<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:46:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:46:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خودمختار اثاثوں کیلئے بلاک چین بنیاد پر جدت کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے پاکستان کا بائنانس کے ساتھ معاہدہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280449/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی کیپٹل مارکیٹوں کو مضبوط بنانے اور عالمی سرمایہ کاروں کی رسائی بہتر کرنے کے لیے وزارتِ خزانہ نے دنیا کی معروف بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثہ جاتی کمپنی بائنانس انویسٹمنٹ کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل حکومت نے کرپٹو ایکسچینج بائنانس کے اعلیٰ سطح وفد کے ساتھ اسلام آباد میں ملاقات کے دوران ڈیجیٹل اثاثہ جات کی ریگولیشن کے لیے اپنی دلچسپی اور عزم کا اظہار کیا تھا۔ ملاقات میں بائنانس کے عالمی سی ای او رچرڈ ٹینگ بھی شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کی پریس ریلیز کے مطابق اجلاس میں وزیرِاعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) اور چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم او یو پر اسلام آباد میں وزارتِ خزانہ میں دستخط وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب اور بائنانس کے شریک سی ای او رچرڈ ٹینگ نے کیے، جب کہ بائنانس کے سی ای او چانگ پینگ ژاؤ (سی زیڈ) بھی اس موقع پر شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ایم او یو کے تحت پاکستان کے حقیقی اور خودمختار اثاثوں، جن میں حکومتی بانڈز، ٹریژری بلز، کموڈٹی ذخائر اور دیگر وفاقی ملکیتی اثاثے شامل ہو سکتے ہیں کو ٹوکنائزیشن اور بلاک چین کے ذریعے تقسیم کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کا فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قوانین، پالیسیوں اور ریگولیٹری منظوریوں سے مشروط اس منصوبے کے تحت دو ارب ڈالر تک کے اثاثے شامل کیے جا سکتے ہیں، جس کا مقصد مارکیٹ میں لیکویڈیٹی، شفافیت اور عالمی رسائی کو بڑھانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ انتظام کے تحت بائنانس اور اس کی ملحقہ کمپنیاں پاکستان کو جدید اور مطابقت پذیر بلاک چین انفرا اسٹرکچر کے جائزے کے لیے تکنیکی مہارت، مشاورتی تعاون، تربیت اور استعداد کار میں اضافہ فراہم کر سکتی ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کرانے کا جائزہ لینا ہے جو عالمی سرمایہ کاروں کی وسیع تر شمولیت ممکن بنا سکیں، جبکہ پاکستان کے ضابطہ جاتی فریم ورک اور خودمختاری کا مکمل احترام کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایم او یو پاکستان کی اصلاحاتی سمت کا ایک مضبوط اشارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف پاکستان نہیں، بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بہت اہم پیغام ہے، جو ہم نے آج دستخط کیے ہیں کہ وہ طویل المدتی شراکت داری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ جہاں سے ہم نے سفر شروع کیا تھا، وہاں سے عملی مرحلے تک پہنچنا قیادت اور رہنمائی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اب اگلا مرحلہ عملدرآمد کا ہے اور ہم تیزی اور معیار کے ساتھ نتائج دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے ملکی اعلیٰ قیادت کے وژن اور سپورٹ کا خصوصی ذکر بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بائنانس کے سربراہ ژاؤ نے ایم او یو کو پاکستان کے مستقبل کے لیے سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا یہ عالمی بلاک چین انڈسٹری اور پاکستان دونوں کے لیے ایک بڑا اشارہ ہے۔ اس کا ملک کے مستقبل اور ٹیکنالوجی سے جڑی نئی نسل پر بہت گہرا اثر پڑے گا۔ یہ آغاز ہے ، اب ہم مکمل نفاذ اور عملدرآمد کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان کی قیادت کے ساتھ کام کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور پُراعتماد ہیں کہ یہ شراکت داری معیشت کے لیے مثبت اور دیرپا نتائج دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے کہا کہ یہ ایم او یو غیر پابند ہے اور دونوں فریقین کے درمیان صرف ارادے کے اظہار کی حیثیت رکھتا ہے۔ حتمی معاہدے، اگر کیے گئے تو چھ ماہ کے اندر طے پائیں گے اور ان کا انحصار تمام قانونی، ضابطہ جاتی اور پالیسی کی منظوریوں پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی مستقبل کا انتظام پاکستان کے قوانین کے تحت ہوگا اور نہ ہی اس کے ذریعے کسی قسم کی خصوصی حیثیت یا خریداری کا وعدہ شامل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے مزید کہا کہ یہ شراکت داری پاکستان کے ذمہ دارانہ مالیاتی جدت، مضبوط گورننس اور تعمیل کے عزم کو اجاگر کرتی ہے اور ملک کے مالیاتی نظام کو عالمی بہترین طریقوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی کیپٹل مارکیٹوں کو مضبوط بنانے اور عالمی سرمایہ کاروں کی رسائی بہتر کرنے کے لیے وزارتِ خزانہ نے دنیا کی معروف بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثہ جاتی کمپنی بائنانس انویسٹمنٹ کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل حکومت نے کرپٹو ایکسچینج بائنانس کے اعلیٰ سطح وفد کے ساتھ اسلام آباد میں ملاقات کے دوران ڈیجیٹل اثاثہ جات کی ریگولیشن کے لیے اپنی دلچسپی اور عزم کا اظہار کیا تھا۔ ملاقات میں بائنانس کے عالمی سی ای او رچرڈ ٹینگ بھی شریک تھے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کی پریس ریلیز کے مطابق اجلاس میں وزیرِاعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) اور چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب بھی موجود تھے۔</p>
<p>ایم او یو پر اسلام آباد میں وزارتِ خزانہ میں دستخط وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب اور بائنانس کے شریک سی ای او رچرڈ ٹینگ نے کیے، جب کہ بائنانس کے سی ای او چانگ پینگ ژاؤ (سی زیڈ) بھی اس موقع پر شریک تھے۔</p>
<p>اس ایم او یو کے تحت پاکستان کے حقیقی اور خودمختار اثاثوں، جن میں حکومتی بانڈز، ٹریژری بلز، کموڈٹی ذخائر اور دیگر وفاقی ملکیتی اثاثے شامل ہو سکتے ہیں کو ٹوکنائزیشن اور بلاک چین کے ذریعے تقسیم کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کا فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔</p>
<p>قوانین، پالیسیوں اور ریگولیٹری منظوریوں سے مشروط اس منصوبے کے تحت دو ارب ڈالر تک کے اثاثے شامل کیے جا سکتے ہیں، جس کا مقصد مارکیٹ میں لیکویڈیٹی، شفافیت اور عالمی رسائی کو بڑھانا ہے۔</p>
<p>مجوزہ انتظام کے تحت بائنانس اور اس کی ملحقہ کمپنیاں پاکستان کو جدید اور مطابقت پذیر بلاک چین انفرا اسٹرکچر کے جائزے کے لیے تکنیکی مہارت، مشاورتی تعاون، تربیت اور استعداد کار میں اضافہ فراہم کر سکتی ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کرانے کا جائزہ لینا ہے جو عالمی سرمایہ کاروں کی وسیع تر شمولیت ممکن بنا سکیں، جبکہ پاکستان کے ضابطہ جاتی فریم ورک اور خودمختاری کا مکمل احترام کیا جائے۔</p>
<p>اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایم او یو پاکستان کی اصلاحاتی سمت کا ایک مضبوط اشارہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف پاکستان نہیں، بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بہت اہم پیغام ہے، جو ہم نے آج دستخط کیے ہیں کہ وہ طویل المدتی شراکت داری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ جہاں سے ہم نے سفر شروع کیا تھا، وہاں سے عملی مرحلے تک پہنچنا قیادت اور رہنمائی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اب اگلا مرحلہ عملدرآمد کا ہے اور ہم تیزی اور معیار کے ساتھ نتائج دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے ملکی اعلیٰ قیادت کے وژن اور سپورٹ کا خصوصی ذکر بھی کیا۔</p>
<p>بائنانس کے سربراہ ژاؤ نے ایم او یو کو پاکستان کے مستقبل کے لیے سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا یہ عالمی بلاک چین انڈسٹری اور پاکستان دونوں کے لیے ایک بڑا اشارہ ہے۔ اس کا ملک کے مستقبل اور ٹیکنالوجی سے جڑی نئی نسل پر بہت گہرا اثر پڑے گا۔ یہ آغاز ہے ، اب ہم مکمل نفاذ اور عملدرآمد کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان کی قیادت کے ساتھ کام کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور پُراعتماد ہیں کہ یہ شراکت داری معیشت کے لیے مثبت اور دیرپا نتائج دے گی۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ نے کہا کہ یہ ایم او یو غیر پابند ہے اور دونوں فریقین کے درمیان صرف ارادے کے اظہار کی حیثیت رکھتا ہے۔ حتمی معاہدے، اگر کیے گئے تو چھ ماہ کے اندر طے پائیں گے اور ان کا انحصار تمام قانونی، ضابطہ جاتی اور پالیسی کی منظوریوں پر ہوگا۔</p>
<p>کوئی بھی مستقبل کا انتظام پاکستان کے قوانین کے تحت ہوگا اور نہ ہی اس کے ذریعے کسی قسم کی خصوصی حیثیت یا خریداری کا وعدہ شامل ہوگا۔</p>
<p>وزارت نے مزید کہا کہ یہ شراکت داری پاکستان کے ذمہ دارانہ مالیاتی جدت، مضبوط گورننس اور تعمیل کے عزم کو اجاگر کرتی ہے اور ملک کے مالیاتی نظام کو عالمی بہترین طریقوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280449</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Dec 2025 11:45:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/12181727b4319a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/12181727b4319a0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
