<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 19:58:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 19:58:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا کی جانب سے وینزویلا کے تیل بردار جہازوں کے خلاف مزید کارروائیوں کی تیاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280438/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا نے اس ہفتے ایک وینزویلا کا تیل بردار ٹینکر ضبط کرنے کے بعد مزید ایسے جہازوں کو روکنے کی تیاری شروع کر دی ہے جو وینزویلا کا تیل لے کر جا رہے ہیں۔ اس اقدام کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ 2019 سے امریکی پابندیوں کے تحت یہ اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی تھی، جو جنوبی کیریبین میں جاری امریکی فوجی تعیناتی کے دوران سامنے آئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترسیل اور شپنگ سے وابستہ ذرائع کے مطابق اس نئی پیش رفت نے جہاز مالکان، آپریٹرز اور ان کمپنیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے جو وینزویلا کا خام تیل لے کر جاتی ہیں۔ کئی مالکان اب یہ سوچ رہے ہیں کہ آیا وہ اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق وینزویلا کی بندرگاہوں سے روانہ ہوں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا آئندہ ہفتوں میں مزید مداخلتوں پر غور کر رہا ہے، خاص طور پر ان جہازوں کے خلاف جو وینزویلا کے علاوہ ایران جیسے پابندی زدہ ممالک کا تیل بھی لے کر چلے ہیں۔ وینزویلا کی سرکاری کمپنی پی ڈی وی ایس اے نے اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا، جبکہ حکومت نے ضبط کرنے کی کارروائی کو چوری قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ مستقبل کی کارروائیوں پر بات نہیں کی جا سکتی لیکن صدر ٹرمپ کے پابندیوں سے متعلق فیصلے پر سختی سے عمل جاری رہے گا۔ ان کے مطابق امریکا غیر قانونی تیل لے جانے والے جہازوں کو سمندروں میں آزادانہ نہیں چھوڑ سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمۂ خزانہ نے چھ سپر ٹینکرز پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جنہوں نے حال ہی میں وینزویلا سے خام تیل بھرا تھا، جبکہ چار وینزویلا شہریوں پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مزید ضبطیاں مادورو حکومت کے مالی ذرائع کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکیپر نامی ٹینکر کی ضبطی کے بعد کم از کم ایک بڑی شپنگ کمپنی نے اپنی 3 نئی لوڈ کی گئی کھیپوں کو معطل کر دیا ہے جو تقریباً 6 ملین بیرل تیل پر مشتمل تھیں۔ امریکا کی جانب سے سمندری نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے اور ٹینکروں کو بین الاقوامی پانیوں میں داخل ہوتے ہی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا نے اس عمل کو بین الاقوامی قزاقی قرار دیا ہے، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق یہ اصطلاح قانونی تعریف میں نہیں آتی کیونکہ ضبطی کسی غیر ریاستی گروہ نے نہیں بلکہ ایک ریاست نے باضابطہ حکومتی منظوری کے ساتھ کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا نے اس ہفتے ایک وینزویلا کا تیل بردار ٹینکر ضبط کرنے کے بعد مزید ایسے جہازوں کو روکنے کی تیاری شروع کر دی ہے جو وینزویلا کا تیل لے کر جا رہے ہیں۔ اس اقدام کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ 2019 سے امریکی پابندیوں کے تحت یہ اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی تھی، جو جنوبی کیریبین میں جاری امریکی فوجی تعیناتی کے دوران سامنے آئی۔</strong></p>
<p>ترسیل اور شپنگ سے وابستہ ذرائع کے مطابق اس نئی پیش رفت نے جہاز مالکان، آپریٹرز اور ان کمپنیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے جو وینزویلا کا خام تیل لے کر جاتی ہیں۔ کئی مالکان اب یہ سوچ رہے ہیں کہ آیا وہ اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق وینزویلا کی بندرگاہوں سے روانہ ہوں یا نہیں۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا آئندہ ہفتوں میں مزید مداخلتوں پر غور کر رہا ہے، خاص طور پر ان جہازوں کے خلاف جو وینزویلا کے علاوہ ایران جیسے پابندی زدہ ممالک کا تیل بھی لے کر چلے ہیں۔ وینزویلا کی سرکاری کمپنی پی ڈی وی ایس اے نے اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا، جبکہ حکومت نے ضبط کرنے کی کارروائی کو چوری قرار دیا ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ مستقبل کی کارروائیوں پر بات نہیں کی جا سکتی لیکن صدر ٹرمپ کے پابندیوں سے متعلق فیصلے پر سختی سے عمل جاری رہے گا۔ ان کے مطابق امریکا غیر قانونی تیل لے جانے والے جہازوں کو سمندروں میں آزادانہ نہیں چھوڑ سکتا۔</p>
<p>امریکی محکمۂ خزانہ نے چھ سپر ٹینکرز پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جنہوں نے حال ہی میں وینزویلا سے خام تیل بھرا تھا، جبکہ چار وینزویلا شہریوں پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مزید ضبطیاں مادورو حکومت کے مالی ذرائع کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔</p>
<p>اسکیپر نامی ٹینکر کی ضبطی کے بعد کم از کم ایک بڑی شپنگ کمپنی نے اپنی 3 نئی لوڈ کی گئی کھیپوں کو معطل کر دیا ہے جو تقریباً 6 ملین بیرل تیل پر مشتمل تھیں۔ امریکا کی جانب سے سمندری نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے اور ٹینکروں کو بین الاقوامی پانیوں میں داخل ہوتے ہی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>وینزویلا نے اس عمل کو بین الاقوامی قزاقی قرار دیا ہے، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق یہ اصطلاح قانونی تعریف میں نہیں آتی کیونکہ ضبطی کسی غیر ریاستی گروہ نے نہیں بلکہ ایک ریاست نے باضابطہ حکومتی منظوری کے ساتھ کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280438</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Dec 2025 14:15:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/121414208ffc45e.webp" type="image/webp" medium="image" height="624" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/121414208ffc45e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
