<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ میں خریداری کا رجحان غالب، 100 انڈیکس میں تقریباً 1,300 پوائنٹس کا اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280420/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو سرمایہ کاروں کا رجحان مثبت رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتے کے اختتام پر تقریباً 1,300 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری سیشن کے دوران خریداری کا دباؤ برقرار رہا، جس سے کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کے دوران بلند ترین سطح 170,052.87 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100انڈیکس 169,864.52 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 1,289.83 پوائنٹس یا 0.77 فیصد کے اضافے کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی بعد از مارکیٹ رپورٹ کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت شراکت ایف ایف سی، ایم سی بی، ایس وائی ایس، ایم ایل سی ایف، پی پی ایل، ایفرٹ اور حبکو کی رہی جن کی مشترکہ شراکت سے کے ایس ای 100 انڈیکس میں 962 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جمعرات کو سرمایہ کار منافع نکالنے اور مارکیٹ کی سمت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے سبب محتاط کاروبار میں مشغول رہے جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 877.17 پوائنٹس یا 0.52 فیصد کی کمی سے 168,574.69 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر 1.66 فیصد بڑھ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکورٹیز کے مطابق ”اس اضافے کی وجہ یہ خبر ہے کہ پیر کو آئی ایم ایف بورڈ نے 1.3 ارب ڈالر کا قرضہ منظور کیا ہے، جس کے لیے چند بنیادی شرائط میں رعایت دی گئی اور پاور سیکٹر کے تاریخی 659.6 ارب روپے کے قرض کی ادائیگی کا معاہدہ طے پایا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے پاکستان پر 11 نئے اسٹرکچرل بینچ مارکس عائد کر دیے ہیں جن میں 3 سے 5 سال پر مشتمل جامع ٹیکس اصلاحاتی حکمتِ عملی تیار کرنا اور اسے شائع کرنا، وفاقی سطح کے اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرنا اور نشاندہی شدہ محکموں میں کرپشن کے خدشات کم کرنے کے لیے ایک مؤثر ایکشن پلان تیار کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء پاکستان کے مرکزی بینک سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ پیر کو شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھے گا، کیونکہ تجزیہ کاروں نے شرح سود میں کمی کی پیش گوئیاں اب 2026 کے آخر تک موخر کر دی ہیں، جب کہ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ مہنگائی کے خطرات برقرار ہیں اور پالیسی کو مناسب حد تک سخت رکھنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعہ کو ایشیائی اسٹاکس ابتدائی کاروبار میں بڑھ گئے جو وال اسٹریٹ میں گزشتہ رات کی مضبوط کارکردگی کی بدولت ممکن ہوا، تاہم اوریکل کے حصص کی تازہ کمی نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں بے چینی پیدا کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی مارکیٹوں کو اس ہفتے تیزی سے خود کو مستحکم کرنا پڑا جب فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں کمی کی، مگر متوقع سے کم سخت رویہ اختیار کیا اور مصنوعی ذہانت کے ببل کے دوبارہ ابھرنے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کے لیے دباؤ میں اضافہ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کا ایشیا-پیسیفک شیئرز کا سب سے وسیع انڈیکس (جاپان کے علاوہ) 0.7 فیصد بڑھ گیا، ڈاؤ اور رسل 2000 انڈیکسز نئے ریکارڈ قائم کر گئے، لیکن نیسڈیک میں کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوکیو کا نِکی 225 انڈیکس صبح کے کاروبار میں خطے کی دیگر مارکیٹس سے بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے 1 فیصد بڑھ گیا، جس کی وجہ سافٹ بینک گروپ کے حصص میں 6 فیصد اضافہ تھا، کیونکہ بلومبرگ نیوز نے رپورٹ دی کہ کمپنی امریکی ڈیٹا سینٹر کمپنی کو خریدنے پر غور کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جبکہ نیسڈیک فیوچرز 0.2 فیصد گر گئے، کیونکہ اوریکل کے حصص 13 فیصد گرنے کے بعد مارکیٹس میں بے چینی پھیل گئی اور ٹیکنالوجی شعبے میں فروخت کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ کمپنی کے بڑے اخراجات اور کمزور اندازوں نے سرمایہ کاروں میں مصنوعی ذہانت پر بڑے داؤ کی تیزی سے واپسی کے حوالے سے شبہات پیدا کر دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں جمعے کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ معمولی بہتری کے ساتھ 0.01 فیصد مضبوط ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.32 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں چار پیسے کا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس پر حجم 1,288.97 ملین سے کم ہو کر 873.03 ملین ہو گیا۔ شیئرز کی کل مالیت پچھلے سیشن کے 55.23 ارب روپے کے مقابلے میں 40.87 ارب روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حجم کے لحاظ سے ہَم نیٹ ورک آگے رہا جس کے 71.84 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد دوست اسٹیلز لمیٹڈ کے 46.97 ملین شیئرز اور ورلڈ کال ٹیلی کوم کے 40.81 ملین شیئرز رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو 482 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 259 میں اضافہ، 180 میں کمی اور 43 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/121948592821577.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/121948592821577.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو سرمایہ کاروں کا رجحان مثبت رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتے کے اختتام پر تقریباً 1,300 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔</strong></p>
