<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:37:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:37:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دہشتگردی کی روک تھام، پاکستان نے افغانستان سے تحریری یقین دہانی مانگ لی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280401/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے افغان علما کی اس قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے جس میں افغان سرزمین کو سرحد پار حملوں کے لیے استعمال کرنے کی مخالفت کی گئی ہے، تاہم کہا گیا کہ ماضی میں بھی ایسے وعدے کیے گئے تھے لیکن عبوری طالبان انتظامیہ نے ان پر عمل نہیں کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں اس قرارداد کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔ رپورٹوں کے مطابق یہ بیان کابل یونیورسٹی میں منعقدہ ایک اجلاس کے بعد سامنے آیا، جہاں شرکا نے زور دیا کہ افغانستان کو کسی دوسرے ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کو دہشتگردی کی روک تھام کیلئے کابل کی جانب سے باضابطہ تحریری ضمانتیں درکار ہیں ، تاکہ افغان سرزمین سے سرگرم گروہوں کے حملوں پر مؤثر طور پر قابو پایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد مکمل تحریری یقین دہانی کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طاہر اندرابی نے ایک بار پھر کہا کہ پاکستان کو شدت پسند حملوں میں اضافے پر تشویش ہے، جنہیں اسلام آباد افغان شہریوں کی جانب سے انجام دیا گیا قرار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کی فلاح کا خواہاں ہے اور ضرورت پڑنے پر انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے تعلقات اکتوبر میں اس وقت کشیدگی کا شکار ہوئے جب ایک ہفتے تک جاری رہنے والی سرحدی جھڑپ کی وجہ وہ حملہ تھا جسے پاکستان نے طالبان فورسز اور منسلک جنگجوؤں کی جانب سے بلاجواز جارحیت قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اس کے جواب میں جوابی اور ٹارگٹڈکارروائیاں کیں، جن میں حکام کے مطابق 200 سے زائد طالبان جنگجو ہلاک ہوئے، جبکہ 23 پاکستانی فوجی بھی شہید ہوئے۔ فائر بندی کے بعد سے صورتحال پُرسکون ہے، تاہم آئندہ حملوں کی روک تھام کے لیے دونوں ممالک ابھی تک کسی نظام پر اتفاق نہیں کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں طاہر اندرابی نے تصدیق کی کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان باضابطہ حوالگیِ مجرمین کا معاہدہ موجود نہیں ہے۔ یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب سابق وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر اور ریٹائرڈ میجر عادل راجہ کی واپسی کے حوالے سے کوششیں جاری ہیں، جو مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے مزید کہا کہ حوالگی کی درخواستیں اب بھی انفرادی بنیاد پر نمٹائی جا سکتی ہیں۔ رواں ماہ کے آغاز میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کو کیس فائلز فراہم کرتے ہوئے تعاون میں تیزی لانے کی درخواست کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہزاد اکبر جو سابق وزیراعظم عمران خان کے احتساب سے متعلق مشیر تھے 2022 سے لندن میں مقیم ہیں، جبکہ عادل راجہ جن پر ریاست مخالف سرگرمیوں کا الزام ہے اور جو 2023 میں پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت سزا یافتہ قرار دیے جا چکے ہیں بھی برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے افغان علما کی اس قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے جس میں افغان سرزمین کو سرحد پار حملوں کے لیے استعمال کرنے کی مخالفت کی گئی ہے، تاہم کہا گیا کہ ماضی میں بھی ایسے وعدے کیے گئے تھے لیکن عبوری طالبان انتظامیہ نے ان پر عمل نہیں کیا۔</strong></p>
<p>ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں اس قرارداد کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔ رپورٹوں کے مطابق یہ بیان کابل یونیورسٹی میں منعقدہ ایک اجلاس کے بعد سامنے آیا، جہاں شرکا نے زور دیا کہ افغانستان کو کسی دوسرے ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کو دہشتگردی کی روک تھام کیلئے کابل کی جانب سے باضابطہ تحریری ضمانتیں درکار ہیں ، تاکہ افغان سرزمین سے سرگرم گروہوں کے حملوں پر مؤثر طور پر قابو پایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد مکمل تحریری یقین دہانی کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔</p>
<p>طاہر اندرابی نے ایک بار پھر کہا کہ پاکستان کو شدت پسند حملوں میں اضافے پر تشویش ہے، جنہیں اسلام آباد افغان شہریوں کی جانب سے انجام دیا گیا قرار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کی فلاح کا خواہاں ہے اور ضرورت پڑنے پر انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>دونوں ممالک کے تعلقات اکتوبر میں اس وقت کشیدگی کا شکار ہوئے جب ایک ہفتے تک جاری رہنے والی سرحدی جھڑپ کی وجہ وہ حملہ تھا جسے پاکستان نے طالبان فورسز اور منسلک جنگجوؤں کی جانب سے بلاجواز جارحیت قرار دیا۔</p>
<p>پاکستان نے اس کے جواب میں جوابی اور ٹارگٹڈکارروائیاں کیں، جن میں حکام کے مطابق 200 سے زائد طالبان جنگجو ہلاک ہوئے، جبکہ 23 پاکستانی فوجی بھی شہید ہوئے۔ فائر بندی کے بعد سے صورتحال پُرسکون ہے، تاہم آئندہ حملوں کی روک تھام کے لیے دونوں ممالک ابھی تک کسی نظام پر اتفاق نہیں کر سکے۔</p>
<p>علاوہ ازیں طاہر اندرابی نے تصدیق کی کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان باضابطہ حوالگیِ مجرمین کا معاہدہ موجود نہیں ہے۔ یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب سابق وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر اور ریٹائرڈ میجر عادل راجہ کی واپسی کے حوالے سے کوششیں جاری ہیں، جو مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں۔</p>
<p>ترجمان نے مزید کہا کہ حوالگی کی درخواستیں اب بھی انفرادی بنیاد پر نمٹائی جا سکتی ہیں۔ رواں ماہ کے آغاز میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کو کیس فائلز فراہم کرتے ہوئے تعاون میں تیزی لانے کی درخواست کی تھی۔</p>
<p>شہزاد اکبر جو سابق وزیراعظم عمران خان کے احتساب سے متعلق مشیر تھے 2022 سے لندن میں مقیم ہیں، جبکہ عادل راجہ جن پر ریاست مخالف سرگرمیوں کا الزام ہے اور جو 2023 میں پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت سزا یافتہ قرار دیے جا چکے ہیں بھی برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280401</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Dec 2025 12:37:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/12123514d4065bc.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/12123514d4065bc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
