<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 23:49:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 23:49:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے ڈی بی نے پاکستان میں سرکاری اداروں کی اصلاحات اور ساحلی علاقوں میں لچک بڑھانے کے لیے 540 ملین ڈالر کی فنانسنگ کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280451/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے جمعہ کو پاکستان میں سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی اصلاحات کو تیز کرنے اور سندھ کے ساحلی اضلاع میں آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے مجموعی طور پر 540 ملین ڈالر کے دو منصوبوں کی منظوری دے دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانسنگ میں 400 ملین ڈالر کا نتائج پر مبنی قرض ’ایکسیلیریٹنگ ایس او ای ٹرانسفارمیشن پروگرام فار پاکستان‘ کے لیے اور 140 ملین ڈالر کا رعایتی قرض ’سندھ کوسٹل ریزیلینس سیکٹر پروجیکٹ‘ کے لیے شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی نے اپنے بیان میں کہا کہ “ایس او ای اصلاحاتی پروگرام پاکستان کی جانب سے اپنے سرکاری اداروں میں کارپوریٹ گورننس اور تجارتی کارکردگی سے متعلق اہم چیلنجز سے نمٹنے کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے کہا، “پاکستان کے لیے ایس او ای اصلاحاتی پروگرام کا مقصد گورننس کو بہتر بنانا اور ملک کے کمرشل سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر کرنا ہے، جو پاکستان کی معاشی استحکام اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ “یہ پروگرام نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی تنظیمِ نو اور کمرشلائزیشن کو بھی ترجیح دے گا، جو پاکستان کے ایس او ای پورٹ فولیو میں سب سے بڑے اور پیچیدہ اداروں میں سے ایک ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کا یہ پروگرام عوامی شعبے میں انتظامی اصلاحات کے لیے مخصوص پہلا نتائج پر مبنی قرض ہے۔ بینک طویل عرصے سے پاکستان میں ایس او ای (سرکاری اداروں) کی اصلاحات میں سیکٹر سرمایہ کاری، پالیسی اقدامات اور تکنیکی معاونت کے ذریعے شراکت دار رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ “گزشتہ پانچ برسوں میں اے ڈی بی کی معاونت سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جن میں 2023 میں ایس او ای ایکٹ اور ایس او ای پالیسی کی منظوری، ایک مرکزی مانیٹرنگ یونٹ کا قیام، اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق پبلک سروس آبلیگیشن معاہدوں کا نفاذ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“نتائج پر مبنی طریقہ کار سے کارپوریٹ گورننس میں بہتری آئے گی اور ادارہ جاتی صلاحیت، ڈیجیٹلائزیشن، روڈ سیفٹی اور مالیاتی استحکام کے شعبوں میں پیش رفت میں مدد ملے گی۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی نے 7 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی تکمیلی تکنیکی معاونت کی گرانٹ بھی منظور کی ہے، جو اصلاحات کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے مہارت اور استعداد کار بڑھانے میں معاونت فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ “یہ تمام اقدامات ایک مقابلے کے قابل اور مضبوط عوامی شعبے کی تشکیل، نجی شعبے کی ترقی کے فروغ، اور پاکستان کی طویل المدتی اور جامع معاشی نمو میں کردار ادا کرنے کے لیے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ کوسٹل ریزیلینس سیکٹر پروجیکٹ کا مقصد بدین، سجاول اور ٹھٹہ کے کمزور اور نظر انداز شدہ ساحلی اضلاع میں آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق “یہ منصوبہ 5 لاکھ سے زائد افراد کی زندگیوں میں بہتری لانے، 1 لاکھ 50 ہزار ہیکٹر زرعی اراضی کے تحفظ، اور 22 ہزار ہیکٹر جنگلات کی بحالی میں مدد دے گا۔ یہ نتائج پاکستان کے نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان-IV، سندھ کلائمٹ چینج پالیسی اور اے ڈی بی کی اسٹریٹجی 2030 کی ماحولیاتی و لچکدار ترجیحات کے مطابق ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبہ گرین کلائمٹ فنڈ کے 2 کروڑ ڈالر کے گرانٹ اور 2 کروڑ ڈالر کے رعایتی قرض سے شریک مالی اعانت سے چلایا جا رہا ہے، جو کمیونٹی ریزیلینس پارٹنرشپ پروگرام انویسٹمنٹ فنڈ کے ذریعے فراہم کیا گیا ہے، جسے اے ڈی بی ہی چلاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کی ایما فین نے کہا کہ “سندھ کی ساحلی کمیونٹیاں شدید قدرتی خطرات، جیسے سیلاب، کھارے پانی کا درانداز ہونا اور پانی کی کمی،کا بڑھتا ہوا سامنا کر رہی ہیں۔ یہ منصوبہ روزگار کے ذرائع کا تحفظ کرے گا، غذائی تحفظ کو مضبوط بنائے گا، اور خواتین کو لچک داری کی منصوبہ بندی اور نفاذ میں مرکزی کردار دینے میں مدد کرے گا۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ سندھ آبپاشی محکمہ اور سندھ فاریسٹ و وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، جس میں لچکدار آبی وسائل کا بنیادی ڈھانچہ، قدرتی حل پر مبنی اقدامات اور بہتر ساحلی نظم و نسق کو شامل کیا جائے گا۔ اہم سرمایہ کاری میں نکاسی آب اور سیلاب سے تحفظ کے نظام کو اپ گریڈ کرنا، مینگرووز اور اندرونی جنگلات کی بحالی، اور مستقبل کی لچکدار سرمایہ کاری کے لیے مانیٹرنگ اور ماڈلنگ کی صلاحیت کو مضبوط بنانا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیونٹی پر مبنی لچکدار منصوبہ بندی مقامی سطح پر استوار اور جامع حل کو یقینی بنائے گی، جبکہ کم از کم 25 فیصد فنڈز خواتین کی قیادت میں یا ان کے ذریعے انجام دی جانے والی سرگرمیوں کے لیے مختص کیے جائیں گے۔ اے ڈی بی کے بیان کے مطابق، یہ منصوبہ انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ کی متوازی مالی معاونت کی تکمیل کرتا ہے، جو انہی اضلاع میں روزگار کے ذرائع کی ترقی میں مدد فراہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) ایشیا اور بحرالکاہل میں جامع، پائیدار اور لچکدار ترقی کے فروغ کے لیے سرگرم ایک نمایاں کثیرالجہتی ترقیاتی بینک ہے۔ اپنے ارکان اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے، اے ڈی بی جدید مالیاتی ذرائع اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کو بروئے کار لاتا ہے، تاکہ زندگیوں میں بہتری لائی جائے، معیاری بنیادی ڈھانچہ تعمیر ہو، اور کرۂ ارض کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ اے ڈی بی کی بنیاد 1966 میں رکھی گئی تھی اور اس کے 69 ارکان ہیں جن میں سے 50 کا تعلق ایشیائی خطے سے ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے جمعہ کو پاکستان میں سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی اصلاحات کو تیز کرنے اور سندھ کے ساحلی اضلاع میں آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے مجموعی طور پر 540 ملین ڈالر کے دو منصوبوں کی منظوری دے دی۔</strong></p>
<p>فنانسنگ میں 400 ملین ڈالر کا نتائج پر مبنی قرض ’ایکسیلیریٹنگ ایس او ای ٹرانسفارمیشن پروگرام فار پاکستان‘ کے لیے اور 140 ملین ڈالر کا رعایتی قرض ’سندھ کوسٹل ریزیلینس سیکٹر پروجیکٹ‘ کے لیے شامل ہے۔</p>
<p>اے ڈی بی نے اپنے بیان میں کہا کہ “ایس او ای اصلاحاتی پروگرام پاکستان کی جانب سے اپنے سرکاری اداروں میں کارپوریٹ گورننس اور تجارتی کارکردگی سے متعلق اہم چیلنجز سے نمٹنے کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔”</p>
<p>اے ڈی بی کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے کہا، “پاکستان کے لیے ایس او ای اصلاحاتی پروگرام کا مقصد گورننس کو بہتر بنانا اور ملک کے کمرشل سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر کرنا ہے، جو پاکستان کی معاشی استحکام اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔”</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ “یہ پروگرام نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی تنظیمِ نو اور کمرشلائزیشن کو بھی ترجیح دے گا، جو پاکستان کے ایس او ای پورٹ فولیو میں سب سے بڑے اور پیچیدہ اداروں میں سے ایک ہے۔”</p>
<p>ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کا یہ پروگرام عوامی شعبے میں انتظامی اصلاحات کے لیے مخصوص پہلا نتائج پر مبنی قرض ہے۔ بینک طویل عرصے سے پاکستان میں ایس او ای (سرکاری اداروں) کی اصلاحات میں سیکٹر سرمایہ کاری، پالیسی اقدامات اور تکنیکی معاونت کے ذریعے شراکت دار رہا ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ “گزشتہ پانچ برسوں میں اے ڈی بی کی معاونت سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جن میں 2023 میں ایس او ای ایکٹ اور ایس او ای پالیسی کی منظوری، ایک مرکزی مانیٹرنگ یونٹ کا قیام، اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق پبلک سروس آبلیگیشن معاہدوں کا نفاذ شامل ہیں۔</p>
