<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 02:56:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 02:56:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وینزویلا کی سپلائی پر خدشات برقرار، خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280415/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مارکیٹ میں جمعہ کو  تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی بنیادی وجہ وینزویلا کی سپلائی میں ممکنہ خلل کے خدشات ہیں، تاہم ہفتہ وار طور پر قیمتیں کم ہونے کے راستے پر ہیں کیونکہ مارکیٹ میں احتیاطی رویہ اور روس-یوکرین امن مذاکرات کی امید موجود ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کرُڈ فیوچرز 43 سینٹ یا 0.70 فیصد بڑھ کر 61.71 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کرُڈ( ڈبلیو ٹی آئی) 58.03 ڈالر فی بیرل پر تھی، جو 43 سینٹ یا 0.75 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام اس ہفتے ایک ٹینکر ضبط کرنے کے بعد وینزویلا سے تیل لے جانے والے مزید جہازوں کو روکنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کا مقصد صدر نیکولس میڈورو پر دباؤ ڈالنا ہے۔ اس سے سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نسان سیکیورٹیز کے چیف اسٹریٹیجسٹ ہیرویوکی کیکوکاوا نے کہا کہ روس-یوکرین امن معاہدے کی امید کے باوجود خریداری کی سرگرمیاں اس وقت بڑھی جب امریکی حکام نے وینزویلا کا ٹینکر ضبط کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر واقعی معاہدہ طے ہو جائے تو ڈبلیو ٹی آئی قیمت 55 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہفتے دونوں کرُڈ کنٹریکٹس 3 فیصد سے زائد گر چکی ہیں، جو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔ این زیڈ ریسرچ کے مطابق اس کی وجہ خطرات سے بچنے کا رویہ اور کمزور مارکیٹ کی توقعات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کی مقدار طلب سے 3.84 ملین بیرل فی دن زیادہ ہوگی، جبکہ اوپیک کے مطابق 2026 میں سپلائی اور طلب قریب قریب مساوی ہوں گے، جو آئی ای اے کے اندازوں سے مختلف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین کی سیکیورٹی سروس کے ایک عہدے دار کے مطابق یوکرینی ڈرونز نے پہلی بار کیسپیئن سی میں ایک تیل کی پلیٹ فارم پر حملہ کیا، جس سے لوکائیل کے زیر ملکیت اس سہولت کی پیداوار رک گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مارکیٹ میں جمعہ کو  تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی بنیادی وجہ وینزویلا کی سپلائی میں ممکنہ خلل کے خدشات ہیں، تاہم ہفتہ وار طور پر قیمتیں کم ہونے کے راستے پر ہیں کیونکہ مارکیٹ میں احتیاطی رویہ اور روس-یوکرین امن مذاکرات کی امید موجود ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ کرُڈ فیوچرز 43 سینٹ یا 0.70 فیصد بڑھ کر 61.71 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کرُڈ( ڈبلیو ٹی آئی) 58.03 ڈالر فی بیرل پر تھی، جو 43 سینٹ یا 0.75 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>امریکی حکام اس ہفتے ایک ٹینکر ضبط کرنے کے بعد وینزویلا سے تیل لے جانے والے مزید جہازوں کو روکنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کا مقصد صدر نیکولس میڈورو پر دباؤ ڈالنا ہے۔ اس سے سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>نسان سیکیورٹیز کے چیف اسٹریٹیجسٹ ہیرویوکی کیکوکاوا نے کہا کہ روس-یوکرین امن معاہدے کی امید کے باوجود خریداری کی سرگرمیاں اس وقت بڑھی جب امریکی حکام نے وینزویلا کا ٹینکر ضبط کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر واقعی معاہدہ طے ہو جائے تو ڈبلیو ٹی آئی قیمت 55 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔</p>
<p>اس ہفتے دونوں کرُڈ کنٹریکٹس 3 فیصد سے زائد گر چکی ہیں، جو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔ این زیڈ ریسرچ کے مطابق اس کی وجہ خطرات سے بچنے کا رویہ اور کمزور مارکیٹ کی توقعات ہیں۔</p>
<p>عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کی مقدار طلب سے 3.84 ملین بیرل فی دن زیادہ ہوگی، جبکہ اوپیک کے مطابق 2026 میں سپلائی اور طلب قریب قریب مساوی ہوں گے، جو آئی ای اے کے اندازوں سے مختلف ہے۔</p>
<p>یوکرین کی سیکیورٹی سروس کے ایک عہدے دار کے مطابق یوکرینی ڈرونز نے پہلی بار کیسپیئن سی میں ایک تیل کی پلیٹ فارم پر حملہ کیا، جس سے لوکائیل کے زیر ملکیت اس سہولت کی پیداوار رک گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280415</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Dec 2025 09:57:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/120956507437b55.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/120956507437b55.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
