ کرنا ہے۔ اس پیکیج کے تحت بنیادی حد سے زائد بجلی کے استعمال پر 22.98 روپے فی یونٹ کی کم ٹیرف لاگو ہوگی۔ اسکیم کے تحت کسی مخصوص صنعت یا شعبے کو امتیازی رعایت نہیں دی جائے گی۔ تاہم اگر کسی بھی مہینے میں صنعتی اور زرعی شعبوں کی مجموعی اضافی بجلی کھپت بنیادی سطح سے 25 فیصد سے زیادہ بڑھتی ہے تو اضافی قیمت اور اسکیم کا خودکار جائزہ لیا جائے گا تاکہ اضافی مارجنل کاسٹ کو شامل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اسکیم کا نیم سالانہ جائزہ بھی لازم قرار دیا گیا ہے تاکہ لاگت اور آمدن میں مسلسل ہم آہنگی برقرار رہے۔ اگر اسکیم کے تحت حاصل ہونے والی آمدن مقررہ ٹیرف سے کم رہی تو اس کا تمام مالی بوجھ صنعتی اور زرعی صارفین پر بھاری ٹیرف کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔ انکریمنٹل کنزمپشن پر صرف مثبت فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) لاگو ہوگی۔ یہ اسکیم اپنے آغاز سے تین سال بعد خود بخود ختم ہو جائے گی اور اس میں کسی قسم کی توسیع کی اجازت نہیں ہوگی۔ مزید برآں، اگر دو مسلسل جائزوں میں ٹیرف میں اضافے کی ضرورت پیش آئی تو اسکیم فوری طور پر ختم کر دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اصلاحات کے آئندہ مرحلے میں ڈسکوز کی ریکوری بہتر بنانے، نقصانات کم کرنے، اخراجات میں کمی کے ساختی اقدامات نافذ کرنے اور ڈسکوز و جنکوز میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کو ترجیح دی جائے۔ ساتھ ہی فنڈ نے مسابقتی تھوک بجلی مارکیٹ کے قیام میں پیش رفت، اور گیس کے شعبے میں آر ایل این جی کے سرپلس اور گردشی قرضے کے موجودہ ذخیرے سے نمٹنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کیپٹو پاور پروڈیوسرز (سی پی پیز) کو قومی گرڈ کی جانب منتقل کرنے کے لیے حکومتی ترغیبی اقدامات کے نتیجے میں صنعتی بجلی کی کھپت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو اپریل تا اگست 2025 کے دوران سالانہ بنیادوں پر 35 فیصد رہا۔ اس اضافے نے مجموعی بجلی کی طلب میں موجود وسیع تر کمزوریوں کے اثرات کو خاص حد تک زائل کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اسلام آباد پر زور دیا ہے کہ وہ پاور سیکٹر میں گردشی قرضے (سی ڈی) میں کمی کے لیے گہرے اور پائیدار ساختی اصلاحات کو ترجیح دے، اور محض وقتی بہاؤ کو روکنے کی حکمتِ عملیوں سے آگے بڑھتے ہوئے بنیادی مالیاتی بگاڑ کو دور کرے۔</strong></p>
<p>توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت توسیعی انتظام کے دوسرے جائزے سے متعلق اپنی اسٹاف رپورٹ میں آئی ایم ایف نے بتایا کہ بجلی کے شعبے کے 1,225 ارب روپے کے قرض کی تنظیمِ نو سے لیکویڈیٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، سماجی اخراجات کے لیے مالی گنجائش پیدا ہوئی ہے اور طویل عرصے سے زیرِ التوا مالی ذمہ داریوں کا حل نکالا گیا ہے اور یہ سب کچھ صارفین پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر ممکن ہوا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق کابینہ نے صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے تین سالہ انکریمنٹل قیمتوں کے پیکیج کی منظوری دی ہے جس کا مقصد قومی گرڈ کی طلب میں اضافہ کرنا ہے۔ اس پیکیج کے تحت بنیادی حد سے زائد بجلی کے استعمال پر 22.98 روپے فی یونٹ کی کم ٹیرف لاگو ہوگی۔ اسکیم کے تحت کسی مخصوص صنعت یا شعبے کو امتیازی رعایت نہیں دی جائے گی۔ تاہم اگر کسی بھی مہینے میں صنعتی اور زرعی شعبوں کی مجموعی اضافی بجلی کھپت بنیادی سطح سے 25 فیصد سے زیادہ بڑھتی ہے تو اضافی قیمت اور اسکیم کا خودکار جائزہ لیا جائے گا تاکہ اضافی مارجنل کاسٹ کو شامل کیا جا سکے۔</p>
<p>اس اسکیم کا نیم سالانہ جائزہ بھی لازم قرار دیا گیا ہے تاکہ لاگت اور آمدن میں مسلسل ہم آہنگی برقرار رہے۔ اگر اسکیم کے تحت حاصل ہونے والی آمدن مقررہ ٹیرف سے کم رہی تو اس کا تمام مالی بوجھ صنعتی اور زرعی صارفین پر بھاری ٹیرف کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔ انکریمنٹل کنزمپشن پر صرف مثبت فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) لاگو ہوگی۔ یہ اسکیم اپنے آغاز سے تین سال بعد خود بخود ختم ہو جائے گی اور اس میں کسی قسم کی توسیع کی اجازت نہیں ہوگی۔ مزید برآں، اگر دو مسلسل جائزوں میں ٹیرف میں اضافے کی ضرورت پیش آئی تو اسکیم فوری طور پر ختم کر دی جائے گی۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اصلاحات کے آئندہ مرحلے میں ڈسکوز کی ریکوری بہتر بنانے، نقصانات کم کرنے، اخراجات میں کمی کے ساختی اقدامات نافذ کرنے اور ڈسکوز و جنکوز میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کو ترجیح دی جائے۔ ساتھ ہی فنڈ نے مسابقتی تھوک بجلی مارکیٹ کے قیام میں پیش رفت، اور گیس کے شعبے میں آر ایل این جی کے سرپلس اور گردشی قرضے کے موجودہ ذخیرے سے نمٹنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کیپٹو پاور پروڈیوسرز (سی پی پیز) کو قومی گرڈ کی جانب منتقل کرنے کے لیے حکومتی ترغیبی اقدامات کے نتیجے میں صنعتی بجلی کی کھپت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو اپریل تا اگست 2025 کے دوران سالانہ بنیادوں پر 35 فیصد رہا۔ اس اضافے نے مجموعی بجلی کی طلب میں موجود وسیع تر کمزوریوں کے اثرات کو خاص حد تک زائل کیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280454</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Dec 2025 10:47:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/13104338bdfdd00.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/13104338bdfdd00.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