<p>“نتائج پر مبنی طریقہ کار سے کارپوریٹ گورننس میں بہتری آئے گی اور ادارہ جاتی صلاحیت، ڈیجیٹلائزیشن، روڈ سیفٹی اور مالیاتی استحکام کے شعبوں میں پیش رفت میں مدد ملے گی۔”</p>
<p>اے ڈی بی نے 7 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی تکمیلی تکنیکی معاونت کی گرانٹ بھی منظور کی ہے، جو اصلاحات کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے مہارت اور استعداد کار بڑھانے میں معاونت فراہم کرے گی۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ “یہ تمام اقدامات ایک مقابلے کے قابل اور مضبوط عوامی شعبے کی تشکیل، نجی شعبے کی ترقی کے فروغ، اور پاکستان کی طویل المدتی اور جامع معاشی نمو میں کردار ادا کرنے کے لیے ہیں۔”</p>
<p>سندھ کوسٹل ریزیلینس سیکٹر پروجیکٹ کا مقصد بدین، سجاول اور ٹھٹہ کے کمزور اور نظر انداز شدہ ساحلی اضلاع میں آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق “یہ منصوبہ 5 لاکھ سے زائد افراد کی زندگیوں میں بہتری لانے، 1 لاکھ 50 ہزار ہیکٹر زرعی اراضی کے تحفظ، اور 22 ہزار ہیکٹر جنگلات کی بحالی میں مدد دے گا۔ یہ نتائج پاکستان کے نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان-IV، سندھ کلائمٹ چینج پالیسی اور اے ڈی بی کی اسٹریٹجی 2030 کی ماحولیاتی و لچکدار ترجیحات کے مطابق ہیں۔”</p>
<p>منصوبہ گرین کلائمٹ فنڈ کے 2 کروڑ ڈالر کے گرانٹ اور 2 کروڑ ڈالر کے رعایتی قرض سے شریک مالی اعانت سے چلایا جا رہا ہے، جو کمیونٹی ریزیلینس پارٹنرشپ پروگرام انویسٹمنٹ فنڈ کے ذریعے فراہم کیا گیا ہے، جسے اے ڈی بی ہی چلاتا ہے۔</p>
<p>اے ڈی بی کی ایما فین نے کہا کہ “سندھ کی ساحلی کمیونٹیاں شدید قدرتی خطرات، جیسے سیلاب، کھارے پانی کا درانداز ہونا اور پانی کی کمی،کا بڑھتا ہوا سامنا کر رہی ہیں۔ یہ منصوبہ روزگار کے ذرائع کا تحفظ کرے گا، غذائی تحفظ کو مضبوط بنائے گا، اور خواتین کو لچک داری کی منصوبہ بندی اور نفاذ میں مرکزی کردار دینے میں مدد کرے گا۔”</p>
<p>یہ منصوبہ سندھ آبپاشی محکمہ اور سندھ فاریسٹ و وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، جس میں لچکدار آبی وسائل کا بنیادی ڈھانچہ، قدرتی حل پر مبنی اقدامات اور بہتر ساحلی نظم و نسق کو شامل کیا جائے گا۔ اہم سرمایہ کاری میں نکاسی آب اور سیلاب سے تحفظ کے نظام کو اپ گریڈ کرنا، مینگرووز اور اندرونی جنگلات کی بحالی، اور مستقبل کی لچکدار سرمایہ کاری کے لیے مانیٹرنگ اور ماڈلنگ کی صلاحیت کو مضبوط بنانا شامل ہے۔</p>
<p>کمیونٹی پر مبنی لچکدار منصوبہ بندی مقامی سطح پر استوار اور جامع حل کو یقینی بنائے گی، جبکہ کم از کم 25 فیصد فنڈز خواتین کی قیادت میں یا ان کے ذریعے انجام دی جانے والی سرگرمیوں کے لیے مختص کیے جائیں گے۔ اے ڈی بی کے بیان کے مطابق، یہ منصوبہ انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ کی متوازی مالی معاونت کی تکمیل کرتا ہے، جو انہی اضلاع میں روزگار کے ذرائع کی ترقی میں مدد فراہم کر رہا ہے۔</p>
<p>ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) ایشیا اور بحرالکاہل میں جامع، پائیدار اور لچکدار ترقی کے فروغ کے لیے سرگرم ایک نمایاں کثیرالجہتی ترقیاتی بینک ہے۔ اپنے ارکان اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے، اے ڈی بی جدید مالیاتی ذرائع اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کو بروئے کار لاتا ہے، تاکہ زندگیوں میں بہتری لائی جائے، معیاری بنیادی ڈھانچہ تعمیر ہو، اور کرۂ ارض کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ اے ڈی بی کی بنیاد 1966 میں رکھی گئی تھی اور اس کے 69 ارکان ہیں جن میں سے 50 کا تعلق ایشیائی خطے سے ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280451</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Dec 2025 22:17:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/122203349e4f5b5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/122203349e4f5b5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