<p>کاروباری سیشن کے دوران خریداری کا دباؤ برقرار رہا، جس سے کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کے دوران بلند ترین سطح 170,052.87 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100انڈیکس 169,864.52 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 1,289.83 پوائنٹس یا 0.77 فیصد کے اضافے کے مترادف ہے۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی بعد از مارکیٹ رپورٹ کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت شراکت ایف ایف سی، ایم سی بی، ایس وائی ایس، ایم ایل سی ایف، پی پی ایل، ایفرٹ اور حبکو کی رہی جن کی مشترکہ شراکت سے کے ایس ای 100 انڈیکس میں 962 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>یاد رہے کہ جمعرات کو سرمایہ کار منافع نکالنے اور مارکیٹ کی سمت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے سبب محتاط کاروبار میں مشغول رہے جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 877.17 پوائنٹس یا 0.52 فیصد کی کمی سے 168,574.69 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر 1.66 فیصد بڑھ گیا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکورٹیز کے مطابق ”اس اضافے کی وجہ یہ خبر ہے کہ پیر کو آئی ایم ایف بورڈ نے 1.3 ارب ڈالر کا قرضہ منظور کیا ہے، جس کے لیے چند بنیادی شرائط میں رعایت دی گئی اور پاور سیکٹر کے تاریخی 659.6 ارب روپے کے قرض کی ادائیگی کا معاہدہ طے پایا ہے۔“</p>
<p>آئی ایم ایف نے پاکستان پر 11 نئے اسٹرکچرل بینچ مارکس عائد کر دیے ہیں جن میں 3 سے 5 سال پر مشتمل جامع ٹیکس اصلاحاتی حکمتِ عملی تیار کرنا اور اسے شائع کرنا، وفاقی سطح کے اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرنا اور نشاندہی شدہ محکموں میں کرپشن کے خدشات کم کرنے کے لیے ایک مؤثر ایکشن پلان تیار کرنا شامل ہے۔</p>
<p>دریں اثناء پاکستان کے مرکزی بینک سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ پیر کو شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھے گا، کیونکہ تجزیہ کاروں نے شرح سود میں کمی کی پیش گوئیاں اب 2026 کے آخر تک موخر کر دی ہیں، جب کہ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ مہنگائی کے خطرات برقرار ہیں اور پالیسی کو مناسب حد تک سخت رکھنا ضروری ہے۔</p>
<p>عالمی سطح پر جمعہ کو ایشیائی اسٹاکس ابتدائی کاروبار میں بڑھ گئے جو وال اسٹریٹ میں گزشتہ رات کی مضبوط کارکردگی کی بدولت ممکن ہوا، تاہم اوریکل کے حصص کی تازہ کمی نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں بے چینی پیدا کردی۔</p>
<p>مالیاتی مارکیٹوں کو اس ہفتے تیزی سے خود کو مستحکم کرنا پڑا جب فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں کمی کی، مگر متوقع سے کم سخت رویہ اختیار کیا اور مصنوعی ذہانت کے ببل کے دوبارہ ابھرنے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کے لیے دباؤ میں اضافہ کر دیا۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کا ایشیا-پیسیفک شیئرز کا سب سے وسیع انڈیکس (جاپان کے علاوہ) 0.7 فیصد بڑھ گیا، ڈاؤ اور رسل 2000 انڈیکسز نئے ریکارڈ قائم کر گئے، لیکن نیسڈیک میں کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>ٹوکیو کا نِکی 225 انڈیکس صبح کے کاروبار میں خطے کی دیگر مارکیٹس سے بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے 1 فیصد بڑھ گیا، جس کی وجہ سافٹ بینک گروپ کے حصص میں 6 فیصد اضافہ تھا، کیونکہ بلومبرگ نیوز نے رپورٹ دی کہ کمپنی امریکی ڈیٹا سینٹر کمپنی کو خریدنے پر غور کر رہی ہے۔</p>
<p>ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جبکہ نیسڈیک فیوچرز 0.2 فیصد گر گئے، کیونکہ اوریکل کے حصص 13 فیصد گرنے کے بعد مارکیٹس میں بے چینی پھیل گئی اور ٹیکنالوجی شعبے میں فروخت کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ کمپنی کے بڑے اخراجات اور کمزور اندازوں نے سرمایہ کاروں میں مصنوعی ذہانت پر بڑے داؤ کی تیزی سے واپسی کے حوالے سے شبہات پیدا کر دیے۔</p>
<p>دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں جمعے کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ معمولی بہتری کے ساتھ 0.01 فیصد مضبوط ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.32 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں چار پیسے کا اضافہ ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس پر حجم 1,288.97 ملین سے کم ہو کر 873.03 ملین ہو گیا۔ شیئرز کی کل مالیت پچھلے سیشن کے 55.23 ارب روپے کے مقابلے میں 40.87 ارب روپے رہی۔</p>
<p>حجم کے لحاظ سے ہَم نیٹ ورک آگے رہا جس کے 71.84 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد دوست اسٹیلز لمیٹڈ کے 46.97 ملین شیئرز اور ورلڈ کال ٹیلی کوم کے 40.81 ملین شیئرز رہے۔</p>
<p>جمعہ کو 482 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 259 میں اضافہ، 180 میں کمی اور 43 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/121948592821577.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/121948592821577.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280420</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Dec 2025 21:00:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/121105514507388.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/121105514507388.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
